آرٹیکل 62 اور پاکستان میں صالح قیادت کی تلاش


حسب معمول ایک بار پھر ملک میں یہ بحث چل رہی ہے کہ ملک کے اعلیٰ ترین عہدوں پر فائز ہونے کے لئے کون اہل قرار پائے گا اور کسے نا اہل قرار دیا جائے گا۔ کسے صادق و امین قرار دیا جائے گا؟ اور کسے اس کسوٹی پر پرکھ کر رد کر دیا جائے گا؟ سادہ الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک بار پھر اس بحث کی آڑ میں عوام سے یہ حق چھین لیا جائے گا کہ وہ فیصلہ کریں کہ ملک کا انتظام انصرام کس کے ہاتھ میں ہو؟ اس بحث میں غوطہ خوری سے قبل مناسب ہو گا اگر آئین کی اس شق کا جائزہ لیا جائے جس کی آڑ میں منتخب نمائندوں کو اس چھاننی سے گزارا جاتا ہے۔ آئین کے آرٹیکل 62 میں وہ علامات درج ہیں جن کو دیکھ کر کسی منتخب نمائندے کو نا اہل قرار دیا جا سکتا ہے خواہ وہ ممبر پارلیمنٹ ہو یا ملک کا وزیر اعظم۔ ان میں سے ایک شق کے الفاظ ملاحظہ ہوں

” وہ اچھے کردار کا حامل نہ ہو اور عام طور پر احکام اسلام سے انحراف میں مشہور ہو“

سب سے پہلے تو یہ بات قابل غور ہے کہ کہ آئین میں ”اچھے کردار“ کی تعریف نہیں کی گئی۔ اچھا کردار کسے کہتے ہیں؟ ہمارے سکولوں میں کئی اساتذہ بعض بچوں کو ”اچھا بچہ“ قرار دے دیتے ہیں۔ اس سے بالعموم وہ بھوندو بچہ مراد ہوتا ہے جو کہ کبھی کوئی سوال نہیں کرتا۔ بلکہ جو کچھ ماسٹر جی نے کہہ دیا اس بیچارے نے ”جی ماسٹر جی“ کہہ کر اس پر عمل شروع کر دیا۔ اس کا ذہن اپنی سوچ اور تحقیق جیسی فالتو چیزوں سے عاری ہوتا ہے۔

دوسرا حصہ پہلے سے بھی زیادہ دلچسپ ہے کہ وہ احکام اسلام سے انحراف میں مشہور نہ ہو۔ مختلف احباب اپنے اپنے مسلک اور مذاق کے مطابق ”احکام“ کی تعریف کریں گے۔ بعض احباب یہ اصرار کریں گے کہ داڑھی رکھنا ایک ضروری اسلامی حکم ہے۔ کل کو کوئی شخص کسی صدر یا وزیر اعظم یا کسی ممبر پارلیمنٹ کے خلاف مقدمہ کر دے کہ اس نے تو داڑھی نہیں رکھی ہوئی۔ چنانچہ اسے نا اہل قرار دیا جائے تو کیا جج اس سیاستدان کو یہ فہمائش کرے گا کہ میاں! شیو کرنا بند کردو ورنہ تمہیں نا اہل قرار دینا پڑے گا۔

اور ان الفاظ پر غور فرمائیں کہ ”مشہور نہ ہو“ یعنی اگر ان احکام سے انحراف کرتے ہو تو کرتے رہو مگر کم از کم اس کا راز فاش نہ ہونے دو۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ صرف صدر اور وزیر اعظم کے لئے ضروری ہے کہ وہ مسلمان ہو۔ وزیر اور ممبر پارلیمنٹ تو کوئی ہندو اور مسیحی بھی ہو سکتا ہے۔ کیا ان ہندو یا مسیحی احباب کو اس بنیاد پر نا اہل قرار دے دیا جائے گا کہ اسلامی احکام سے ان کا انحراف زبان زد عام ہے۔

اس آرٹیکل کے الفاظ ان نصائح سے کافی ملتے ہیں جو اچھے وقتوں میں رخصتی کے وقت دلہنوں کو کی جاتی تھیں کہ اب تم سسرال جا رہی ہو تو ان باتوں کا دھیان رکھنا۔ خاندان کی ناک نہ کٹوا دینا۔ لیکن مناسب ہوتا اگر اس شق کا عنوان ”بہشتی زیور“ رکھ دیا جاتا۔ بہر حال اس کے بعد اس شق میں لکھا ہے :

”وہ اسلامی تعلیمات کا خاطر خواہ علم نہ رکھتا ہو اور اسلام کے مقرر کردہ فرائض کا پابند نیز کبیرہ گناہوں کا مرتکب نہ ہو۔ وہ سمجھدار پارسا نہ ہو اور فاسق اور ایماندار اور امین نہ ہو۔“

اگر کوئی سیاستدان ان تمام عمدہ صفات سے مالا مال ہے تو بہت اچھی بات ہے لیکن وہ کون سا ٹسٹ ہے جس کو کرا کے یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ یہ صاحب پارسا ہیں کہ نہیں ہیں۔ قانون کی اغراض کے لئے فاسق کی تعریف کیا کی جائے گی۔ اور اس شق میں یہ شرط شامل ہے کہ ممبر پارلیمنٹ کے لئے ضروری ہے کہ وہ اسلامی تعلیمات کا خاطر خواہ علم رکھتا ہو۔ اس کا سہارا لے کر 2013 میں بعض ریٹرننگ افسروں نے کاغذات نامزدگی جمع کراتے ہوئے امیدواروں سے نماز میں رکعات کی تعداد پوچھنے اور دعائے قنوت سننے کا سلسلہ شروع کر دیا تھا۔ لاہور میں ایک ریٹرننگ افسر نے پاکستان آزاد ہونے کی تاریخ اور قومی شاعر کا نام پوچھ کر نظریہ پاکستان سے وابستگی ماپنے کی کوشش کی۔ اور اس زبانی امتحان کی ویڈیو ریکارڈنگ بنا کر اس زبانی امتحان کو مشتہر بھی کیا جا رہا تھا۔ کچھ ریٹرننگ افسران کو انتخابی امیدواروں کی شادیوں کی تعداد اور روزانہ کیے جانے والے خرچہ کی فکر پڑ گئی۔ کچھ ریٹرننگ افسران نے عقائد کی تفتیش شروع کر دی۔

اللہ بھلا کرے جسٹس منصور علی شاہ صاحب جو کہ اب پاکستان کی سپریم کورٹ کے جج ہیں، اس وقت لاہور کی ہائی کورٹ کے جج تھے۔ ان کی عدالت میں ایک صاحب نے یہ مقدمہ دائر کر دیا کہ امیدواروں کے کاغذات نامزدگی منظور کرتے وقت آئین کی شق 62 اور 63 پر سختی سے عمل کرایا جائے تا کہ صالح قیادت سامنے آئے۔ عدالت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل صاحب سے ان خبروں کے بارے کے بارے میں استفسار کیا کہ مختلف ریٹرننگ افسران کاغذات نامزدگی جمع کرانے والوں سے اس قسم کے اوٹ پٹانگ سوالات کر رہے ہیں۔ اور عدالت کے ایک معاون نے وہ اخباری تراشے بھی پیش کیے جن میں اس قسم کے سوالات کی خبریں شائع ہوئی تھیں۔

اس پر جسٹس منصور علی شاہ صاحب نے یہ سوال اٹھایا کہ یہ فیصلہ کس طرح کیا جائے گا کہ کس کا کردار اچھا ہے؟ کس کے عقائد درست ہیں اور کس کے عقائد غلط ہیں؟ اور یہ فیصلہ کس طرح کیا جائے گا کہ کون نظریہ پاکستان کے خلاف تبصرے کر رہا ہے۔ [ نظریہ پاکستان ستر سال سے زائد عمر کا ہو گیا ہے اور ابھی یہ تعریف بھی طے نہیں ہوئی کہ نظریہ پاکستان کسے کہتے ہیں؟ ] اور عدالت یہ استفسار بھی کیا کہ کیا الیکشن کمیشن نے اس بارے میں کوئی ضابطہ جاری کیا ہے؟

اس وقت انہوں نے ایک عدالتی حکم کے ذریعہ یہ سلسلہ رکوایا اور یہ ہدایت دی کہ صرف جمع کرائے جانے والے کاغذات کے بارے میں سوال و جواب کیے جائیں اور وہ بھی اس وقت جب ان کے بارے میں سوال کرنے کی کوئی معقول وجہ موجود ہو۔ اور یہ کہ غیر متعلقہ سوالات کر کے انتخابی امیدواروں کی صالحیت اور نظریہ پاکستان سے وابستگی کو ماپنے کی کوشش نہ کی جائے۔ قصہ مختصر یہ کہ آئین میں اس قسم کی شقوں کو شامل کر نے کے بعد پاکستان کو نام نہاد صالح قیادت تو میسر نہیں آ سکی لیکن ان کا سہارا لے کر غیر منتخب افراد کو یہ موقع ضرور میسر کر دیا گیا ہے کہ وہ انتخابی عمل پر اثر انداز ہو سکیں۔ صالحیت کو ماپنے کی کوششیں پاکستان بننے کے بعد سے اب تک کی جا رہی ہیں۔ اس تاریخ کو پر آئندہ کسی کالم میں تبصرہ کیا جائے گا۔ اب اس بات کی ضرورت ہے کہ انتخابی عمل پر یہ غیر ضروری بلکہ مضر اثر ختم کیا جائے۔ یہ فیصلہ پاکستان کے عوام کو کرنے دیں کہ ان کے ملک کا انتظام کس نے چلانا ہے۔

Facebook Comments HS