بند دروازوں کو کھولنا ہو گا
سیاست اور جمہوریت کا راستہ بند دروازوں کو کھول کر نئے محفوظ راستوں کی تلاش ہوتا ہے۔ کیونکہ سیاست جامد نہیں ہوتی اور وہ مشکل عمل کو آسان بناتی ہے تاکہ سیاست اور ترقی کا عمل آگے بڑھ سکے۔ لیکن اس کے لیے سیاسی فریقین کو زیادہ بردباری، تحمل، مستقل مزاجی، تدبر اور فہم فراست کا مظاہرہ کرنا ہوتا ہے۔ سیاست میں کوئی چیز بھی تصوراتی نہیں ہوتی بلکہ جو سیاسی زمینی حقائق ہوتے ہیں اس کی موجودگی میں ہی اپنے لیے نئے سیاسی امکانات کو پیدا کرنا ہوتا ہے۔
اس کا ایک اور اہم نقطہ ایک دوسرے کے مینڈیٹ یا سیاسی وجود کو قبول کرنا اور سیاسی سطح پر رواداری کے پہلو کو مضبوط بنانا ہوتا ہے۔ کیونکہ کوئی بھی نئے سیاسی امکانات بداعتمادی یا الزام تراشیوں کی سیاست میں پیدا نہیں ہوتے۔ اس کے لیے ایک ایسا سازگار سیاسی ماحول درکار ہوتا ہے جو فریقین میں مکالمہ کا ماحول بھی پیدا کرتا ہے اور ایک دوسرے سے اختلاف کے باوجود بات چیت کا دروازہ کھلا رکھتا ہے۔
پاکستانی سیاست کا المیہ یہ ہے کہ یہاں سیاسی دروازوں کو کھولنے کی بجائے اس کو بند رکھنے کو ہی اپنے سیاسی مفاد کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ قومی سیاست میں الجھاؤ بھی ہے اور ٹکراؤ کا ماحول بھی۔ ایسے حالات میں سیاسی فریقین کا ایک دوسرے کے قریب آنا اور کچھ باہمی طور پر متفق ہو کر آگے بڑھنے کا عمل کمزور نظر آتا ہے۔ سیاسی فریقین مکالمہ، مفاہمت یا بیٹھنے کی بجائے ایک دوسرے پر سنگین الزامات، ملک دشمنی اور غداری جیسے سرٹیفیکیٹ جاری کر کے سیاسی ماحول کو اور زیادہ آلودہ کرتے ہیں۔
سیاست دانوں نے ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنے کی بجائے وہی غداری کے الزامات کے کھیل کو چھوڑا نہیں اور سیاسی اختلافات کو سیاسی دشمنی سمیت غداری کے ساتھ جوڑ کر سیاسی مخالفین کو عتاب کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ایسے میں سیاست دان یا سیاسی فریقین مل جل کر کیسے بیٹھیں گے اور کون ان کو بٹھائے گا خود ایک بڑا اہم سوالیہ نشان ہے۔
اس وقت سیاست کی سمجھو بوجھ رکھنے والے اہل دانش یا سیاسی مفکرین اس نقطہ پر متفق ہیں کہ موجودہ سیاست کی جو سنگینی ہے اس کا واحد علاج اہل سیاست یا دیگر طاقت کے مراکز کے درمیان بات چیت یا مکالمہ کا عمل ہے۔ ان کے بقول جس نہج پر ہم داخلی و خارجی محاذ پر کھڑے ہیں یہاں سیاسی فریقین کو مل بیٹھ کر ہی کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر مفاہمت کا راستہ تلاش کرنا ہو گا۔ کیونکہ پاکستان عملی طور پر اس وقت کسی بھی سطح پر کسی مہم جوئی، محاذ آرائی یا ٹکراؤ کی سیاست کا متحمل نہیں ہو سکتا ۔
ہمیں اگر سیاسی اور معاشی طور پر آگے بڑھنا ہے تو اس کا واحد علاج ہی قومی سطح پر مفاہمت کی سیاست کا آغاز ہے۔ یہ ہی مفاہمت کی سیاست ہی ہمیں آگے بڑھنے کا راستہ بھی دے گی اور سیاسی فریقین میں موجود عملاً سیاسی کشیدگی یا تلخیوں کو بھی کم کرنے کا سبب بنے گی۔ سیاسی فریقین کو یہ بات سمجھنی ہوگی کہ اس وقت ملک میں سنجیدہ افراد کی پریشانی کا بھی بڑا سبب سیاسی اختلافات کا سیاسی دشمنی میں تبدیل ہونا ہے۔
اس وقت قومی سطح پر مفاہمت کے لیے سیاسی فریقین میں ایک بڑے فریم ورک کو بنیاد بنا کر آگے بڑھنا ہے جس میں ان کے پاس ایک ایسی ٹھوس حکمت عملی ہو جو اول اتفاق رائے پر مبنی ہو اور دوئم اس پر ایک عملدرآمد کے لیے ایک مضبوط سیاسی کمٹمنٹ بھی موجود ہو۔ کیونکہ سیاسی سطح پر اختلافات کی موجودگی ایک فطری امر ہے مگر ان اختلافات کے باوجود ہمیں قومی ایجنڈے کے اہم نکات پر کوئی سمجھوتہ نہ کرنے کی پالیسی بھی اختیار کرنا ہوگی۔
بالخصوص معاشی محاذ پر یہ اتفاق رائے درکار ہے کہ سیاسی اختلافات سے ہٹ کر یا ایک دوسرے پر سیاسی اسکورنگ کی بجائے ہمیں معیشت جیسے محاذ پر محاذ آرائی یا ایک دوسرے کے خلاف معاشی پالیسیوں پر سیاست نہیں کرنی۔ کیونکہ جو معاشی بدحالی ہے اس کی دیگر وجوہات کے علاوہ ایک بڑی وجہ ملک میں موجود سیاسی کشیدگی کا ماحول ہے جو تواتر سے بڑھ رہا ہے اور اس کی بھاری قیمت ملک میں موجود ریاستی نظام یا لوگوں کو ادا کرنا پڑ رہی ہے۔
اس وقت قومی سیاسی منظر نامہ میں ایک بڑی سیاسی جنگ حکمران طبقات اور حزب اختلاف یعنی پی ٹی آئی کے درمیان جاری ہے۔ عملی سطح پر اس جنگ میں عمران خان ایک طرف تنہا کھڑے ہیں اور دوسری طرف پی ڈی ایم سمیت پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کھڑی ہیں۔ اس جنگ کو ایک بڑی سیاسی جنگ میں تبدیل کر دیا گیا ہے اور کوئی بھی کسی کے سیاسی وجود کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ دونوں اطراف سے جو سیاسی کشیدگی، مخالفانہ بیان بازیاں، تقریریں یا سخت گیر اور غیر جمہوری رویوں، طرز عمل یا سخت جملوں کے جو تبادلے ہو رہے ہیں اور ایک دوسرے کو ملک دشمن یا غداری کے جو القاب دیے جا رہے ہیں ایسے میں سیاسی بیٹھک کے امکانات بہت کم نظر آتے ہیں۔
بنیادی وجہ ایک دوسرے پر سخت بداعتمادی کا ماحول ہے جو ان کو قریب لانے کی بجائے مزید دور لے جاتا ہے۔ عمران خان فوری طور پر نئے انتخابات کے حامی ہیں جبکہ حکمران اتحاد اگلے برس اگست میں انتخابات کا حامی ہے۔ اسی طرح انتخابات کی شفافیت، الیکشن کمیشن، انتخابی اصلاحات جیسے معاملات پر بھی ڈیڈ لاک موجود ہے۔ ڈیڈ لاک اسی صورت میں ٹوٹ سکتا ہے جب سیاسی فریقین مل بیٹھیں گے مگر یہ بیٹھیں گے کیسے یہ ہی معمہ حل نہیں ہو رہا جو مزید تلخیوں کو طاقت فراہم کرنے کا سبب بن رہا ہے۔
اس وقت تو سیاست میں موجود بند دروازوں کو کھولنے کی بجائے اور زیادہ شدت سے ان دروازوں کو بند کرنے کا کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ ملک میں موجود سیاسی جماعت پی ٹی آئی پر پابندی، اس کے سربراہ عمران خان کو نا اہل کرنے یا ملک دشمن ثابت کرنے کا جو کھیل کھیلا جا رہا ہے یا اس میں جو بھی فریق رنگ بھرنے کی کوشش کر رہا ہے وہ اور زیادہ سیاسی ماحول میں تلخیوں یا ٹکراؤ کی سیاست کو نمایاں کرے گا۔ ہم سیاسی فیصلے سیاسی میدان میں کرنے کی بجائے قانون کو بنیاد بنا کر سیاسی مخالفین سے نمٹنے کی خواہش رکھتے ہیں۔
یہ تجربہ ماضی میں بھی ناکام ہوا اور اب بھی ناکام ہی ہو گا اور یہ عمل مزید سیاسی ماحول کو خراب کرنے کا سبب بنے گا۔ سیاسی لڑائی کا المیہ یہ ہے کے اس نے خود کو محض سیاست تک ہی محدود نہیں رکھا بلکہ اب تو سیاست اور اداروں کے درمیان بھی ماحول میں کافی کشیدگی یا بداعتمادی کا ماحول ہے۔ کوئی فریق اداروں کی کھل کر حمایت اور کوئی اپنے تحفظات رکھتا ہے۔ ایسے میں سیاست اور اداروں کے درمیان بڑھتا ہوا تناؤ اور ٹکراؤ بھی قومی مفاد میں نہیں اور اس کو جتنی جلدی درست سمت دی جا سکتی ہے دی جانی چاہیے۔ کیونکہ اس طرح اداروں کے ساتھ لڑائی حالات کو بند گلی میں بھی لے جائے گی اور خود سیاست یا جمہوریت کو بھی کئی طرح کے خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
سب سے بڑا چیلنج تو یہ ہی ہے کہ سیاسی فریقین سیاسی ٹمپریچر میں کمی کریں اور اپنے لفظوں میں ایک دوسرے کے خلاف سیاسی مخالفت یا قومی اداروں کے بارے میں گفتگو میں نرمی پیدا کریں۔ سیاسی قیادتوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے اندر موجود سخت گیر یا سخت جملوں کی عملی سیاست کی حوصلہ شکنی کریں اور جو ایسا کرتا ہے اس کی نفی کی جائے۔ کیونکہ اگر ایسا نہیں ہو گا تو پھر اس سخت گیر رویوں یا لفظوں کے استعمال کو سیاست دانوں یا قیادت کی اشیر آباد سے جوڑ کر ہی دیکھا جائے گا۔
کیونکہ یہ مخالفانہ عمل اور ایک دوسرے کے وجود سے انکاری سمیت سخت جملوں کے تبادلے ہی مفاہمت یا مکالمہ کی سیاست کی نفی کرتے ہیں۔ اسی طرح اسٹیبلیشمنٹ کو بھی غور کرنا چاہیے کہ وہ کیسے اپنے عمل سے سیاست میں موجود کشیدگی کو کم کر کے سیاسی بیٹھک کا ماحول پیدا کرے۔ کیونکہ جو بڑا سیاسی فریم ورک ہمیں آگے بڑھنے کے لیے درکار ہے وہ فریقین میں اتفاق رائے کے بغیر ممکن نہیں ہو گا۔
اس لیے خدارا قومی قیادت پاکستان اور پاکستان کے حالات پر رحم کرے اور سیاست میں موجود بند دروازوں کو کھولنے میں پہل کرے۔ ان کو سیاسی انا پرستی یا ایک دوسرے کے وجود سے انکاری کی سیاست کی نفی کرنا ہوگی۔ سیاسی اختلافات کا مقصد ہرگز یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ہم کسی سے بھی ڈائیلاگ کے حق میں نہیں۔ خود تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کو بھی اپنی ہی پالیسی پر غور کرنا چاہیے کہ وہ اس تاثر کی کھل کر نفی کریں گہ وہ سیاسی جماعتوں کی قیادت سے بات چیت سے انکاری ہیں۔ کیونکہ اگر وہ اپنے سیاسی مخالفین سے بات نہیں کریں گے تو مسئلہ حل نہیں ہو سکے گا اور جو ڈیڈ لاک ہو گا اس کے ذمہ دار بھی وہ خود بھی ہوں گے ۔


