پانچ سو میں ٹانگ تڑوائی اور جان بچائی


باس کا فون آیا کہ ملتان میں کلائنٹ سے میٹنگ ہے۔ کل کی فلائیٹ سے چلے جانا۔ ضروری کام نمٹائے، ٹکٹ کمپنی نے کروا دیا تھا لہٰذا اگلے دن ملتان روانہ ہو گیا۔ ہوٹل اچھا اور نیا بنا ہوا تھا۔ سڑکوں کی حالت بھی اچھی تھی۔ ہم کراچی والے تو ملتان کا نام سنتے ہی گاؤں کا تصور لاتے ہیں ذہن میں۔ فلائیٹ صبح کی تھی چناں چہ پورا دن فارغ تھا میرے پاس۔ ملتان کے ایک ساتھی کو فون کیا۔ قسمت سے اس کے پاس بھی وقت تھا تو ہوٹل سے لینے آ گیا اور ملتان گھمانے لے گیا۔

سب سے پہلے تو مجھے گرمی نے گھمایا۔ باتیں ہی سن رکھی تھیں لیکن ایسی گرمی کہ الامان و الحفیظ۔ ہوٹل کے ٹھنڈے کمرے سے نکلنے کا دل ہی نہیں کیا لیکن اب ساتھی آن پہنچا تھا تو انکار کرنا برا لگتا تھا۔ میں نے پوچھا کوئی دیکھنے لائق جگہ ہے بھی ملتان میں؟ کہنے لگا مزار بہت ہیں، سلام کرنے چلتے ہیں تو میں حاضر ہوں۔ میں نے سوچا مزاروں پر جا کر کیا کرنا ہے۔ کہا یار بس حلوے وغیرہ لے لیتے ہیں اور بازار گھوم لیتے ہیں۔ قسمت سے جمعہ تھا اور بازار بند تھے۔ مجبوراً مزاروں پر ہی جانا پڑا۔

مسلکی رنگوں سے آراستہ دربار، کبوتروں کی پھڑپھڑاہٹ سے پھیلتے جاتے دانوں کے انبار اور بہت سے ملنگ مست اور سرشار دیکھتے ہوئے ایک مزار پر پہنچے۔ مزاروں پر حاضری اور سلام کرنے کے لیے جانے کا کوئی خاص تجربہ تو نہیں تھا، بس جو سفیر (ملتان کا ساتھی) کرتا میں بھی ویسے ہی کر لیتا۔ احاطے میں داخل ہوئے تو دیکھا کچھ فقیر ایک جگہ بیٹھے ہیں۔ سفیر نے جھک کر ان کو سلام کیا۔ پیروں کو ہاتھ بھی لگایا ان کے۔ مجھے بڑا عجیب لگا اس لیے میں نے بس سلام کرنے پر ہی اکتفا کیا۔

اندر ایک بڑے سے چبوترے پر قبر تھی اور آس پاس خالی جگہ۔ سفیر وہاں ہاتھ باندھ کر کھڑا ہو گیا اور آنکھیں بند کر لیں۔ میں بھی پاس میں کھڑا ہو گیا اور آس پاس جائزہ لینے لگا۔ ”اسامہ بھائی چادر چڑھا لیں، پھر معلوم نہیں کب آنا ہو آپ کا“ سفیر نے بڑی عقیدت سے مجھے سمجھانے والے لہجے میں کہا۔ میں نے پوچھا اس سے کیا فائدہ ہو گا تو کہنے لگا مرشد کی نظر کرم ہو گی آپ پر۔ میں نے کچھ تامل کیا اور پھر ایک چادر اپنی طرف سے چڑھوا دی۔ پانچ سو روپے ہدیہ دیا اور باہر آ گئے۔

گرمی نے بیڑا غرق کر دیا تھا اور جسم پر دانے نکل آئے تھے۔ ایک فارمیسی پر رک کر میں الرجی کی دوائی لینے اترا۔ اندر ایک بندہ کھڑا تھا جس کے پاس مکمل نسخہ لینے کے پیسے نہیں تھے اور وہ کچھ دوائیاں واپس کر رہا تھا۔ اس کے پاس پانچ سو روپے کم تھے۔ میں نے اسے پانچ سو دے دیے۔ دوست نے ہوٹل ڈراپ کیا اور میں اگلے دن کی میٹنگ کی تیاری کرنے لگا۔

صبح اوبر سے گاڑی منگوائی۔ ہوٹل سے باہر نکلا۔ اوبر والا سڑک پار کھڑا تھا۔ مجھے سڑک پار کرنے اور کتوں سے بہت ڈر لگتا ہے۔ بڑی احتیاط سے سڑک پار کر کے گاڑی تک پہنچنے والا ہی تھا کہ ایک کتا کہیں سے بھاگتا ہوا آیا۔ میں تو جہاں تھا وہیں جم گیا لیکن سائیڈ سے آنے والا موٹر سائیکل سوار نہ رکا۔ موٹر سائیکل مجھ میں لگی اور میں گاڑی میں جا لگا۔ ٹانگ میں شدید ٹیس اٹھی اور پھر ہوش نہ رہا۔

آنکھ کھلی تو کسی اسپتال میں لیٹا تھا۔ ٹانگ پر پلاسٹر چڑھا ہوا تھا اور سامنے سفیر کرسی پر براجمان تھا۔ آنکھوں میں معنی خیز چمک لیے کہنے لگا ”دیکھا اسامہ بھائی! مرشد نے کرم کیا، آپ کے پانچ سو قبول ہو گئے۔ ٹانگ ہی تو ٹوٹی ہے۔ شکر ہے جان بچ گئی۔ مجھے سمجھ آ گئی تھی کہ قبول تو میرے صرف پانچ سو ہی ہوئے تھے، لیکن کون سے؟!

Facebook Comments HS

خاور جمال

خاور جمال 15 سال فضائی میزبانی سے منسلک رہنے کے بعد ایک اردو سوانح ”ہوائی روزی“ کے مصنف ہیں۔ اب زمین پر اوقات سوسائٹی میں فکشن کے ساتھ رہتے ہیں۔ بہترین انگریزی فلموں، سیزن اور کتابوں کا نشہ کرتے ہیں۔

khawar-jamal has 54 posts and counting.See all posts by khawar-jamal