قومی سلامتی کے نام پر میڈیا پر پابندی افسوسناک ہے


پاکستان تحریک انصاف کے چئیر مین عمران خان نے الزام لگایا ہے کہ ان کی پارٹی اور فوج کو آپس میں لڑانے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ ان کا یہ بیان اپنے چیف آف سٹاف شہباز گل کی گرفتاری کے بعد سامنے آیا ہے۔ شہباز گل کو گزشتہ روز اے آر وائی کے ایک ٹاک شو میں اسی قسم کا بیان دینے پر سنسنی خیز انداز میں گرفتار کیا گیا تھا۔

یوں تو پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل اسد عمر نے بھی ایک وضاحتی بیان میں اعتراف کیا ہے کہ شہباز گل نے ’جو بات کی ہو سکتا ہے، وہ درست نہ ہو لیکن اس کے خلاف رد عمل کا قانونی راستہ موجود تھا‘ ۔ ان کا یہ موقف شہباز گل کی گرفتاری کے وقت مبینہ تشدد کے استعمال اور ان کی گاڑی کے شیشے توڑنے کے واقعہ کے حوالے سے سامنے آیا تھا۔ تاہم تحریک انصاف نے پوری سیاسی قوت استعمال کر کے جس پرویز الہی کو حال ہی میں پنجاب کا وزیر اعلی بنوایا ہے انہوں نے سختی سے شہباز گل کے بیان کو مسترد کیا ہے۔

میڈیا سے بات کرتے ہوئے پرویز الہیٰ کا کہنا تھا کہ ’پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کو شہباز گل کے بیان سے الگ ہو جانا چاہیے۔ میں نے شہباز گل کو اس بیان پر ڈانٹا کہ یہ بڑی بری بات ہے۔ میں نے شہباز گل کے بیان کے خلاف بیان دیا ہے۔ میں نے کہا ہے کہ آپ کون ہوتے ہیں ہماری پالیسی بتانے والے۔ شہباز گل کے بیان سے فائدہ نہیں نقصان ہوا ہے۔ یہ ہمارے ادارے ہیں، انہوں نے افواج پاکستان کے خلاف بیان دیا، کوئی عقل ہے شہباز گل میں‘ ؟

پرویز الہی کو گمان تھا کہ عمران خان کی فوج کے بارے میں پالیسی بالکل مختلف ہے۔ ان کے بقول عمران خان کہتے ہیں جو فوج کے خلاف ہو، وہ پاکستانی نہیں ہو سکتا۔ لیکن شہباز گل نے اس سے متضاد بیان دے کر پارٹی اور ہمیں نقصان پہنچایا ہے۔ تاہم اس موسمی بیان بازی کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے آج میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے تقریباً وہی باتیں دہرائی ہیں جو شہباز گل نے اتوار کو ٹی وی ٹاک شو میں گفتگو کرتے ہوئے کی تھیں۔

شہباز گل کا کہنا تھا کہ ’حکومت فوج کے نچلے اور درمیانے درجے کے افسروں کو تحریک انصاف کے خلاف اکسانے کی کوشش کر رہی ہے۔ کیوں کہ اس طبقے کے اہل خاندان تحریک انصاف کے حامی ہیں جس سے حکومت شدید غصے میں ہے‘ ۔ ان کا الزام تھا کہ حکمران مسلم لیگ (ن) کا اسٹریٹیجک میڈیا سیل عمران خان اور فوج کے درمیان خلیج پیدا کرنے کے لئے جھوٹی خبریں پھیلا رہا ہے۔

عمران خان نے میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے اپنی پوزیشن کچھ یوں واضح کی ہے کہ ’منصوبہ بندی کی گئی ہے کہ ملک کی سب سے بڑی جماعت کو فوج سے لڑا دیا جائے۔ ہمیں ایسے پیش کیا جائے گا کہ ہم ایک دوسرے کے مخالف ہیں۔ جس سازش کے تحت ہماری حکومت ختم کی گئی، وہ اتنی خطرناک ہے کہ ملک کی سب سے بڑی جماعت کو فوج کے سامنے کھڑا کر دیں اور ان کے اندر اختلافات پیدا کر دیں۔ اس سے زیادہ ملک کو کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ اب یہ لوگ کوشش کرر ہے ہیں کہ کسی طرح ہماری اور فوج کی لڑائی شروع ہو جائے۔ دوسری چیز ان لوگوں نے پورا پلان بنایا ہوا ہے کہ ہماری جماعت کو توڑا جائے‘ ۔

شہباز گل کے انٹرویو اور عمران خان کے انکشافات میں مدعا اور مفہوم کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں ہے۔ پرویز الہیٰ شہباز گل کے جس بیان کو ’برا اور عقل سے ماورا‘ قرار دے رہے ہیں، عمران خان سمیت تحریک انصاف کی پوری قیادت اس کی تائید کر رہی ہے۔ کچھ یہ کہہ کر بات آگے بڑھا رہے ہیں کہ شہباز گل نے کچھ غلط نہیں کہا جیسا کہ اسد عمر نے دعویٰ کیا کہ ’شہبازگل کے معاملے قانون کی غلط تشریح کی گئی، ان کی گرفتاری غیر قانونی ہے‘ ۔ اور عمران خان نے فوج اور پی ٹی آئی کو لڑانے کا الزام لگاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ’یہ حکمت عملی اسی امریکی سازش کے تحت تیار کی گئی ہے جو ان کی حکومت ختم کرنے کے لئے تیار کی گئی تھی‘ ۔ اس صورت حال میں ایک طرف تحریک انصاف کے قائدین کے لگاتار بیانات ہیں تو دوسری طرف حکومت شہباز گل اور اے آر وائی کو نشان عبرت بنا کر فوج پر واضح کرنا چاہتی ہے کہ ’وہ پوری طرح خدمت انجام دینے کے لئے تیار ہے‘ ۔

ایسے میں عمران خان اور تحریک انصاف خواہ کتنا ہی زور بیان صرف کر لیں، اور شہباز حکومت ایک بیان اور ٹاک شو کے سوال پر فوج کے وقار اور ملکی دفاع کا چاہے جیسا بھی مقدمہ بنانے کی کوشش کر لے، عام فہم کا آدمی سمجھ سکتا ہے کہ یہ کسی ایک پارٹی کو فوج سے لڑانے کا معاملہ نہیں ہے بلکہ ملک کے دونوں سیاسی گروہ ایک دوسرے کو فوج کی نگاہوں سے گرا نا چاہتے ہیں تاکہ ان کے لئے گنجائش پیدا ہو سکے۔ تحریک انصاف اور حکومت دونوں ہی یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ وہی قومی سلامتی کے معاملہ میں عسکری اداروں کے ساتھ وفاداری نبھانے کی زیادہ صلاحیت رکھتے ہیں۔ فوج کو رجھانے کے اس طریقہ کے حوالے سے دیکھا جائے تو اصل لڑائی کسی ایک سیاسی پارٹی کو فوج سے لڑانے کی نہیں ہے بلکہ ملک کے دو اہم سیاسی گروہ ایک دوسرے کے خلاف اعلان جنگ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ دونوں کا دعویٰ ہے کہ دوسرا قومی مفاد کے خلاف سازش کر رہا ہے۔ ایسے میں دکھائی تو یہ دیتا ہے کہ حکومت یا تحریک انصاف کے اس تصادم میں صرف فوج ہی کا فائدہ ہے۔ ملک کی تمام سیاسی قوتیں سیاست میں فوج کی سیادت قبول کرنے کا بالواسطہ اعلان کر کے درحقیقت ملک میں جمہوریت کی بجائے شخصی اور گروہی اقتدار کی جنگ لڑنے میں مصروف ہیں۔

عمران خان نے آج میڈیا گفتگو میں تفصیل سے ان وقوعات کا ذکر کیا جب بظاہر مسلم لیگ (ن) یا پیپلز پارٹی نے فوج مخالف رویہ اختیار کیا تھا۔ تاہم وہ دوسروں کے کپڑے اتارتے ہوئے یہ دیکھنا بھول گئے کہ ان کا اپنا طرز عمل تو پہلے ہی انہیں پوری قوم بلکہ دنیا کے سامنے برہنہ کرچکا ہے۔ انہوں نے ہی فوج کو ’نیوٹرل‘ ہونے کا طعنہ دیا۔ جنرل قمر جاوید باجوہ کے خلاف نفرت انگیز مہم چلائی، ریٹائر فوجی افسروں کے ذریعے فوج میں تفرقہ ڈالنے کی کوشش کی۔ اور اب حال ہی میں شہید فوجی افسروں کی کردار کشی، ایمن الظواہری کو ہلاک کرنے والے ڈرون کے پاکستانی فضا سے گزرنے پر اصرار اور امریکی سفیر کے قبائلی علاقوں کے دورہ میں فوج کے کردار کو مسترد کر کے درحقیقت فوج کو دباؤ میں لانے، اس کی اعلیٰ قیادت کو بلیک میل کرنے اور کسی بھی طرح فوج کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی کہ اس کے پاس تحریک انصاف کو قبول کرنے اور عمران خان کو ایک بار پھر وزیر اعظم بنوانے کے علاوہ کوئی دوسرا ’آپشن‘ نہیں ہے۔

ان دھمکیوں کا جواب دینے کے لئے عسکری پالیسی سازوں نے اب شہباز گل کی گرفتاری اور اے آر وائی پر پابندی کے ذریعے تحریک انصاف اور عمران خان کو جواب دیا ہے۔ بدحواسی میں تحریک انصاف کسی بھی طرح اس گڑھے میں اتحادی حکومت اور شہباز شریف کو دھکیلنے کی کوشش کر رہی ہے۔

عمران خان کا الزام ہے کہ حکومت اور مسلم لیگ (ن) سازش کے تحت فوج اور تحریک انصاف کو لڑانا چاہتی ہے۔ اس حوالے سے دو پہلوؤں پر غور کرنا دلچسپ ہو گا۔ ایک تو یہ کہ لڑائی برابر کی قوتوں میں ہوتی ہے۔ پاکستانی سیاسی پارٹیوں نے اقتدار کے لئے فوج پر انحصار کے ذریعے خود ہی اپنے آپ کو بے بس و لاچار کر لیا ہے۔ شہباز گل کی گرفتاری پر سامنے آنے والے ردعمل میں یہ لاچاری دیکھی اور محسوس کی جا سکتی ہے۔

اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ ہیلی کاپٹر حادثہ میں شہید ہونے والے افسروں کے خلاف مہم جوئی کا الزام تحریک انصاف پر عائد ہوا ہے لیکن پارٹی کی طرف سے اس سے محض بالواسطہ لاتعلقی کا اظہار ہی دیکھنے میں آیا۔ آخر کیا وجہ تھی کہ عمران خان نے بھی حکومت کی طرح بڑھ چڑھ کر اس افسوسناک سوشل میڈیا مہم کی مذمت نہیں کی اور قصور واروں کو کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ نہیں کیا۔ اس کے علاوہ انہیں اور ان کے وفادار صدر عارف علوی کو بتانا چاہیے کیا ان دونوں کو حکومت نے کسی ’سازش‘ کے تحت ہی شہدا کی نماز جنازہ میں شرکت سے روکا تھا؟ حالانکہ عارف علوی تو اپنے عہدے کے پروٹوکول کے مطابق مسلح افواج کے سپریم کمانڈر ہیں اور ان جنازوں میں شریک ہونا، ان کے منصب کا تقاضا تھا۔ لیکن ایوان صدر اس کوتاہی پر کوئی وضاحت دینے میں کامیاب نہیں ہوا۔

ایک دوسرے کو سازشی قرار دینے کے اس تماشے میں البتہ حکومت وقت کو یہ جواب دینا چاہیے کہ قومی سلامتی کے نام پر میڈیا کے خلاف اقدامات سے ملک میں کون سی جمہوری روایت کو فروغ دیا جائے گا؟ سیاست اور فوج کے تناظر میں تو اتحادی پارٹیوں کو یہ جواب بھی دینا چاہیے کہ آخر وہ کیوں عسکری اداروں کی محبت میں اس قدر آگے بڑھ رہی ہیں کہ ایک بیان پر شہباز گل کی گرفتاری کے علاوہ ایک ٹیلی ویژن چینل کی نشریات ہی معطل کردی گئیں۔ بلکہ اسی پر اکتفا نہیں حکومت نے آج اے آر وائی کے چیف ایگزیکٹو سلمان اقبال اور دیگر کے خلاف مقدمہ قائم کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔ اے آر وائی نیوز کے سربراہ عماد یوسف کو کراچی میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔

یہ انتہائی اقدامات ملک میں کیسے کوئی ایسی سیاسی فضا قائم کر سکتے ہیں جس میں متحارب گروہوں میں مواصلت کا امکان پیدا ہو سکے۔ اے آر وائی شہباز گل کے بیان پر معافی مانگ چکا ہے لیکن اس سے قطع نظر کیا میڈیا کو محض ایک فریق کا نقطہ نظر خود مختاری سے پیش کرنے پر یوں انتقام کا نشانہ بنانے کا کوئی جواز فراہم کیا جاسکتا ہے؟

شہباز گل کی گرفتاری کے وقت تشدد اور توڑ پھوڑ کا کوئی عذر قابل قبول نہیں۔ اسی طرح اے آر وائی نیوز کے ایڈیٹر عماد یوسف کی گرفتاری کے لئے کراچی پولیس نے رات دو بجے گھر کی دیواریں پھلانگ کر ریاستی طاقت کا مظاہرہ کرنا ضروری سمجھا۔ پیمرا نے ایک ’قابل اعتراض‘ تبصرے پر اے آر وائی نیوز کی نشریات معطل کر کے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ یہ ادارہ کسی بھی طرح ملک میں میڈیا کی خود مختاری اور آزادی کا ضامن نہیں ہو سکتا بلکہ حکومت وقت کے ہاتھوں میں میڈیا کو دبانے کا ہتھیار بنا ہوا ہے۔ یہ بات اب اظہر من الشمس ہے کہ اتحادی حکومت کس کے ہاتھ میں کھلونا بنی ہوئی ہے۔ شہباز شریف کو پارلیمنٹ میں آ کر بتانا چاہیے کہ وہ کس مقصد کے لئے ملک میں شہری و میڈیا کی آزادی کو نشانے پر لئے ہوئے ہیں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 2278 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments