آئندہ نسلوں کا مستقبل: عالمی خطرات


آج دنیا کو تین بڑے خطرناک مسائل درپیش ہیں اولا ”ماحولیاتی تغیرات، دوئم کیمیائی و نیوکلیئر ہتھیار، سوئم پلاسٹک کا استعمال اور اس کے مابعد اثرات۔

ماحولیاتی تبدیلیوں کی مختلف وجوہات ہیں جن میں آبادیوں میں بے محابہ اضافہ، آبادی میں اضافہ ہونے سے کئی بڑے مسائل جنم لیتے ہیں۔ شہر بے ہنگم طور پہ بڑھ گئے ہیں اور شہری مناسب منصوبہ بندی مفقود ہے، ٹریفک میں بے تحاشا اضافہ ہونے سے گاڑیوں کا استعمال ہونے سے سانس کی بیماریاں، کینسر اور دیگر امراض میں اضافہ ہوا ہے، لوگوں کا وقت زیادہ سفر کرنے سے غیر متعلقہ کاموں میں صرف ہوجاتا ہے، چونکہ ہر فرد جلدی کا شکار ہوتا ہے نتیجتاً اکثر حادثات رونما ہوتے ہیں، زیادہ پٹرولیم استعمال ہوتا ہے جس سے شہری منظرنامہ دھندلا اور گدلا ہوجاتا ہے، اور دیگر کئی ایک مسائل جن سے آپ بخوبی آگاہ ہیں۔

دوئم کیمیائی و نیوکلیئر ہتھیار جس رفتار سے عام ہوئے اس سے نسل انسانی کے صفحہ ہستی سے مخدوش ہونے کے خطرات دوچند ہو گئے ہیں۔ اب بڑی عالمی طاقتوں کے درمیان جو محاذ آرائی شروع ہو چکی ہے تو الامان الحفیظ۔ کسی بھی معمولی سی غلطی سے بھی گلشن و باغات صحرائی منظر پیش کر سکتے ہیں۔ یوکرائن کے شہر زاپوپیرزیا Zaporizhzhia میں براعظم یورپ کا سب سے بڑا ایٹمی پلانٹ واقع ہے۔ روسی افواج نے جنگ کے روزاول سے ہی اس کا گھیراؤ کیا ہوا ہے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ شاید اس وسیع و عریض عمارت میں یوکرائن آرٹلری کے ہتھیار موجود ہیں۔

اب تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اس سہولت گاہ کے اردگرد مائن فیلڈ Minefield بچھا دی گئی ہے اور روس اس پر آرٹلری فائر کر کے اس کو اس حد تک زچ کرنا چاہتا ہے کہ یوکرائنی افواج اس شہر کو روسی سلطنت کا حصہ تسلیم کر لیں۔ کیونکہ وہ جوابی فائر کر کے پورے یورپ کی تباہی کا پیش خیمہ نہیں بنانا چاہتا۔ ادھر شمالی کوریا دھڑا دھڑ اپنے نے نئے میزائل بنا کر اپنے گودام بھر رہا ہے، امریکی چھیڑ خانی نے چین جیسے کم گو ملک کو جنگی ماحول بنانے پر اکسا دیا ہے، اگر خطے میں اس طرح کے واقعات رونما ہوئے تو پھر کئی ایک۔ دوسرے ہمسائے ایک دوسرے سے پرانے حساب چکانے سے بھی نہیں چونکیں گے۔ عالمی امن و سکون غارت ہونے کے سمجھ لیجیے روشن امکانات ہیں۔

سوئم پلاسٹک کا استعمال قریباً 1968 سے عام ہوا، اب صرف امریکہ میں فی گھنٹہ 25 لاکھ پلاسٹک بوتلوں کا استعمال کیا جاتا ہے جو پانی پینے کے بعد زمین کے حوالے کردی جاتی ہیں، پلاسٹک سمندر، دریاؤں اور فضاؤں میں اپنی تباہ کاریوں کے بعد مچھلی کے پیٹ اور انسانی سینوں میں بھی گھس گیا ہے جس سے خوفناک بیماریاں لاحق ہو رہی ہیں، سانس اور گردے متاثر ہو رہے ہیں، کینسر عام ہو رہا ہے۔ یہ موذی پلاسٹک دنیا میں فنا ہونے کے لئے کم از کم 400 سال لیتا ہے اور مکمل طور پہ پھر بھی ختم نہیں ہوتا۔ اس کا ایک حل گے کہ خلوص نیت سے اس کی پیداوار پہ پابندی لگائی جائے اور دنیا کی بربادی شاید دیر کے لیے ملتوی ہو سکے۔

Facebook Comments HS