عارفہ شہزاد کا ناول: میں تمثال ہوں
”میں تمثال ہوں“ پاکستان کی نئی نسل کا ایک اہم ناولٹ ہے۔ عارفہ شہزاد نے کمال کر دکھایا ہے۔ اس ناولٹ کے ذریعے انہوں نے ثابت کیا ہے کہ وہ صرف اچھی شاعرہ ہی نہیں بلکہ اچھی ناولٹ نگار ہیں۔ انہوں نے اس کہانی کو اس قدر اوڑھا ہے کہ یہ ان کی آپ بیتی لگتی ہے۔ قاری اسی تاثر کے ساتھ پورا ناولٹ پڑھ جاتا ہے۔ ویسے یہ بھی سچائی ہے کہ ناولٹ کے زیادہ تر حصے سوانحی لگتے ہیں، شاید اسی لئے یہ پورا ناولٹ بعض قارئین کو سوانحی لگتا ہے۔
”میں تمثال ہوں“ ناول ہے یا ناولٹ؟ یہ سوال بہت اہم ہے۔ دراصل ناولٹ کی جو خوبیاں ہیں ان میں سب سے اہم اس کی طوالت ہے۔ طوالت کے معاملے میں یہ ناولٹ ہی ہے۔ اس کے صفحات کی کل تعداد 149 ہے جس میں سے ابتدائی صفحات اور ابواب کے خالی صفحات کو منہا کر دیا جائے تو ناول کے صفحات کی کل تعداد 140 ہوگی، جو ناولٹ کے لئے مناسب ہے۔ رہی بات دوسرے اجزا کی تا اس کا پلاٹ محدود ہے۔ یہ ایک کردار کی زندگی کے ایک رخ کو پوری شد و مد کے ساتھ پیش کرتا ہے۔ اس میں کر دار کم ہیں۔ ہر طرح سے یہ ناولٹ کے فن اور اجزا کو اپنے اندر سمیٹے ہے۔
اردو کے ناشرین اور پبلشنگ اداروں سے ایک درخواست ہے کہ وہ اس بات کا لحاظ رکھیں کہ 140 سے 150 صفحات کے ناول پر غور کریں کہ وہ محدود کینوس کے ہیں تو انہیں ناولٹ کے ہی زمرے میں رکھیں۔ اس سے ناولٹ کی بڑی خدمت ہو گی، اور ناولٹ کے ناول سے بہ آسانی الگ کیا جا سکے گا۔
میں تمثال ہوں، پاکستان کے ساتھ ساتھ ہندوستان میں بھی نہایت مقبول ہو رہا ہے۔ اب تک ہندو پاک میں اس کے کئی ایڈیشن شایع ہو چکے ہیں۔ مشرف عالم ذوقی، خالد فتح محمد، نیلم احمد بشیر، عاطف علیم، رفاقت حیات، علی اکبر ناطق، قاسم یعقوب جیسے معروف فکشن نگاروں نے اس ناولٹ کی تعریف کی ہے۔
ناولٹ کی کہانی میں مرکزی کردار کے طور پر تمثال ہی ہے، باقی سب کردار ذیلی ہیں۔ یہ پوری کہا نی اسی کے گرد گھومتی ہے۔ تمثال نے کھل کر اپنے دوست ڈاکٹر احسن (جو کہ ماہر نفسیات ہے ) کو اپنے عشق کے بارے میں بتایا۔ اس نے ای میل کے ذریعے، ڈاکٹر احسن کو اپنے ساتوں عشق کے بارے میں بتایا۔ دراصل تمثال ایسی عورت ہے جو اپنے ققہر عشق کے متعلق کھل کر بتاتی ہے۔ اس نے دو عشق شادی سے پہلے کیے ۔ اس نے یہ بھی جانا کہ عشق اور جنس میں کیا فرق ہوتا ہے۔ دوسرے عشق نے اسے پہلے اعتماد میں لیا، پھر آہستہ آہستہ اسے چھونا شروع کیا۔ لیکن دونوں نے آخری حد پار نہیں کی تھی۔ اس نے تیسرا عشق اپنے شوہر سے کیا جو بے حد نا کام سا عشق تھا۔ اس کے شوہر نے مخلوط خاندان ہونے کے سبب کبھی عشق وشق نہیں کیا۔
تمثال نے باقی کے چاروں عشق شادی کے بعد کیے ۔ شادی کے بعد مرد تو کئی عورتوں سے تعلق رکھتا ہے۔ اردو ناولٹ میں شاید یہ پہلا موقع ہے جب کسی عورت نے شادی بعد عشق کیے ۔ اس سے بھی بڑی بات یہ ہے کہ عورت اپنے عشق کے قصوں کو بیان بھی کر رہی ہے۔ کسی نے اسے چھوڑ دیا اور کسی کو اس نے۔ اس کے ساتوں عشق دراصل عشق نہیں تھے۔ یہ سب کے سب (ایک آدھ کو چھوڑ کر) جسم کی چاہت کے قصے تھے، کسی کے فراق میں تو کسی کے وصال نے اس سے نظم لکھوا لی۔
وہ چوتھا عشق کرنا نہیں چاہتی تھی، لیکن اس نے کیا۔ شاید اس کی فطرت میں عشق کا خمیر تھا۔ اس نے چوتھا عشق بھی کیا۔ پھر پانچواں عشق چوتھے عشق کے دوست سے کیا۔ ہر عشق کے بعد وہ طے کرتی یہی کہ اب عشق نہیں کرے گی۔ لیکن وہ چھٹے اور پھر ساتویں عشق میں بھی مبتلا ہوئی۔ دوسرے عشق سے جسم کے مختلف رازوں اور سروں سے وہ ایسی واقف ہوئی کہ اس نے ہر عشق میں جسم کی مختلف بھول بھلیوں میں ایک دوسرے کو پانے میں ہی گزار دیے۔ جسم کے نشیب و فراز کے رازوں کو پانے کے لئے وہ بڑے سے بڑے ہوٹل میں بھی گئی اور گھٹیا پردے والے کیبن میں بھی گئی۔
تمثال کا کمال یہ ہے کہ اس نے ایک عورت ہوتے ہوئے، اپنے عشق کو نہ صرف طشت از بام کیا بلکہ انہیں دیدہ دلیری سے سب کے سامنے پیش کیا۔ ایک عورت کے سات سات عشق دو شادی سے پہلے، ایک شوہر سے اور چار شادی کے بعد ، کا بیان اس ناولٹ کو منفرد مقام عطا کرتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ جن قصوں کو مصنفہ اور ناولٹ کی مرکزی کردار عشق کا نام دے رہی ہیں، وہ عشق نہ ہو کر جسم کے حصول کے لئے مرد اور عورت کے درمیان کا ایک کھیل ہے۔
عشق تو عشق ہوتا ہے۔ اس میں عاشق معشوق کے لئے جان تک کی قربانی دے دیتا ہے۔ عاشق کبھی اپنے عشق کو بدنام نہیں ہونے دیتا۔ یہاں تو انتقام تک کی نو بت آ جاتی ہے۔ لہٰذا ان قصوں کو عشق کہنا سراسر غلط ہے۔ ہاں یہ ضرور تسلیم کرنا چاہیے کہ تمثال نے ان قصوں کا ایسا بیان کیا ہے جو پرلطف بھی ہے اور تحیر و تجسس سے پھر پور بھی۔
یہ ماننا پڑے گا کہ عارفہ شہزاد نے پورے ناولٹ کی کہانی اتنے دلچسپ انداز میں بیان کی ہے کہ کہانی کہیں کہیں سوانحی لگتی ہے۔ آخر میں تمثال اپنے دوست ڈاکٹر احسن کو اپنی کہانی اور کرداروں کی نفسیات بتاتی ہے۔ تمثال اپنے ناول کی اشاعت کے لئے بھی پریشان ہوتی ہے۔ آخر میں تمثال اپنی دوست کے شوہر کو رات بارہ بجے فون کر کے دوست سے بات کرانے کو کہتی ہے، جسے اس کی دوست کا شوہر غلط بیانی اور لگا بجھا کے اپنی بیوی کے سامنے پیش کرتا ہے، اور دونوں دوستوں میں دراڑ پڑ جاتی ہے۔
بہر حال کل ملا کر یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ ناولٹ اردو ناولٹ کی روایت میں ایک خوش گوار اضافہ ہے۔ پاکستان کے معروف ناول نگار خالد فتح محمد لکھتے ہیں :
”میں تمثال ہوں“ اردو ناول کی روایت اور تجربات کے سنگلاخ علاقوں میں راستہ بنانے کی طرف ایک قدم ہے۔ جس کا فیصلہ آنے والا وقت کرے گا لیکن بہر حال یہ اس طرف مثبت پیش رفت ضرور ہے۔ ”
خالد فتح محمد کی بات ناولٹ کے پس منظر میں حقیقت کے قریب لگتی ہے۔ واقعی یہ ناولٹ اپنے آپ میں بالکل منفرد اور مختلف ہے۔ جہاں تک اس ناولٹ میں اسلوب کی بات ہے تو یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ عارفہ شہزاد نے بڑے ہی دلچسپ اور ہر تاثیر زبان میں ساتوں عشق کو بیان کیا ہے۔ عارفہ شہزاد نے یہ بھی ہمت اور جرات دکھائی کہ اس کا اپنا کردار بھی داؤ پر لگ رہا تھا مگر ناولٹ کا پرلطف بنانے میں انہوں نے کوئی کسر نہ اٹھا رکھی۔
یہ ضرور ہے کہ عارفہ شہزاد کے اس ناولٹ نے تہلکہ مچا دیا ہے۔ زندگی کے ان پہلوؤں پر بھی کھل کر بات ہونے لگی، جن کو اب تک معیوب سمجھا جاتا تھا۔ 1932 ء میں انگارے نامی مجموعہ شایع ہوا تھا، اس نے اس زمانے میں آگ لگانے کا ہی کام کیا تھا۔ کیا وہی کام ”میں تمثال ہوں“ بھی کرے گا۔ ویسے ناولٹ اور ناول کی دنیا کے باشرع خالق کی تیوریوں پر بل پڑنے لگے ہیں۔ آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا!


