آزادی کا سفر


ٹوٹے تھے جو ستارے فارس کے آسماں سے
پھر تاب دے کے جس نے چمکائے کہکشاں سے
وحدت کی لے سنی تھی دنیا نے جس مکاں سے
میر عرب کو آئی ٹھنڈی ہوا جہاں سے
میرا وطن وہی ہے، میرا وطن وہی ہے

آزادی ایک نعمت ہے۔ آزادی کے حصول کے لئے کئی نسلوں کی قربانی دینی پڑتی ہیں۔ اس سفر میں آزادی کے بعد اس کو صحیح معنوں میں برقرار رکھنا ایک کٹھن مرحلہ ہے۔

شکر الحمدللہ آج ہم پچھہترواں یوم آزادی منا رہے ہیں۔ اس آزادی کے سفر میں ہمارا ملک کئی مشکل مراحل سے دوچار ہوا۔ کبھی بیرونی سازشیں تو کبھی اندرونی اختلافات۔

پاکستان کی آزادی کے سفر پر اگر ہم روشنی ڈالے تو ایک جدوجہد وہ تھی کہ پاکستان کے حصول کے لئے کی گئی۔ اور ایک یہ کہ ہم اس ملک کو بیرونی اور اندرونی مخالفین سے اس کو محفوظ بنا کر لوگوں کے لئے امن کا گہوارہ بنا دے۔ اور شاید یہ جدوجہد تا قیامت ہم لڑتے رہے گے۔

آزادی پاکستان کے پہلے مرحلے میں ہمارے مفکرین اور رہنماؤں نے لوگوں کے اندر آزادی کی روح پھونکنے کے لئے کئی تحریکیں چلائی۔ اور ان تحریکوں کے ذریعے برصغیر کے مسلمانوں میں خودداری کا جذبہ پیدا کیا۔ سر سید احمد خان جو اس تحریک کا بانی تصور کیا جاتا ہے، کیونکہ آپ ہی وہ پہلے رہنما تھے جنہوں نے مسلمانوں کے حق کی بات کی۔ اور علم کی خوشبو مسلمانوں میں پھیلانے کی کوشش کی۔ چونکہ اس دور میں مسلمان انگریزوں کی تعلیم کے سخت خلاف تھے۔ تبھی انہوں نے اپنے علمی اور پھر سیاسی خدمات سے لوگوں کے اندر آزادی کی شمع جگمگائیں۔

علامہ اقبال جو مفکر پاکستان سے جانا جاتا ہے، آپ نے اپنے اشعار اور نظریات سے مسلمانوں کے اندر آزادی کی کی چنگاری کو ہوا دی۔ اپنے خودی کے فلسفے سے مسلمانوں کو بیدار کیا جو خواب غفلت میں سوئے ہوئے تھے۔

سفر آزادی کی تحریک کو قائد اعظم محمد علی جناح نے ایک عملی جامہ پہنایا اور اس طرح پاکستان چودہ اگست 1947 کو آزاد ہوا۔

اس آزادی کی تحریک کو جب عملی جامہ پہنایا گیا تو کئی لوگوں نے جانی اور مالی قربانی دی۔ اپنے بڑوں سے سنا ہے جو مسلمان ہندوستان سے پاکستان ہجرت کر کے آرہے تھے تو کتنے ظلم و جبر کو برداشت کیا۔ یہ بھی سنا ہے کہ جب مسلمان ہندوستان چھوڑ کر آرہے تھے تو ٹرینیں جو لوگوں سے کھچا کھچ بھریں ہوئے تھے۔ ایک مقام آیا کہ ہندوؤں نے ہمدردی کا لبادہ اوڑھ کر مسلمانوں کو کھانا دیا اور اس کھانے میں شیشے پیس کر دیے تو جو بھی کھاتا وہ مر جاتا۔ عالم یہ تھا کہ جو کھانا کھاتا وہ بھی مر جاتا اور جو نہ کھاتا وہ بھی بد حالی کا شکار تھا۔

اس آزادی کے سفر کو سوچ کر میں جب آج کے حالات کو مدنظر رکھتی ہوتو رب العالمین کا شکر ادا کرتی ہو کہ ہم آزاد ہیں۔ لیکن پھر دل افسردہ بھی ہوجاتا ہے کہ ہمارے آبا و اجداد نے کتنی قربانیاں دیں، اپنے مال و جانوں کی اور ہم ہے کہ اس آزادی کی قدر ہی نہیں کرتے۔ اور ان کی کاوشوں کو جھٹلا بیٹھے ہیں۔

آزادی کے حصول کے بعد آزادی کو برقرار رکھنا بہت مشکل مرحلہ ہے۔ کیونکہ آج ہم نہ صرف بیرونی دشمنوں کا سامنا کر رہے ہیں بلکہ اپنے ملک کے اندر غداروں سے بھی نپٹ رہے ہیں۔ اور افسوس کہ ہم نوجوان جو اس ملک کے مشعل تصور کیے جاتے ہیں، سازشوں کی پٹی آنکھوں پر باندھے ہوئے ہے اور ہر مشعل کو اپنے ہی ہاتھوں سے بجھا رہے ہیں۔

میں جب دیکھتی ہوں کہ نوجوان کیسے دشمنوں کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں اور اپنے ہی پاکستانیوں پر وہ کس قدر تنقید کرتے ہیں دل خون کے آنسوں روتا ہے۔ بے بسی سے سب تماشا ہر روز دیکھتی ہوں کہ اس آزادی کے سفر کو یہ کیسے اپنے ہاتھوں سے ختم کر رہے ہیں۔ وہ سارے چراغ بجھا رہے ہیں جو اس راہ سفر میں ان کے مددگار ہیں۔ نوجوانوں کے اندر آزادی کی غلط روح پیدا کی جا رہی ہے اور خودداری کو ان کے اندر بالکل کچل کر رکھنے کی کوشش کی جاری ہے۔ جو کہ ایک طرف افسوس ناک بات ہے اور دوسری طرف لمحہ فکریہ ہے کہ اگر نوجوان اس طرح دشمن عناصر کے آلہ کار بنتے رہے تو آزادی کی سانسیں جو ہم آج لے رہے ہیں شاید کل نہ لیں۔ وہ سفر جو ہمارے مفکرین اور آبا و اجداد نے اپنی قربانیوں و کاوشوں سے شروع کیا وہ ختم ہی نہ ہو جائے۔

اللہ تعالیٰ اس پاکستان کی آزادی کو ہمیشہ برقرار رکھیں اور جو عناصر اس آزادی کے سفر کے لئے نقصان دہ ہے ان سے محفوظ رکھیں۔

Facebook Comments HS