امارات کا ٹریفک نظام اور پاکستانیوں کا کارنامہ!
آٹھ اگست کو عربی روزنامہ الخلیج میں مالی موازنہ کرنے والی ایک ویب سائٹ yllacompare کی طرف سے جاری کی گئی ایک رپورٹ پڑھی، جس میں بتایا گیا تھا کہ رواں سال متحدہ عرب امارات میں بہترین ڈرائیونگ کے اعتبار سے پاکستانی ڈرائیورز سب سے بہترین ثابت ہوئے ہیں۔
یہ رپورٹ سڑکوں پر پیش آنے والے حادثات کی وجہ سے مختلف نیشنیلٹی رکھنے والے ڈرائیورز کا انشورنس کمپنیوں کے پاس جمع ہونے والی معاوضے کی درخواستوں کی بنیاد پر تیار کی جاتی ہے، رپورٹ سے قبل جائزے میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ مختلف قومیت رکھنے والے ڈرائیوروں کی طرف سے اوسطاً کتنی درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔
اس سے پہلے 2020 میں بھی پاکستانی ڈرائیورز یو اے ای میں پہلے نمبر پر آ گئے تھے اور پورے سال میں صرف 2.5 فیصد پاکستانی ڈرائیورز کی طرف سے انشورنس کمپنیوں کے پاس معاوضوں کی درخواستیں جمع کروائی گئی تھیں تاہم اس کے بعد حیران کن طور پر، 2021 میں، یہ شرح 9.2 فیصد تک بڑھنے کی وجہ سے پاکستانی ڈرائیورز پہلی پانچ قومیتوں کی فہرست میں جگہ بنانے میں ناکام رہے تھے ”مذکورہ خبر سے چند دن قبل عربی اخبارات میں عبدالغفور ولد عبد الحکیم نامی ایک پاکستانی ڈیلیوری بائیک ڈرائیور کے بارے میں بھی یہ خوش کن خبر چھپی تھی کہ انہوں نے اپنی موٹر سائیکل کو روڈ کے ایک طرف محفوظ جگہ پر کھڑی کر کے جلدی سے روڈ کے بیچ سے کنکریٹ کے دو بلاکس ہٹا دیے تھے جو کسی بھی وقت بے دھیانی سے آنے والے ڈرائیوروں کے لیے حادثے کا سب بن سکتے تھے۔ ان کا یہ کارنامہ کیمرے کی آنکھ نے محفوظ کر لیا تھا جس کے بعد ان کی ویڈیو وائرل ہوئی، جس پر حکومت اور کمپنی دونوں کی طرف سے ان کی بڑی حوصلہ افزائی کی گئی۔
حقیقت یہ ہے کہ ٹریفک کے جملہ قواعد و ضوابط قرآن و حدیث ہی سے ماخوذ ہیں۔ چنانچہ قرآن کریم نے زمین پر اکڑ کر چلنے سے منع فرمایا ہے اور رحمن کے بندوں کی صفت یہ بتائی ہے کہ وہ زمین پر عاجزی سے چلتے ہیں، ظاہر ہے یہ جس طرح پیدل چلنے کو شامل ہے اسی طرح گاڑی چلا کر چلنے کو بھی شامل ہے۔ اسی طرح قرآن کریم نے اپنی آواز پست رکھنے کا حکم دیا ہے۔
جس طرح اپنی آواز ضرورت کے مطابق پست اور بلند کرنی چاہیے اسی طرح ہارن، یا ریڈیو وغیرہ کے والیم کا استعمال بھی بقدر ضرورت ہی ہونا چاہیے تاکہ کوئی راہگیر ڈسٹرب نہ ہو۔ کئی احادیث میں پتھر، کانٹا، ہڈی وغیرہ کسی بھی تکلیف دہ چیز کو راستے سے ہٹانے کو صدقہ اور ایک حدیث میں اس کو سب سے زیادہ نفع دینے والا عمل قرار دیا گیا ہے، بلکہ مسلمان کی شان ہی یہ بیان کی گئی ہے کہ اس کے کسی بھی عمل سے دوسروں کو تکلیف نہیں پہنچنی چاہیے۔
متحدہ عرب امارات میں سال میں ایک دو بار ٹریفک قوانین کے حوالے سے پورے ملک میں خطبہ جمعہ بھی دیا جاتا ہے اور اس کے علاوہ ائمہ حضرات اس موضوع پر چند ایک بار لیکچر بھی دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں کے ٹریفک سسٹم کی دنیا بھر میں مثال دی جاتی ہے۔
اپنے پاکستانی بھائیوں کے بارے میں درج بالا دونوں خوش کن خبریں پڑھ کر بڑی خوشی ہوئی اور یقیناً اس سے ہمارے ملک کا نام بھی روشن ہوا۔
لیکن سوال یہ ہے کہ ہمارے اپنے ملک میں ٹریفک کا نظام درہم برہم کیوں ہے؟ روز مرہ خطرہ بننے والے دسیوں اسباب کو ہم نظر انداز کیوں کرتے ہیں؟ اور یہی پاکستانی ڈرائیورز جب کسی مہذب اور قانون کی بالادستی پر یقین رکھنے والے ملک میں جاتے ہیں تو ان کا کردار مثالی کیوں بن جاتا ہے؟ کیا ہمارے ارباب اختیار اور خود ہم عوام نے کبھی اس سوال پر غور کرنے کی زحمت کی ہے؟
راقم گزشتہ گیارہ سال سے یو اے ای میں حسب ضرورت گاڑی چلا رہا ہے۔ اتنی مدت گاڑی چلانے کے بعد اگر میں یوں کہوں کہ پاکستان کا ٹریفک نظام، یو اے ای کے ٹریفک نظام سے لگ بھگ پچاس سال پیچھے ہے تو شاید غلط نہیں ہو گا۔
یہاں عموماً لوگ اپنی لائن میں گاڑی چلاتے ہیں، سیٹ بیلٹ باندھنے کی پابندی کرتے ہیں۔ اشارہ نہیں توڑتے۔ سڑک پار کرنے والوں کی خاطر گاڑی روک لیتے۔ پیدل چلنے والوں کا خیال رکھتے ہیں۔ سڑک پر کچرا نہیں پھینکتے۔
یہاں بلا وجہ بے ہنگم شور اور ہارن کی آوازیں سنائی نہیں دیتیں، بلکہ کسی حادثے کا خطرہ ہو تو تب ہی ہارن بجایا جاتا ہے ورنہ عموماً لائٹ کے اشارے سے ہی کام چلایا جاتا ہے۔ دو تین کلومیٹر کی مسافت پر گاڑیوں کی لمبی قطار بھی لگ جائے تب بھی ڈرائیورز ایک دوسرے سے آگے بڑھنے یا ٹریک چینج کرنے کی جسارت نہیں کرتے اور اگر کوئی کر لے تو ایسے ہی حالات میں عموماً لوگ ہارن بجا کر اس کے اس فعل کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں۔ گاڑیاں غلط جگہ پارک نہیں کی جاتیں۔
ٹرکوں، ٹریلوں کے روڈ پر نکلنے کے لیے وقت بھی مقرر ہے اور ٹریک بھی متعین ہے، جس کی خلاف ورزی پر انہیں چالان کیا جاتا ہے۔ سال بعد نہ صرف یہ کہ ہر گاڑی کی رجسٹریشن ضروری ہے بلکہ اس سے پہلے کمپیوٹرائزڈ چیک اپ بھی شرط ہے، تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ گاڑی چلانے کے قابل ہے یا نہیں، اگر نہیں تو تشخیص شدہ خرابی کی اصلاح کے بعد ہی رجسٹریشن کا عمل مکمل ہو سکتا ہے۔
متحدہ عرب امارات کے اس باوقار اور خوبصورت ٹریفک نظام کے بارے میں اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اس کے پیچھے صرف اور صرف بھاری بھرکم جرمانوں کا خوف ہے تو اس بات کو سو فیصد درست نہیں کہا جا سکتا۔ بلاشبہ جرمانے اور ان کا بلا تفریق ہر کسی سے وصولی بھی ایک بڑی وجہ ہے لیکن جن بنیادوں پر یہاں کا مثالی ٹریفک نظام کھڑا ہے اس میں اصل کردار ڈرائیونگ لائسنس کے موثر اور شفاف نظام کا ہے۔
چنانچہ اول تو اٹھارہ برس تک لائسنس کے حصول کا تصور ہی نہیں۔ اس کے بعد ڈرائیونگ کا امتحان پاس کرنے کے لیے تھیوری اور پریکٹیکل پر مشتمل دو الگ امتحانات میں کامیابی شرط ہے۔ تھیوری ٹیسٹ میں سڑک کے نشان، جنکشن، تصاویر اور اشکال کی مدد سے روڈ کے قواعد و ضوابط اور کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے طریقہ کار پر جانچ پڑتال کی جاتی ہے۔ تھیوری کا یہ امتحان گویا ایک قسم کا پرچہ حل کرنا ہے جس میں مختلف اشکال کی صورت میں بہت سے سوالات دیے جاتے ہیں جن کے سامنے چار پانچ ممکنہ جوابات میں سے صحیح جواب کی نشاندہی کرنی پڑتی ہے۔
آج سے گیارہ سال قبل پچیس میں سے بیس سوالوں کے ٹھیک جوابات دینے والے کو پاس تصور کیا جاتا تھا، لیکن اب سنا ہے سوالات کو بڑھا دیا گیا ہے۔ اس امتحان میں پاس ہونے کے بعد پریکٹیکل امتحان کی تیاری کے لیے ایک تصدیق شدہ انسٹرکٹر کے ساتھ گاڑی چلانے کی کلاسز مکمل کرنی ہوتی ہیں، اور پھر آخری مرحلے میں ممتحن سیکھنے والے سے ٹریفک میں گاڑی چلوا کر امتحان لیتا ہے، جو عام طور پر گاڑی پارک کرانے، کسی چورنگی سے گزرنے، یوٹرن لینے، لائن چینج کرنے اور ڈرائیونگ سے متعلق جنرل سوالات پر مشتمل ہوتا ہے۔ جب ممتحن پوری طرح مطمئن ہوجاتا ہے تو اس کے بعد ہی سیکھنے والے کی فائل پر دستخط کر کے لائسنس جاری کرنے کا آرڈر دیتا ہے۔
اب بتائیے جہاں پر شعور، آگہی، دوسروں کی تکلیف کا احساس، دوسروں کو اپنے سے بہتر انسان سمجھ کر انہیں ترجیح دینا، آس پاس کا خیال رکھنا، سڑکوں کو صاف ستھرا رکھنا اور محفوظ ڈرائیونگ کے اطوار سیکھنا ڈرائیونگ کورس کا بنیادی حصہ ہوں وہاں کا ٹریفک سسٹم قابل رشک کیوں نہیں ہو گا؟
المیہ یہ ہے کہ ہمارے ارباب اختیار دسیوں قابل تقلید چیزوں کو چھوڑ کر صرف جرمانے پر نظر جما لیتے ہیں جبکہ عوام کا حال یہ ہے کہ ایک طرف وہ شدید غربت سے بے حال ہیں، جس کی وجہ سے جرمانے کا لفظ سنتے ہی آگ بگولہ ہو جاتے ہیں اور دوسری طرف انہوں نے قانون پر عمل نہ کرنے کی قسم کھا رکھی ہے۔
سو ضرورت اس بات کی ہے کہ ساری خرابیوں کو زیر غور لا کر مناسب حل تلاش کیا جائے، قانون پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے اور عوام میں شعور کو اجاگر کیا جائے، ورنہ ہم ٹریفک کے اس بے لگام ہجوم میں ہمیشہ کے لیے خوار ہوتے رہیں گے۔


