عمران خان صاحب کو ابھی سے تیاری شروع کر دینی چاہیے


پی ٹی آئی کے چیئرمین، عہدیداران، ورکرز اور جزوی میڈیا پرسنز کو یقین ہو چلا ہے کہ آئندہ حکومت سازی میں پاکستان تحریک انصاف کی کافی اچھی پوزیشن ہو گی اور وہ تقریباً ً دو تہائی اکثریت سے آئندہ حکومت بنائے گی۔ اور اس کا جواز وہ سیاسی جلسوں میں عوامی جوش و جذبے اور پاکستان تحریک انصاف کے سیاسی بیانیے کی عوامی قبولیت کو قرار دے رہیں۔ اس کا ایک عملی مثال پاکستان تحریک انصاف کے لوگ پنجاب کے ضمنی الیکشن میں اپنی کارکردگی کو قرار دیتے ہیں۔

ان مفروضوں پر مبنی منظر مزید آئندہ مہینے ستمبر میں قومی اسمبلی کے نو حلقوں کے الیکشن رزلٹ آنے کے بعد عیاں ہو جائے گا۔ پاکستان تحریک انصاف چیئرمین عمران خان صاحب اپنے کچھ انٹرویوز میں گزشتہ حکومت میں نا صرف اپنی غلطیوں کا اعتراف کر چکے ہیں بلکہ آئندہ ان غلطیوں نہ دہرانے کے عزم کا اظہار بھی کر چکے ہیں۔ مگر سب سے سنگین اعتراف ”کہ ہماری تیاری نہیں تھی“ یہ وہ غلطی ہے جو ایک سیاسی پارٹی، اور خصوصاً اس وقت جب اس کے اقتدار میں آنے کے چانسز یقینی ہوں، کو کبھی بھی نہیں کرنی چاہیے۔ وہ ہے حکومت سازی کی تیاری، ترجیحات اور حکومتی ٹیم کی تیاری۔ کیونکہ کچھ غلطیاں ایسی ہوتی ہیں جن میں معافی کی گنجائش نہیں ہوتی۔

آج جب چیئرمین صاحب اپنی سیاسی سرگرمیوں اور پے در پے سیاسی کامیابیوں سے آئندہ اقتدار کو یقینی بنا رہیں ہیں تو لازم ہے کہ چیئرمین صاحب اس جانب بھی دھیان دیں کہ جو نعرہ ”حقیقی آزادی“ وہ اپنی سیاسی سرگرمیوں کی بنیاد بنا رہے ہیں اس کو شرمندہ تعبیر کیسے کرنا ہے۔ کون لوگ ہوں گے، کون کیا ذمہ داریاں ادا کرے گا، ترجیحات کیا ہوں گی، منشور میں کیا ہو گا اور منشور میں کیے گئے وعدوں پر عملدرآمد کیسے ہو گا، پاکستان کی منزل کیا ہو گی، اس منزل کے حصول کے لئے عوام سمیت دیگر ایکٹرز کا کردار کیا ہو گا، کمزور طبقات کو کیسے مضبوط کرنا ہے اگرچہ ایک سیاسی جماعت زیادہ بہتر جانتی ہوتی ہے اور امید ہے وہ تیار بھی ہوں گے۔ مگر آج کے دن تک جو چیز واضح نظر آ رہی ہے وہ صرف اقتدار کا حصول ہے۔ کیونکہ حقیقی آزادی کے حصول کا روڈ میپ کیا ہو گا وہ واضح نہیں ہے۔

تیاری نہ ہونے کی ایک واضح مثال موجودہ پی ڈی ایم جماعتوں کا اتحاد ہے جس کو اقتدار میں آنے کی اس قدر جلدی تھی کہ انہوں نے نہیں دیکھا کہ ملک کے موجودہ مسائل کیا ہیں، ان کا حل کیا ہے، کون کیا ذمہ داری ادا کرے گا، حکومت کی ترجیحات کیا ہوں گی، عوامی ریلیف اور ملکی استحکام کیسے ممکن بنایا جائے گا، پاور شیئرنگ کا فارمولا کیا ہو گا۔ صرف ایک ترجیح جو واضح تھی وہ تھے وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اطلاعات کے نام۔ جس نے بعد کے تین مہینوں میں ثابت کیا کہ موجودہ حکومت کی ترجیحات کیا تھیں۔

اس کے علاوہ وفاقی وزیر قانون کی کارکردگی نے حکومت کے ذاتی اور وفاقی وزیر خزانہ کے کارکردگی نے عوامی مفادات کا تحفظ واضح کر دیا۔ مزید حکومتی کارکردگی جاننے کے لئے راقم پچھلے پندرہ دن سے ٹی وی اور اخبار کو دیکھ رہا ہوں مگر وزارت داخلہ اور وزارت اطلاعات مجال ہے عوام کو علم ہونے دیں کہ حکومت کچھ عوام کے لئے بھی کر رہی ہے۔ ایک وقت تک موجودہ وفاقی حکومت بھی یہ جواز فراہم کرتی رہی کہ ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ حالات اس قدر خراب ہیں۔ اوہ بھئی کیا تمام سیاسی پارٹیاں ایسے ہی کام کرتی ہیں؟

امروزہ تاریخ تک پاکستان تحریک انصاف اپنا سیاسی بیانیہ عوام کو ازبر یاد کروا چکی ہے اور عوامی امنگیں بھی حقیقی آزادی کے خواب کو شرمندہ تعبیر ہوتا ہوا دیکھنا چاہتی ہیں اور اس کے لیے عوام 25 مئی جیسے پر تشدد واقعات کے بعد بھی عمران خان صاحب کا ساتھ دے رہیں تو برائے مہربانی اب کی بار وقت کو غنیمت جانتے ہوئے وزارت اطلاعات کی واجبی کارکردگی پر انحصار کرنے کی بجائے پہلے سے تیاری کریں کہ حکومت بننے کا اور حکومت نہ بننے کا لائحہ عمل کیا ہو گا۔ اس کے لئے پارٹی چیئرمین کو سر درد لینے کی ضرورت نہیں ہے بس اپنی پارٹی سے کچھ سنجیدہ لوگوں کی ذمہ داری لگائیں اور ان سے کام کروائیں۔ اور سنجیدگی کا تقاضا یہ ہے کہ آپ کا ہوم ورک پاکستان کے لئے ہو گا نہ کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے لیے۔

Facebook Comments HS