ہمیں محبت کا ڈھنگ نہیں آتا


یہ بات ہر جگہ زیر بحث آتی ہے کہ ہم ایک قوم کیوں نہیں بن پا رہے؟ ہم ترقی کیوں نہیں کر پا رہے؟ یہاں اتنی تفریق کیوں ہے؟ یقینا اس کی بہت سی وجوہات بھی بیان کی جاتی ہیں جو اپنی جگہ پہ ٹھیک ہیں لیکن ایک سب سے بڑی وجہ یہ ہے ہم محبت کرنا نہیں جانتے۔ ہم محبت کے دعوے دار تو بہت ہوتے ہیں لیکن محبت کرتے ہوئے بھی ہم صرف خود پسندی میں مبتلا ہوتے ہیں۔ یہ محبت ہمارے ارد گرد لوگوں سے ہو، عزیزوں رشتے داروں سے ہو، اس وطن سے ہو جس کی خاطر ہم اپنی جان قربان کرنے کی قسمیں کھاتے ہیں یا پھر اپنے پیشے سے محبت ہو۔

ہمیں محبت کا ڈھنگ نہیں آتا۔ لوگوں سے ہماری محبت کے مقابلے میں ان کا آپ کی سوچ کے مطابق سوچنا زیادہ اہم ہوتا ہے۔ تھوڑا سا اختلاف کیا ہوا محبت ایک طرف اور ہم ایک طرف۔ حتی کہ ہماری اپنی اولاد اور والدین سے محبت بھی اس بات سے مشروط ہوتی ہے کہ وہ ہمارے لیے کیا کر رہے ہیں۔ ہماری کتنی بات مانتے ہیں وغیرہ وغیرہ محبت کے لیے محبت عملا ناپید ہے ہمارے معاشرے میں۔ وطن سے محبت بھی نعروں، جذباتی تقریروں اور دعووں کی حد تک ہے۔

خیر رشتوں میں محبت کا گراف اوپر نیچے ہوتا رہتا ہے۔ وہ ایک الگ بحث ہے لیکن اس وقت جو مدعا ہے وہ یہ ہے کہ ہم ترقی کیوں نہیں کر رہے۔ تو اس کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ ہم جس شعبے یا پیشے سے منسلک ہوتے ہیں ہم اس سے محبت نہیں کرتے۔ اس میں ہماری دلچسپی صرف اس حد تک ہوتی ہے کہ یا تو وہ محض ایک فرض ہوتا ہمارے لیے یا روزی کمانے کا ذریعہ۔ زیادہ تر لوگ اپنے شعبے سے اکتائے ہوئے نظر آتے ہیں۔ استاد کو لگتا ہے کہ یہ پیشہ اسے ایک اچھی زندگی نہیں دے سکتا۔

انہیں کوئی بڑا افسر ہونا چاہیے تھا۔ بڑے افسرز اپنے رونے روتے رہتے ہیں۔ یوں ایک ایسا گھن چکر چلتا ہے کہ ہر کوئی اپنے پیشے سے نا خوش ہے۔ طالب علم حصول ؑعلم سے محبت کرنے کی بجائیے اپنی ڈگری اور ڈگری کے بعد نوکری کی فکر میں ہے۔ کسی نے بھی کوئی بھی پیشہ اس لیے نہیں چنا ہوتا کہ اسے وہ کام کرنا اچھا لگتا ہے اور اسے کر کے اسے راحت ملتی ہے۔ بلکہ سب لوگ اسی دوڑ میں ہوتے ہیں کہ دولت کمانی چاہیے اس سے ساری خوشیاں ملیں گی۔

دولت مند اپنی دولت بڑھانے اور موجودہ دولت کو بچانے کے لیے پریشان ہیں۔ ایک استاد کے لیے اس سے بڑی خوشی کیا ہو گی کہ اس کے پاس ہر روز یہ موقع ہوتا ہے کہ وہ کسی کی زندگی بدل سکتا ہے۔ کسی کو کچھ سکھا سکتا ہے۔ اگر وہ اپنے پیشے سے محبت کرتا ہو تو یقینا کلاس روم اس کے بوجھ نہیں بلکہ تفریح اور خوشی کا ذریعہ ہو گا۔ طالب علم اگر علم سے محبت کرتا ہو تو اس کے کتابی بوجھ نہیں بلکہ نئی دنیا تلاش کرنے کے لیے کسی الہ دین کے چراغ سے کم نہیں ہوں گی۔

یقینا یہ دیو مالائی داستانی حقیقت نہیں ہیں لیکن حقیقت میں ایسی بہت سی چیزیں ہیں جو آپ کو وہ طاقت فراہم کر سکتی ہے جو شاید الہ دین کے پاس بھی نہیں ہے۔ اپنے پیشے سے محبت کرنے والا انسان علم سے محبت کرنے والا طالب علم کبھی نا خوش رہ ہی نہیں سکتا۔ اس کی خوشی محض اپنے شعبے میں کامیاب ہونے پہ صرف ہو گی نہ کہ ہر وقت یہ سوچنے میں کہ اسے اس کسے اور شعبے میں ہونا چاہیے تھا۔ اس کی بڑی وجہ یہی ہے کہ ہم نے کبھی سوچا ہی نہیں ہے کہ ہم زندگی میں کیا کرنا چاہتے ہیں۔

یا ہمارے اندر کون سا پوٹینشل ہے جو ہمارے لیے خوشی کا سامان میسر کر سکتا ہے۔ حقیقی خوشی محبت میں ہی ہے چاہے وہ دوسرے انسانوں سے ہو، اپنے ملک سے ہو یا پھر اپنے پیشے سے ہو لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم محبت کرنا ہی نہیں جانتے۔ ہماری محبت کا پیمانہ ہمیشہ محبت سے باہر ہوتا ہے۔ جس کی وجہ سے محبت بھی ایک بوجھ لگنے لگتی ہے اور انسان ایک بہت بڑی خوشی سے محروم رہ جاتا ہے جو صرف اور صرف محبت سے ہی میسر آ سکتی ہے نہ کہ دنیا بھر کی دولت اور آسائش سے۔ اگر ہم محبت کرنا سیکھ لیں تو کامیابی اور خوشی دونوں ہمارا مقدر بن سکتے ہیں۔ لیکن افسوس ہمیں محبت کرنا نہیں آتا۔