نعتیہ ادب کے فروغ میں علمی جریدہ ”نعت رنگ“ کا کردار


ڈاکٹر ابرار عبدالسلام کی مرتبہ کتاب کا موضوع ”نعتیہ ادب : مسائل و مباحث (مدیر“ نعت رنگ ”صبیح رحمانی کے نام موصولہ مکاتیب کا موضوعاتی و تجزیاتی مطالعہ )“ ہے جسے نعت ریسرچ سینٹر نے کراچی سے 2019 میں پورے اہتمام کے ساتھ شائع کیا۔ یہ ایک ضخیم کتاب ہے جو 488 صفحات پر پھیلی ہوئی ہے۔ کتاب کا انتساب نعت رنگ کے روح رواں سید صبیح الدین رحمانی کے نام ہے۔ کتاب کو بنیادی طور پر درج ذیل چار بڑے زمروں میں تقسیم کیا گیا ہے :

1۔ جدید نعت نگاری : مسائل و مباحث (ڈاکٹر معین الدین عقیل )
2۔ ”نعت رنگ“ کے تنقیدی زاویے ( ڈاکٹر ابرار عبدالسلام )
3۔ نعت : تعریف، تقاضے اور روایت

4۔ نعتیہ ادب : تحقیق و تنقید ( 1۔ تحقیق 2۔ تنقید 3۔ نعت گوئی : اصلاح سخن کی چند نمایاں صورتیں 4۔ کتابیات 5۔ شخصیات 6۔ متفرقات 7۔ نعت رنگ خطوط کے آئینے میں )

نعت گوئی ایک بہت ہی باریک فن ہے اور نعت کی صنف میں قدم رکھنے والے شاعر کو کئی تقاضوں سے عہدہ برا ہونا پڑتا ہے، ذرا سی بے احتیاطی نہ صرف شاعر کو اس کے ادبی مرتبے سے نیچے گرا سکتی ہے بلکہ اس کا ایمان بھی خدانخواستہ خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ عرفی شیرازی جیسا نغز گو شاعر جب بارگاہ رسالت میں ہدیہ نعت پیش کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو وہ اس بات کا برملا اظہار کرتا ہے کہ نعت گوئی تلوار کی دھار پر چلنے کے مترادف ہے :

عرفی مشتاب ایں رہ نعت است نہ صحرا است
آہستہ کہ رہ بردم تیغ است قدم را۔
ہشدار کہ نتواں بیک آہنگ سرودن
نعت شہ کونین و مدیح کے و جم را۔

یہ بارگاہ کوئی معمولی بارگاہ نہیں کہ ہر کس و ناکس کو لب کشائی کی اجازت دی جائے، بات کرنے کے لیے ایک سلیقہ اور طریقہ درکار ہے کہ روح و بدن باوضو ہوں، قلم عقیدت، محبت اور عشق مصطفے ٰ کی ترجمانی پر مامور ہو کیونکہ یہاں تو یہ کیفیت ہو جاتی ہے کہ :

ہزار بار بشویم دہن ز مشک و گلاب
ہنوز نام تو گفتن، کمال بے ادبی است

” نعت رنگ“ وہ علمی ادبی جریدہ ہے جو 1995 سے سید صبیح الدین رحمانی کی ادارت میں نکل رہا ہے۔ اس کے معاون مدیر عزیز احسن ہیں۔ اس جریدے کے اجراء کا مقصد وحید نعتیہ ادب کا فروغ ہے۔ پاکستان میں نعت ایسی مقدس صنف سے وابستگی بڑی تعداد میں ہے۔ در رسول ﷺ سے استمداد ہر مشکل گھڑی میں طلب کی جاتی ہے، یہ مسائل اور مصائب انفرادی اور اجتماعی نوعیت کے رہے ہیں۔ قیام پاکستان کے لیے اہل اسلام کو جن مصائب کا دریا عبور کرنا پڑا، وہ ہمارے سامنے ہے۔ کچھ یہی معاملہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی، دہشتگردی کی بڑھتی لہر اور کئی دوسرے سماجی، سیاسی اور معاشی اتار چڑھاؤ کا ہے۔ ان کیفیات میں دامن رحمت کی طلب اس طرح بڑھتی ہے جیسے ایک بلکتا بچہ اپنی ماں کی طرف لپکتا ہے۔

ادبی دنیا کا مزاج بھی نرالا ہے۔ یہاں چند مخصوص اصناف ادب کو لائق اعتنا سمجھا جاتا ہے اور کچھ اصناف ناقدین ادب کے معیارات پر پورا نہیں اترتیں۔ ان اصناف میں صنف نعت بھی شامل ہے، اسی صف میں مکتوباتی ادب بھی شامل ہے۔ محض دینی ادب کی وجہ سے نعت کی تنقید اور شعریات پر بات کرنے سے گریز کیا جاتا ہے۔ اس خلا کو پر کرنے میں ”نعت رنگ“ اپنا کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ پاکستان بھر میں نعتیہ صحافت کو فروغ مل رہا ہے اور کئی نعتیہ ماہنامے نعتیہ ادب پر بھرپور کام کر رہے ہیں۔ ان ماہناموں میں نوائے نعت (کراچی ) ، نعت (لاہور ) ، حمد و نعت (کراچی ) ، کاروان نعت (کراچی) ، سفیر نعت (کراچی) ، دنیائے نعت (کراچی ) ، راہ نجات (کراچی ) ، عقیدت (سرگودھا ) ، نعت نیوز (کراچی ) ، خوشبوئے نعت (سرگودھا ) ، مدحت (لاہور ) ، سہ ماہی فروغ نعت (اٹک ) اور ارمغان حمد (کراچی) وغیرہ شامل ہیں۔

نعت رنگ کے مستقل سلسلوں میں پر مغز اداریے، تحقیقی و تنقیدی مضامین میں مباحث، نعت نگاروں کے شخصی خاکے، انٹرویو، تحقیقات اور مدیر کے نام خطوط وغیرہ شامل ہیں۔ نعت رنگ کے صفحات میں ادبا کے درمیان اختلافی باتیں بھی دیکھنے کو ملتی ہیں۔ یہ اختلافی باتیں کئی بار معرکہ آرائی کی صورت بھی اختیار کر جاتی ہیں۔ مختلف نعتیہ موضوعات پر کوکب نورانی اوکاڑوی دیگر شعرا و ادبا سے الگ نظر آتے ہیں۔ انھوں نے اپنی آراء کی بنیاد پر اختلافی نوٹ بھی رقم کیے ۔ اس معرکہ آرائی میں جمال پانی پتی، ابوالخیر کشفی، رشید وارثی، احمد صغیر صدیقی، ریاض حسین زیدی، ڈاکٹر یحییٰ نشیط، ابو سلمان شاہ جہاں پوری، اقبال جاوید اور اکرم رضا سمیت دیگر شخصیات نے اپنے قلم کی جولانیاں دکھائی۔ اس کا تعلق نعت رنگ میں جدت کے کئی رنگ نظر آتے ہیں۔

اس جدت کا تعلق نعتیہ موضوعات، رجحانات، اسالیب اور ہئیتی تجربات سے ہے۔ دیگر اصناف میں اگر نئے تجربات کیے جاتے ہیں تو نعتیہ ادب ان سے کیوں پیچھے رہے۔ نثری نظم کا شہرہ اردو ادب ہے تو اس کا تجربہ نعت گوئی میں بھی کیا جا رہا ہے۔

ڈاکٹر ابرار عبدالسلام نے اپنی مذکورہ کتاب میں بہت اہم نعتیہ تذکروں کی فہرست بھی پیش کی ہے۔ ان تذکروں کا ذکر اس لیے بھی ضروری ہے کہ نعت اور نعتیہ ادب پر تحقیقی کام کرنے والوں کے سامنے یہ تذکرے حوالے کے طور پر موجود رہیں :

مدحت نامہ مرتبہ: صبیح رحمانی، وفیات نعت گویان پاکستان مرتبہ:ڈاکٹر منیر احمد سلیچ، کرا چی کا دبستان نعت مرتبہ: منظر عارفی، مناقب امام حسین علیہ السلام اور شعرائے کراچی مرتبہ : منظر عارفی، تذکرہ نعت گو شاعرات مرتبہ : ابو سلمان شاہ جہاں پوری، نعت کے شعرائے متقدمین مرتبہ :شمیم احمد گوہر، تذکرہ شعرائے بدایوں دربار رسول میں مرتبہ : ڈاکٹر شمس بدایونی، بارگاہ رسالت کے نعت گو مرتبہ : ڈاکٹر شہزاد احمد، تذکرہ نعت گویان راولپنڈی مرتبہ : قمر عینی، نعت گویان بریلی مرتبہ : ڈاکٹر سید لطیف حسین ادیب، شعرائے امرتسر کی نعتیہ شاعری مرتبہ : محمد سلیم چودھری، کاروان نعت کے حدی خواں مرتبہ : پروفیسر محمد اکرم رضا، تذکرہ نعت گویان اردو مرتبہ : پروفیسر سید یونس شاہ گیلانی، غیر مسلموں کی نعت گوئی مرتبہ : راجا رشید محمود، خواتین کی نعت گوئی مرتبہ : راجا رشید محمود، پاکستان کے نعت گو شعرا مرتبہ : سید محمد قاسم اور عصر حاضر کے نعت گو مرتبہ : گوہر ملسیانی وغیرہ

نعت رنگ کے کئی خصوصی شمارے اہل علم سے داد پا چکے ہیں۔ ان خصوصی شماروں میں تنقید نمبر ( 1995 ) ،
حمد نمبر ( 1998 ) امام ا احمد نمبر ( 2005 ) اور سلور جوبلی نمبر ( 2015 ) شامل ہیں۔

نعت رنگ کا ایک خصوصی گوشہ قارئین کے وہ خطوط ہیں جن میں اپنے ذاتی خیالات، احساسات، پسند، نا پسند سے لے کر ٹھوس علمی نکتہ ہائے نظر کو بیان کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر ابرار عبدالسلام نے ان خطوط کو بنیاد بنا کر ان کا موضوعاتی اور تجزیاتی مطالعہ کیا ہے۔ یہ مطالعہ کچھ یوں بھی منفرد ہے کہ عموماً ہمارے ہاں خطوط کی جمع آوری کے بعد انھیں مرتب کر دیا جاتا ہے۔ زیادہ ہوا تو ان کے حواشی درج کر دیے گئے۔

سچ تو یہ ہے کہ مکتوباتی ادب کا تحقیق و تنقید کے میدان میں خاصا اہم کردار ہے اور اس وقت تک تحقیق نا مکمل سمجھی جائے گی تا وقتیکہ دیگر منابع کے ساتھ ساتھ خطوط میں پوشیدہ علمی متاع سے استفادہ نہ کیا جائے۔ فاضل مصنف نے نعت رنگ کے دو سو مکتوب نگاران کے پانچ سو منتخب خطوط کو اپنے مطالعہ کی بنیاد بنایا۔

نعت رنگ میں شائع ہونے والے یہ خطوط 23 سال ( 2018۔ 1995 ) کا نچوڑ ہیں۔ یہ خطوط کسی خاص مسلک، برادری، نسل، یا گروہ تک محدود نہیں بلکہ اس کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ کسی کے اظہار پر کوئی قدغن نہیں لگائی گئی۔ قتیل شفائی کا یہ شعر ”نعت رنگ“ کی پالیسی کا ترجمان بن جاتا ہے :

اب جس کے جی میں آئے وہی پائے روشنی
ہم نے تو دل جلا کے سر عام رکھ دیا

نعت رنگ میں شائع ہونے والے خطوط کو ان کے موضوعات کے حوالے سے پانچ زمروں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے :
1۔ رسیدی، تمہیدی، توصیفی، تعارفی، اور تحسینی خطوط
2۔ تنقیدی خطوط
3۔ تحقیقی خطوط
4۔ مسلکی خطوط
5۔ دعوتی، تبلیغی نوعیت کے خطوط

نعت رنگ کے مدیر کا کمال یہ ہے کہ انھوں نے ان تمام تر نزاعی و اختلافی مزاج کے حامل نکتہ ہائے نظر کو ایک گلدستے کی مانند اپنے مجلے کے اوراق میں سجایا ہے اور یہاں ہر شخص اپنی طلب کے مطابق ان سے مستفید ہو سکتا ہے۔

مجلاتی خطوط کے ضمن میں ڈاکٹر محمد سہیل شفیق کے مرتبہ خطوط ”نعت نامے (بنام صبیح رحمانی )“ کی شکل میں فن نعت گوئی اور مکتوب نگاری میں دلچسپی لینے والوں کو اپنی جانب متوجہ کر چکے ہیں۔

خطوط کا یہ مجموعہ مدیر نعت رنگ صبیح رحمانی کے نام گیارہ سو سے زائد ایک سو پچاسی مکتوب نگاروں کے پانچ سو بارہ خطوط کا انتخاب ہے۔ 900 سے زائد صفحات پر پھیلے یہ خطوط یوں اہم ہیں کہ ان میں نعت رنگ کے حوالے سے انتقادی زاویوں کو موضوع بنایا گیا ہے ۔ مکتوب نگاروں کی اس فہرست میں ڈاکٹر معین الدین عقیل، حفیظ تائب، ابو الخیر کشفی، ڈاکٹر اشفاق انجم، پروفیسر سید شفقت رضوی وغیرہ کے خطوط کو شامل مطالعہ کیا گیا ہے۔

Facebook Comments HS