یہ دھرتی نوجوانوں کی دھرتی ہے


جتنا یہ ملک عظیم ہے اتنا ہی اسے اللہ تعالیٰ نے عظیم اور بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے۔ اگر ہم اس مملکت خداداد میں موجود اللہ میاں کی نعمتوں کو گننا چاہیے تو گن نہیں پائیں گے۔ فلک پوش پہاڑ، بہتے چمکتے دریا، لہلہاتے کھیت، سحر انگیز صحرا، خوبصورت جنت نظیر وادیاں اور سب سے بڑھ کر خوبصورت لوگ۔

دھرتیوں کی خوبصورتیاں ان میں موجود لو گوں کے دم سے ہیں اور جب وہ خداداد صلاحیتوں کے مالک ہوتے ہیں تو سونے پہ سہاگہ۔ انہی بے شمار نعمتوں میں سے ایک نعمت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے پیارے ملک کو نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد سے نوازا ہے اور پاکستان ان خوش قسمت ممالک میں سے ایک ہے جس کی آبادی میں نوجوانوں کی ایک کثیر تعداد پائی جاتی ہے۔

نوجوان کسی بھی ملک کی تقدیر بدلنے میں ہراول دستے کا کردار ادا کرتے ہیں ان کے اندر کام کرنے کی لاتعداد صلاحیتیں ہوتی ہیں جن کو استعمال میں لاتے ہوئے ایک ملک دن دگنی رات چگنی ترقی کرتا ہے۔ ایک طرف نوجوان زمانہ امن میں اپنے قلم، ہنر اور صلاحیتیوں سے ملک کی خدمت کر کے اس کی عظمت، ترقی اور خوشحالی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں تو دوسری طرف حالت جنگ میں اپنے سینوں پر گولیاں کھا کر دھرتی پر اپنی جان نچاور کر کے اسے دشمنوں سے بچاتا ہے۔

کسی ملک کے مستقبل کی بنیاد اس بات پر ہے کہ اس کے نوجوانوں میں سوچ اور معیار کس قسم کا پایا جاتا ہے اگر نوجوانوں کی سوچ کا معیار بلند ہے تو ظاہر ہے اس ملک کے مستقبل کا معیار بھی بلند اور تابناک ہو گا اور اگر اس کے نوجوانوں کی سوچ کا معیار پست ہو گا تو اس کا مستقبل انتہائی مایوس کن ہو گا۔ لہذا کسی ملک و قوم کے مستقبل کو تابناک بنانا ہے اسے محفوظ ہاتھوں میں دینا ہے تو اس کے نوجوانوں پر خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔

ہمارے ملک کی آدھی سے زیادہ آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے یہ ہمارے پاس ایک سنہری موقع ہے کہ نوجوانوں کی اتنی زیادہ آبادی کو ملک کی ترقی و خوشحالی میں مصروف عمل کریں اور اس کے لئے ضروری ہے کہ نوجوانوں کی اس قدر بڑی قوت کو ہم مختلف شعبہ جات میں مختلف ہنروں سے لیس کر کے ملک کو معاشی طور پر مستحکم کرے۔ نوجوان ملک سے محبت کرنے والے ہوتے ہیں ان کی اس محبت کو استعمال میں لاتے ہوئے ملک سے قوم پرستی، صوبائیت، فرقہ بندی جیسے ناصور کو ختم کیا جاسکتا ہے۔ ہمارے لئے ضروری ہے کہ نوجوان نسل کو منفی سرگرمیوں اور غیر ضروری سرگرمیوں سے بچا کر انہیں اپنے گھر، قبیلہ علاقے اور ملک کے مستقبل کے لئے تیار کریں۔ ایسے تمام محرکات کا تدارک کرنا ہو گا جو نوجوانوں کی بے راہروی کا باعث بنے۔

بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح نے نوجوانوں کو اس ملک کا قیمتی اثاثہ قرار دیا ہے اور نوجوانوں کو ان کی اصل حیثیت اور کام کی نشاندہی اس نے ان الفاظ میں کی ہے۔

” آپ کو یاد ہو گا میں نے اکثر اس بات پر زور دیا ہے کہ دشمن آپ سے آئے دن ہنگاموں میں شرکت کی توقع رکھتا ہے۔ آپ کا اولین فرض علم کا حصول ہے جو آپ کی ذات، والدین اور پوری قوم کی جانب سے آپ پر عائد ہوتا ہے، آپ جب تک طالب علم رہیں اپنی توجہ صرف تعلیم کی مرکوز رکھیں۔ اگر آپ اپنا نے طالب علمی کا قیمتی وقت غیر تعلیمی سرگرمیوں میں ضائع کر دیا تو یہ کھویا ہوا وقت کبھی لوٹ نہیں آئے گا“ ۔

بابائے قوم کی یہ نصیحت ہی ہمارے نوجوانوں کے لئے کافی ہے جس میں اس نے نوجوانوں کو سب سے اہم ذمہ داری کی نشاندہی کی ہے اور وہ ذمہ داری ہے حصول علم۔ یعنی حصول علم کے بعد ہی ہم بہتر طریقے سے اپنے گھر، علاقے اور ملک کی خدمت کر سکتے ہیں۔ لہذا نوجوانوں کو اپنی تمام تر توانائیاں اس ملک کی خدمت کے لئے وقف کر دینی چاہیے۔ یہ نوجوان ہی اس ملک کا مستقبل ہے اور ہمیں اس مستقبل کو اگر تابناک بنانا ہے تو آج کے نوجوان پر خصوصی توجہ دینا ہوگی۔

Facebook Comments HS