رہائشی علاقوں کی بربادی


کراچی شہر تیزی سے بربادی کی طرف بڑھ رہا ہے بلکہ بربادی کے بالکل قریب پہنچ چکا ہے حال یہ ہو چکا ہے کہ شہر کے کسی ایک مسئلے پہ بات کرو تو لگتا ہے کہ دوسرے مسائل جن پہ بات نہیں کی جا رہی وہ زیادہ اہم اور قابل توجہ ہیں۔ کراچی کے بے ہنگم ٹریفک، گندگی غلاظت اور بارشوں کے بعد پھیلنے والی تباہی کے بارے میں میں پہلے لکھ چکی ہوں۔ آج مگر ایک اور اہم مسئلے کی طرف توجہ دلانا چاہتی ہوں اور وہ ہے مختلف علاقوں پہ آبادی کا بڑھتا ہوا بوجھ اور اس کے نتیجے میں پھیلتی بربادی۔

ایک زمانے میں رہائشی اور کمرشل ایریاز دور دور ہوا کرتے تھے آبادی والے علاقوں میں زیادہ تر مین روڈز پر دکانیں ہوتی تھی اور مین روڈز کے گھروں میں رہنے سے لوگ اسی لئے کتراتے تھے کیونکہ وہاں گاڑیوں کا شور ہوتا تھا دکانوں پہ ہوتی کھٹ پٹ کی آوازیں آتی تھی اب مگر ہر طرف دکانیں ہی دکانیں ہیں مین روڈز سے اندر جاتی ہوئی چوڑی گلیوں میں (جہاں پہلے صرف گھر ہوا کرتے تھے ) اب کارنرز کے گھروں میں دکانیں بننے لگی ہیں ہر کارنر کا گھر جو ٹوٹتا ہے اسے دوبارہ بناتے وقت اس میں چھ سے آٹھ دکانیں نکال دی جاتی ہیں اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لوگوں کی آن جان اور شور و غل بڑھ گیا نیز یہ کہ ان دکانوں کو کرائے پہ دیتے ہوئے یہ نہیں دیکھا جاتا کہ جس مقصد کے لئے دکان دی جا رہی ہے اس سے رہائشی پریشان تو نہیں ہوں گے؟

لوہے کا کام کرنے والوں تک کو دکانیں دی گئی ہیں لوہے، لکڑی، ماربل یا اس طرح کی دیگر دکانوں پہ شور بہت زیادہ ہوتا ہے یعنی آپ تصور کریں کہ لوہار کی دکان بھی رہائشی علاقے تک پہنچ چکی ہے رہائشیوں کو لگتا ہے کہ ہم گھر میں نہیں بازار میں بیٹھے ہیں جہاں ہر طرف لوگوں کا اور مشینوں کا شور شرابا ہے۔ ایسی دکانیں رہائشیوں کے لئے اذیت کا باعث بنتی ہیں گھر کے اندر اپنے بیڈ روم تک بھی لوگوں کو سکون نہیں ہے کیونکہ وہاں بھی کھٹ پٹ کی آوازیں آ رہی ہوتی ہیں۔ جو علاقے پہلے پر سکون ہوا کرتے تھے وہ اب ان دکانوں کی وجہ سے بے سکون ہو گئے ہیں کیونکہ ہر وقت شور ہے۔

ایک طرف یہ صورتحال ہے اور دوسری طرف پورشنز کی بغیر کسی پلاننگ کے تعمیرات نے شہر کی بربادی میں بچ رہنے والی کسر کو پورا کر دیا ہے جو گھر 120 گز کے ہوتے تھے اور جہاں زیادہ سے زیادہ گراؤنڈ پلس ون گھر میں دو فیملیز رہا کرتی تھی وہاں اب 120 کو آدھا کر کے 60,60 گز کے دو پورشنز بنا دیے جاتے ہیں اور یہ پورشنز 4,5 منزلہ ہوتے ہیں لہٰذا اب وہاں 8 سے 11 فیملیز رہتی ہیں۔ بلڈرز کے مزے آئے ہوئے ہیں شہر مگر برباد ہو رہا ہے ان پورشنز کی وجہ سے علاقے میں نئے نئے مسائل جنم لیتے ہیں پانی کی قلت یہاں معمول کا مسئلہ بنتی جا رہی ہے سیوریج کا نظام برباد ہو گیا ہے اور ہر جگہ گٹر کا پانی پڑا ہوا ہے اس گندگی اور غلاظت میں جو جراثیم پیدا ہوتے ہیں ان سے پھیلنے والی بیماریوں سے لوگوں کو الگ پریشانی اٹھانی پڑتی ہے

رہائشی علاقوں کی بربادی کی جو داستان میں نے بیان کی ہے وہ دہائیوں یا صدیوں پر محیط نہیں ابھی کچھ سال پہلے تک صورتحال قدرے بہتر تھی مگر ہماری ہی نظروں کے سامنے دیکھتے ہی دیکھتے آبادی بڑھتی چلی گئی بلڈرز مافیا نے ایسے کام کر کے آبادی کو بوجھ مزید بڑھا دیا کسی نے اس مافیا کو روکنے کی کوشش نہیں کی کسی نے ان کا احتساب کرنے کی کوشش نہیں کی کیونکہ اوپر سے لے کر نیچے تک سب کو حصہ بقدر جثہ تو مل ہی رہا ہے ناں تو پھر ڈر کس بات ہے علاقہ برباد ہوتا ہے تو ہو لوگ پریشان ہوتے ہوں تو ہوں متعلقہ لوگوں کو اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ میں نے اپنی آواز اٹھائی ہے چاہے میری آواز نقار خانے میں طوطی کی آواز کے برابر ہی ہو۔ بطور شہری یہ میرا فرض ہے کہ اگر میں شہر کو برباد ہوتا ہوا دیکھوں تو کم از کم اس کے لئے آواز تو بلند کروں۔