ہوائی جہاز کا فری ٹکٹ دگنا مہنگا پڑا


” ابو قرعہ اندازی میں میرا پاکستان واپسی ہوائی سفر کا ٹکٹ نکل آیا ہے“ ۔ چھوٹی بیٹی حفصہ کی شکاگو سے خوشی سے اچھلتی تصویر فون پہ خوش خبری سنا رہی تھی۔ پاکستانیوں کی کسی تقریب میں ایک دوست ملک کی معروف ائر لائن نے یہ ٹکٹ پیش کیا تھا اور بیٹی خوش قسمت رہی کہ قرعہ اندازی میں اس کا نام نکل آیا۔ قرعہ اندازی کی ویڈیو گھومی اور مبارک باد کے فون چلے۔ ان ہی دنوں میرے بڑے نواسے کی شادی طے ہوئی۔ اب یہ یوں تھا کہ دلہا کا گھرانا پرنس جارج برٹش کولمبیا کینیڈا میں رہائش پذیر، دلہن والے لندن انگلینڈ کے باسی اور دلہا چیک ریپبلک، پراگ میں میڈیکل کے آخری سال میں، سب قریبی عزیز مختلف ملکوں میں پھیلے اور کورونا کی مہربانی سے دو سال سے تمام خاندان گھروں میں بند۔

فیصلہ ہوا کہ شادی کی تقریبات استنبول، ترکی میں منائی جائیں کہ شادی، خاندانی ملاقاتیں اور سیر و سیاحت سب کا لطف لیا جائے۔ اس ائر لائنز کی استنبول تک براہ راست پرواز ہے۔ چنانچہ یہ پاکستان کا فری ٹکٹ بخوشی استنبول تک کا واپسی فری ٹکٹ بن گیا اور اسے صرف ائرپورٹ ٹیکس اور چارجز کی مد میں کوئی چار ساڑھے چار سو ڈالر دینے پڑے۔

ٹورنٹو، وینکؤور اور شکاگو سے اڑنے والی پروازیں ایک ہی وقت آگے پیچھے استنبول اتریں اور پہلے سے انتظام شدہ بس میں میرے پورے گھرانے کے سترہ افراد شادی کے گیت گاتے ہوٹل جا رہے تھے۔ حفصہ سے فری ٹکٹ کے مزے کا پوچھا۔ کچھ سوچ بتایا کہ ابو ٹکٹ تو کنفرم تھا مگر چیک ان کاؤنٹر پر لڑکی نے اتنا کہا تھا کہ آپ کا ٹکٹ خصوصی ہے لیکن جگہ ہے اور بورڈنگ پاس جاری ہو گیا مگر واپسی کا انہوں نے ابھی کنفرم نہیں کیا۔

بارہ روز بعد تمام گھرانا بفضل خدا بخیر و خوبی تمام تقریبات اور ممکن حد تک گھومنے پھرنے کے بعد واپسی کے لئے پھر ائر پورٹ جا رہا تھا اور حفصہ کچھ پریشان تھی کہ اس کی سیٹ ابھی تک ائر لائنز نے کنفرم نہ کی تھی بلکہ ائر پورٹ پہنچ کنفرم ہونے کی تسلی دی تھی۔ ہم ٹورنٹو کی پرواز کے چیک ان کے لئے لائن میں لگ گئے اور وہ شکاگو کے لئے دوسری جگہ۔ شکاگو کی پرواز ایک گھنٹہ قبل تھی اور سب فکرمند۔ فون آیا کہ حفصہ کا چیک ان نہیں ہو رہا کہ اس پرواز میں جگہ نہیں اور اگلے روز کے لئے کوشش ہو سکتی ہے۔

حفصہ کے خاوند کی پیش کش کہ اس کی سیٹ حفصہ کو دے دی جائے اور وہ اگلے روز چلا جائے گا، بھی رد کر دی گئی کہ ائر لائن قواعد اجازت نہیں دیتے اور یہ کہ حفصہ فری سواری ہے اور ائر لائن پہ بھاری ہے۔ کوئی ہمدرد خاتون تھیں منت درخواست پر ادھر ادھر اوپر فون گھما کوئی نصف گھنٹہ بعد خوش خبری آئی کہ بورڈنگ پاس جاری ہو چکا سامان بک ہو گیا تاہم ابھی سو فی صد یقینی نہیں گو امید بہت ہے مگر بورڈنگ کے وقت صحیح پتہ چلے گا، تاہم خاتون نے بہت حد تک تسلی دی ہے۔

ہم بورڈنگ لاؤنج میں بیٹھے تھے کہ پھر فون آیا کہ حفصہ کی بورڈنگ کینسل کر دی گئی ہے کہ یہ فری سواری ہے اور چانس والے کچھ مسافر اس سے بھی ترجیح پہ ہیں۔ اکیلی رات کہاں گزارے گی؟ سامان لوڈ ہو چکا اگلی فلائٹ کا بھی کنفرم نہیں کر رہے۔ اب فری ٹکٹ کی خوشی لٹکے چہروں میں بدل چکی تھی۔ ہم بورڈنگ لاؤنج میں پہنچ چکے تھے۔ دونوں پروازیں کچھ لیٹ تھیں اور حفصہ کا خاوند ائر لائنز کی انتظامیہ کے ایک سے دوسرے فون پہ جا رہا تھا۔

وہ باقی سب جہاز کے اندر جا چکے تھے اور یہ کنفرم ہو چکا تھا کہ حفصہ نہیں جا سکے گی البتہ انتظامیہ نے صبح کی فلائٹ پہ کنفرم کرنے اور رات کی رہائش کے لئے ہوٹل کی جگہ کو وعدہ کر لیا تھا۔ اب ہوائی جہاز کے اندر بیٹھا اس کا خاوند مجھے بتا رہا تھا ”انکل ہمیں کسی نے نہیں بتایا اور اب دوڑ بھاگ میں پتہ چلا ہے کہ یہ جو فری ٹکٹ ہوتا ہے نا، یہ فلائٹ فری بھی ہوتا ہے۔ یعنی یہ فلائٹ کے لئے کنفرم کر بھی دیا جائے تو کنفرم نہیں ہوتا۔ بس ائر پورٹ پہ ڈیرہ ڈال دیں تمام مسافر، چانس والوں سمیت، سوار ہو جانے کے بعد جگہ ہو تو فری سواری کو سوار کیا جاتا ہے ورنہ اگلی فلائٹ تک ائر پورٹ پہ گھومنے کے لئے فری ہوتا ہے“

ہماری فلائٹ اڑان کے لئے تیار تھی اور حفصہ ابھی استنبول ائر پورٹ پر صبح کی فلائٹ میں نشست کنفرم ہونے اور ہوٹل کے لئے سواری آنے کی منتظر ہی تھی۔

ٹورنٹو پہنچتے پھر پتہ کیا تو جواب آیا کہ حفصہ صبح آٹھ بجے کی فلائٹ پر بیٹھ جائے گی۔ کچھ تسلی ہوئی کہ اس خاندان نے اگلی صبح ہی میکسیکو کے لئے پرواز لینی تھی جہاں میرے داماد کو اس کی کمپنی نے اہم ذمہ داری سونپی تھی۔

گھر آتے رستے میں مجھے پینسٹھ برس قبل فیصل آباد سے لاہور بطور کمپنی پارٹنر کے بھتیجے کے، بس میں فرنٹ سیٹ پہ بیٹھ فری سواری سفر کرنے کا اعزاز ملا تھا۔ ( کہانی ”ہم سب“ میں شائع ہو چکی ) جب میں بس سے اترنے سے پہلے واپسی فری ٹکٹ پھاڑ کے پھینک چکا تھا۔

ہم گھر پہنچ چکے تھے اور حفصہ استنبول ائر پورٹ پہ بورڈنگ لاؤنج میں پہنچ کے بتا رہی تھی کہ رات دو تین گھنٹے کے انتظار کے بعد ائر لائنز نے بجائے نشست کنفرم کرنے کے پھر وہی نشست خالی ہونے کی صورت میں بور ڈنگ کی خوشخبری کے ساتھ فری سواری کے ہوٹل کے استحقاق کو بھی مسترد کر دیا تھا اور اب وہ اسی فلائٹ پہ واپسی کا کنفرم ٹکٹ دوگنی سے زیادہ قیمت پہ خرید انشاءاللہ شام گھر پہنچ رہی ہے کہ اگلی صبح میکسیکو فلائٹ کے لئے پیکنگ بھی کرنی ہے۔

پینسٹھ برس قبل بطور فری سواری سفر کرتے لاہور پہنچ بس سے اترنے سے پہلے میں واپسی ٹکٹ پھاڑ کے پھینک چکا تھا اور آج میری بیٹی کو یہ فری ٹکٹ تقریباً دو ہزار امریکی ڈالر میں پڑ چکا تھا اور اور خاندان بھر کی پریشانی اور رات بھر ائر پورٹ پہ دھکے کھانا بطور بونس قرعہ اندازی میں فری ٹکٹ ملنے کا مل چکا تھا، جب کہ گھر کے باقی افراد کے واپسی ٹکٹ بارہ سو ڈالر فی کے حساب سے خریدے گئے تھے۔

فری ٹکٹ کے مزے ہم لے چکے۔ آزمائیں قسمت۔

Facebook Comments HS