کراچی والو! بھٹو کو مارنا ہو گا


بارش کا خوبصورت موسم! جب سورج بادلوں کے ساتھ آنکھ مچولی کھیلتا ہے، نرم نرم بوندے مٹی کو مہکاتی ہیں اور جب قوس و قزح کے رنگ افق پر بکھر جاتے ہیں، ایسے میں دل چاہتا ہے تمام فکروں سے آزاد ہو کر موسم سے لطف اندوز ہوں لیکن افسوس ہم کراچی کے رہائش پذیر ہیں جہاں لوگ بارش میں گھروں سے نکلنے سے کتراتے ہیں۔

حالیہ انگلینڈ میں درجہ حرارت کے غیر معمولی سطح کے بڑھنے سے تاریخ کے سارے ریکارڈ ٹوٹ گئے ہیں جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ موسمیاتی تغیرات سے پوری دنیا متاثر ہو رہی ہے۔ پاکستان بھی پچھلے کچھ سالوں سے اس کی لپیٹ میں ہے، بالخصوص کراچی میں بارشوں کی آمد سے پورا شہر مسائلستان بنا ہوا ہے۔ دنیا بھر میں قدرتی آفات سے بچنے کے لیے کوئی نہ کوئی لائحہ عمل ضرور اختیار کیا جاتا ہے لیکن کراچی کے عوام کو تمام بدترین صورتحال سے خود ہی نمٹنا پڑتا ہے۔

صوبے سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی گزشتہ 15 سالوں سے برسراقتدار میں ہے لیکن بدقسمتی سے کراچی کا بنیادی ڈھانچہ یعنی بجلی، گیس، پانی اور پبلک ٹرانسپورٹ کا اب تک کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہونے کے ساتھ ساتھ صنعت، تعلیم، اقتصادیات اور تجارت کا مرکز بھی ہے۔ اتنا ہی نہیں بلکہ دنیا کے بڑے شہروں میں اس کا شمار چھٹا نمبر پر ہوتا ہے، یہ وہ شہر ہے جو کبھی عروس البلاد اور روشنیوں کا شہر کہلاتا تھا لیکن آج اس کی شناخت ٹوٹی پھٹی سڑکیں، ابلتے و بہتے گٹر، اور جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر بن گئے ہیں۔ علاوہ ازیں غیر قانونی تعمیر ہونے والی عمارتوں نے شہر کی خوبصورتی کو گرہن لگادیا ہے، باقی رہی سہی کسر چائنا کٹنگ نے پوری کردی تھی جس سے شہر بھر کے کئی میدانوں کا خاتمہ ہوا۔ بے حسی کا یہ عالم ہے کہ 70 فیصد ریونیو دینے والا شہر آج بھی لاوارث ہے۔

بلدیاتی انتخابات سے قبل سندھ حکومت نے کراچی میں بس سروس، دیگر ترقیاتی کاموں کے ساتھ ساتھ جگہ جگہ سڑکوں کی مرمت اور سیوریج لائنوں کی صفائی کے کام کی شروعات تو کروا دی لیکن حالیہ بارشیں شہر کراچی کو تو ڈبو ہی گئی ساتھ ساتھ دعوے داروں کے دعوے بھی بہا لے گئیں۔ امید ہے انتخابات کا ملتوی ہونا کراچی والوں کے لیے مثبت ثابت ہو گا وگرنہ موجودہ صورتحال کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ یہاں اب دو طرح کے فنکار پائے جاتے ہیں ایک ٹک ٹاک پر فضولیات سے بھرپور ویڈیو بنانے والے دوسرے ہمارے سیاسی رہنما جو ایسی مشکل صورتحال میں سرکاری گاڑیوں میں آ کر تصاویر و ویڈیوز بنواتے ہیں اور پھر یوں غائب ہوتے ہیں گویا گدھے کے سر سے سنگھ۔

کراچی کے بیشتر علاقوں میں پانی جمع، سیوریج نظام درہم برہم، سڑکیں تباہ حال اور کئی مقامات پر زمین دھنس گئی ہے، جس کے باعث اہالیان کراچی روز بدترین ٹریفک کا سامنا کر رہے ہیں۔ گھنٹوں کی مسافت کے بعد اپنے اپنے دفاتر یا منزل پر پہنچنا ممکن ہو رہا ہے ایسے میں حکومت کی جانب سے صرف یہ بیان آتا ہے کہ بارش کے دنوں میں عوام اپنے گھر میں رہے جو ایک ناممکن عمل ہے۔ ماہانہ 25 سے 30 ہزار کمانے والا اتنی مہنگائی میں گھر بیٹھ جائے تو وہ کھائے گا کیا؟ حالانکہ ایسی صورت میں حکومت کو خود گھنٹوں کی کمی یا گھروں سے کام کرنے کا اعلان کرنا چاہیے تھا تاکہ عوام کو کچھ سہولت مل سکے۔

آپ دنیا کے کسی بھی کونے میں چلے جائیں یہ منظر کہیں نہیں دیکھیں گے کہ قبل از بارش شہر بھر کے گٹر کھول دیے جائیں اور سڑکوں کو کھود کر کھلا چھوڑ دیا جائے۔ کراچی ڈوب رہا ہے، اس کا ذمہ دار کون ہے یہ ہم سب ہی جانتے ہیں۔ اب عقل تو یہی کہتی ہے کراچی والوں! بھٹو کو مارنا ہو گا پھر مت کہنا ہم نے بتایا نہیں، بارش آتی ہے تو پانی آتا ہے!

Facebook Comments HS