گجرات والے بارش سے اتنا کیوں ڈرتے ہیں؟


بیس لاکھ کے نفوس پر مشتمل گجرات کے صدر مقام کا نام بھی گجرات ہی ہے، نفوس کی گنتی میں پرند، چرند اور درند شامل نہیں۔ جس طرح سگ گزیدہ پانی سے ڈرتا ہے بالکل اسی طرح گجرات شہر کے رہائشی بارش سے ڈرتے ہیں۔ ابھی پرسوں گیارہ اگست کو ہونے والی بارش کا خوف لوگوں کے دماغ پر طاری تھا کہ آج دوپہر کو ایک بدلی آسمان پر نظر آنے لگی، لوگوں کا مارے خوف کے برا حال ہو گیا، دعائیں مانگنی شروع کر دیں ”یا باری تعالی اس بدلی کو ہم سے دور فرما دے“ ۔ بقول اہالیان شہر گجرات اللہ نے آسمان سے بدلی ہٹا دی۔ بس پھر شہری نیازیں بانٹنے نکل کھڑے ہوئے اور لوگوں کو روک روک کر مکھانے اور نگدیاں دینے لگے۔

جو صاحب گجرات کے نہیں وہ پوچھ سکتے ہیں کہ گجرات سٹی کے لوگ بارش سے اتنا کیوں ڈرتے ہیں۔ اس کا ایک جواب تو یہ کہ جب کبھی بارش ہو تو آپ گجرات کا دورہ کریں، خوف کی وجہ آپ خود بخود جان جائیں گے، اگر آپ یہ نہیں سکتے اور مجھ پر اعتبار کرنے کے لیے تیار ہیں تو میں بتا دیتا ہوں۔

دوستوں قصہ یہ ہے کہ اب والے وزیر اعلی پنجاب جب پہلی بار تقریباً بیس سال پہلے وزیر اعلی پنجاب بنے تھے تو انہوں نے گجرات شہر میں زیر زمین گندے پانی کے گزرنے کے راستے بنوائے تھے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ زیر زمین پائپوں کی ٹوٹ پھوٹ ہوئی ہو گی جس کی وجہ سے شہر کی سڑکوں پر دو تین فٹ تک بارش کا پانی کھڑا ہوجاتا ہے۔ چوہدری پرویز الہی صاحب کے حاسدین کے بقول کام ناقص ہوا تھا ان کے بقول پائپ بچھائی والے سال پہلی بارش سے ہی گجرات شہر میں سیلاب کی کیفیت پیدا ہو گئی تھی۔ حاسد تو حاسد ہوتے ہیں، ان کا کیا ہے۔

وجہ جو بھی ہو بارش کے دوران اور بعد میں گجرات کے حالات قابل دید ہوتے ہیں۔ شہر کے ایک سرے سے لے کر دوسرے سرے تک سیلابی پانی سڑکوں پر مٹر گشت کرتا ہے۔ مٹر گشت کے بعد شہر کے عین درمیان سیلابی پانی سیاست دانوں کی دیکھا دیکھی دھرنا دیتا ہے، دھرنا کم از کم تین دن جاری رہتا ہے، دھرنا ختم کرانے کے لیے کوئی مذاکرات کرنے آتا ہے اور نہ ہی خرچی دینے، تین دن بعد دھرنا از خود ختم کر دیا جاتا ہے۔ دھرنے کے دورانیے کا مختصر ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ گجرات کا پانی سیاست دانوں سے کم ضدی ہے اور دوسرا اس کا دھرنا کسی مالی لالچ کی غرض سے نہیں صرف اور صرف قومی یا گجراتی مفاد میں ہوتا ہے۔

سیلاب کا روٹ

سروس موڑ کے علاقوں کا پانی اپنا سفر شروع کرتا ہے دوسری سمت بولا پلی کے علاقے کا پانی اپنے زاد راہ (ہر رنگ اور سائز کے شاپنگ بیگز) کے ساتھ روانگی پکڑتا ہے۔ دونوں سمتوں کے پانی جیل چوک یا کچہری چوک میں آ کر بغل گیر ہو جاتے ہیں۔ کچھ ہی دیر بعد مہمدہ ہسپتال کے گردونواح کا سیلاب بھی ان پانیوں سے آ ملتا ہے۔ یہ تینوں سیلابی ریلے یک جان تین قالب کا عملی نمونہ پیش کرتے ہوئے جیل چوک سے فوارہ چوک کی طرف روانگی شروع کر دیتے ہیں۔

ان ریلوں کے جیل چوک سے کوچ کے فوراً بعد پولیس لائن کے علاقے کا پانی جیل چوک کے راستے یک جہتی کے لیے ان ریلوں کے پیچھے پیچھے چل پڑتا ہے۔ یہاں آپ کے دماغ میں سوال آ سکتا ہے کہ پولیس لائن تو جیل چوک کے ساتھ ہے بھر اس کا ریلا بعد میں کیوں پہنچا، صاحبو گزارش یہ ہے کہ وہ سارا علاقہ سرکاری افسران کا ہے، وہاں کا سیلابی ریلا بھی اپنے صاحبوں کی پیروی میں تیاری پر ٹائم لگاتا ہے۔ فوارہ چوک پر پہنچنے پر ان کی ملاقات رامتلائی چوک کے علاقے والے ریلے سے ہوتی ہے جو اپنے ساتھ صرف رنگ دار شاپرز نہیں لاتا بلکہ اس کی رفاقت میں پنکھوں کا ہر طرح کا کواڑ کباڑ اور کیل کانٹے بھی ہوتے ہیں۔

میں چونکہ گجرات سے باہر والوں کے لیے بات کر رہا ہوں اس لیے بتا دوں کہ فاطمہ جناح گرلز کالج یا فوارہ چوک ایک ہی جگہ ہے۔ اس جگہ چار سمتوں سے آنے والے سیلابی ریلے جپھیاں ڈالتے ہیں، پھر سیلابی ریلوں کے اپنے اپنے لیڈران تقریریں کرتے اور ہدایات جاری کی جاتیں ہیں، ہدایات میں شاپروں کو بتایا جاتا ہے کہ آپ نے موٹر سائیکلوں کی تاروں میں پھنس کر کیسے موٹر سائیکل سوار کو گرانا ہے، لوگوں کے مین گیٹوں سے اندر کیسے گھسنا ہے، ساتھ یہ خاص ہدایت دی جاتی ہے کہ خبردار کہیں بھی صرف ایک رنگ کا شاپر اندر نہ جائے کم از کم تین الگ الگ رنگ ہونے چاہیے تاکہ عمارت یا گیٹ کی خوبصورتی میں فرق نہ آئے، کیل کانٹوں کو الگ سے گائیڈ کیا جاتا ہے اور ان کو بتایا جاتا ہے کہ کوئی بھی راہ گیر چھوٹا، بڑا، عورت، مرد، خوبصورت، بدصورت، کالا گورا، مسلم، غیر مسلم آپ کی چبھن سے نہ بچ پائے، ساتھ کیل کانٹوں تاروں کے ٹوٹوں کو مخاطب کر کے خاص طور پر کہا جاتا ہے کہ ”یاد رکھوں کہ ہمارا واسطہ انسانوں سے ہے پر ہم ان کی طرح تفریق کے قائل نہیں“ ۔ وہاں ہی مل کر آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جاتا ہے، مشترکہ اعلامیہ جاری ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اعلان ہوتا کہ شہر کی دائروی سڑک کے دورے کے لیے روانگی پکڑی جائے۔ یہاں سے شیشوں والے دروازے کی طرف جایا جائے گا۔

چلتے چلتے ریلوں کے لیڈروں کو خیال آتا ہے کہ راستے میں شہر کے اقتداری خاندانوں کے گھر ہیں کیوں نہ وہاں ریلوں سے خطاب کر کے اپنی دکانداری چمکائی جائے۔ آپس میں طے کرتے ہیں کہ چوک نواب صاحب میں خطاب بے فائدہ ہے کیونکہ عرصہ دراز سے ان کا اقتدار میں کوئی حصہ نہیں، ظہور پیلس کے سامنے خطاب کیا جائے گا، کیونکہ وہ آج کل وزیر اعلی بھی ہیں، ہماری بھی حاضری ہو جائے گی۔

کچھ ہی دیر میں شاہ دولہ روڈ کے علاقے سے سیلابی قافلے بھی ظہور پیلس کے سامنے پہنچ جاتے ہیں۔ خطاب شروع ہوجاتا ہے۔

جناب وزیر اعلی پنجاب آپ نے ہمیں عین شہر کے وسط میں جگہ دے کر جو احترام دیا، اس وجہ سے ہم آپ کے بہت ممنون ہیں۔ اگر آپ ہمیں یہاں جگہ نہ دیتے تو ہم میں سے بہت سے ریلے اب تک ہیڈ خانکی تو کیا پنج ند بھی پار کر چکے ہوتے۔ مقرر کے یہ کہنے پر پانی اور شاپر بیگ آپس میں ٹکرا ٹکرا کر چٹاخ چٹاخ کی آوازیں پیدا کر کے مقرر کر خوب داد دیتے ہیں۔ جناب چوہدری صاحب آپ کا شکریہ کہ آپ نے ہمیں غریب الوطن نہیں ہونے دیا، ہم آپ کے مشکور ہیں کہ آپ نے ہمارا آدر کیا، ہمیں پردیس کے دھکے نہیں دیے۔

جناب عالی ہم آپ کے شانہ بشانہ گجرات کے شہریوں اور دیہاتیوں کی دن رات خدمت میں مصروف ہیں۔ جناب وزیر اعلی صاحب شہر میں سیلابی ریلوں کی خدمات تو بے شمار ہیں پر وقت کی کمی اور آپ کی وزارت اعلی کی مصروفیات کو مد نظر رکھتے ہوئے میں چند ایک آپ کے گوش گزار کرنا چاہتا ہوں۔ جناب وہ کوڑا جو بلدیہ والے مہینوں قیمتی گاڑیوں کی مدد سے نہیں اٹھا سکتے ہم پلوں میں اسے اپنے کندھوں پر اٹھا لیتے ہیں، جناب ہم مکانوں، دکانوں میں وہ حصے بھی دھو ڈالتے ہیں جن کا خود مالک دکان و مکان کو بھی پتہ نہیں ہوتا کہ وہ کتنا گندا ہے۔

جناب گوداموں میں چھپے ان چوہوں کو ہم نے پلوں میں مار دیا جن کو شہر کی محکمہ صحت کی ٹیمیں اور بڑی بڑی بلیاں آنکھ اٹھا کر دیکھنے سے گھبراتی تھیں۔ جناب ہماری موجودگی سے سڑکوں پر ٹریفک کنٹرول نہیں کرنی پڑتی جس کی وجہ سے ٹریفک پولیس عام دنوں کی نسبت زیادہ چین سے سوتی۔ دکانوں میں سیلاب گھس جانے کی وجہ سے جہاں بہت سے کاروبار بند ہو جاتے ہیں وہاں نئے کاروبار بھی کھل جاتے ہیں۔

سڑکوں پر سیکڑوں کی تعداد میں گاڑیاں بند ہوتی ہیں، ان کو کنارے تک کھینچنے کے لیے ٹریکٹروں کا کاروبار چل نکلتا ہے۔ ٹرالیوں والے سواریوں کو شہر کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پہنچانے کے لیے سر گرم ہو جاتے ہیں اور وہ بھی صرف ہزار دو ہزار میں۔

جناب اگر سارا پانی شہر سے ایک ساتھ نکال باہر کیا گیا تو شہر کے گرد دیہاتیوں کے کچے مکانوں کے گرنے کا خطرہ ہے، اس طرح اپنے جانوروں کے ساتھ ساتھ وہ بھی مریں گے۔ آپ ایک زمین دار گھرانے سے ہونے کی وجہ سے بخوبی جانتے ہیں کہ جانور ہماری معیشت میں ریڑھ کہ ہڈی کا کردار ادا کرتے ہیں ان کا نقصان کسی صورت برداشت نہیں کرنا چاہیے۔

سیلابی پانی نے موجود شاپروں نے آپس میں ٹکرا ٹکرا کر خوب تالیاں بجائیں، پانی نے چوہدری صاحب کی خوبصورت کوٹھی کی بیرونی دیواروں سے ٹکرا کر تڑاک تڑاک کی دادیہ آوازیں پیدا کیں

جناب وزیر اعلی صاحب آخر میں آپ سے گزارش ہے کہ آپ ہمیں بالکل ڈسٹرب نہ کریں، حاسدین کی باتوں کی بالکل فکر نہ کریں، ہمیں اپنے انداز میں شہر گجرات کی خدمت کرنے دیں اور آپ اپنے انداز میں صوبے کے ساتھ ساتھ شہر کی خدمت جاری رکھیں۔

Facebook Comments HS