عہد ازل کی مثل جہان نو


انسانی معاشرت کی نظم کاری و عمرانی رویے کے پیش نظر اس سوال کی اشد ضرورت محسوس کی جاتی کہ ایسا کون سا نظم ترتیب و تدویب دیا جائے کہ جس سے انسانی فطرت کی جنبش اضداد اور چپقلش و کشاکش و باہمی نزاع کا انسداد ممکن الوقوع ہو۔

ایک طرف اقرار کیا جاتا ہے کہ ہم انسانیت کے مخیر اول ہیں مگر ثانیاً یہ بات بھی نشان تضحیک کر دی جاتی ہے کہ انسانیت کے فوائد و خواص میں ادعا مستفیض کیا ہو سکتا ہے جس کے لیے کبھی مذہب، فلسفہ، علم انسانی کی فطرانہ تشریح کو موضوع سخن بنایا جاتا ہے اور کبھی ادعا تعقلی کی جگالی کی جاتی ہے۔

مگر افسوس در افسوس کہ بشری دماغی قوت اس قدر قابل گراں کب کی ہو گئی کہ وہ محض تسکین نفس کا ہی طواف بن گئی۔

خیر مذکورہ بالا کو بالائے طاق رکھتے ہوئے عرضی یہی ہے کہ فکر کی تفاوت میں درجے دانستگی میں چوٹ خفیف کا آنا یکسر پسماندگی نہیں سمجھ لینا چاہیے۔

آج کل مذہب جس کو انسانیت کا معمار اول یا مخزن تعلم خیال کیا جاتا ہے وہ تعقل و باطنی انسانی وجود کے کس باب فہم میں کھڑا ہے؟ مروجہ قومی و جدید عہد کے مذاہب کا حال بھی اس کوے کی طرح ہے جو چالاک لومڑ کی نمائش سے متاثر ہوتے ہوئے خوشامد کی دلدل میں پھنس کر حقیقیت کو بھول جاتا ہے اور موشگافی خود نمائیت کا شکار ہو جاتا ہے۔

قدیم و جدید تخلیف نوعی مذاہب انسانی نو زائیدگی کے مشغل طفل کے مشابہ ہیں۔ اب یہ مشاقی و بصائر کی موجوں میں کہاں مکانی قیوم و استقلال کا جواز پائے۔
وہمی و تہماتی خیالات کی پاداش میں طلسمات آرائی جس کی آغوش میں مملو ہو وہاں کرن آتش کی جلوہ گری کہاں زیست ہو پائے گی۔

حالیہ انسانی روش کا مسکن کہاں پنپ پائے گا کہ چمن گل اب ریزہ ریزہ ہو گیا۔ وہ جوہر جہاں کانٹا و پھول باہم مٹ جاتے تھے وہاں اب چمن بہار بھی تضحیکی ہو چکا ہوا۔
موجودات ایزدی اب انقباض و رنجش کے عالم میں بے یارو مددگار ہو چکی ہیں۔ فقر و عمل جہان سکون زار سے اب کوچ کر چکا ہے۔
اب نئے عالم کی بو بھی گندھک کی مماثل زہر آلود ہو چکی ہے۔ وہ وحدت کا شیرازہ اب کثرت پرستی کی درگاہ کا بھکاری بن چکا ہے۔

نہ جانے عالم نو کب کا منتظر کہ وہ وحدت جو ازل سے نا قابل تقسیم تھی اب کہاں یکائی کا دامن چھو پائے گی۔
وہ بھیڑیں جن کو عیسیٰ نبی نے دربدری و بھٹکی راہ پر پاتے مسکن وحدت و ازل مقام پر پہنچائیں اب وہ طرز آدم فنائیت میں غوطہ زن ہو چکی ہے۔

وہ پیغمبری جو راہ انسانی کو متعین و ہموار کرنے واپس ازلیت کی طرف جانے کا پیغام لے کر آتی تھی وہ اب صحرا و بیاں بان میں امکان غیر یقینی کا منظر پیش کر رہی ہے۔ وہ شمع جو جلتی تھی ایک راہ مسافر کی منزل میں اب کہاں وہ منتظر آفاقی مسافر کی۔

کہتے ہیں خزاں دیدہ نشان ہے بہار آگین کا۔ مگر اب کب کی ہو چکی خزاں وہ بہار چمن کہاں ہے۔

پہلے کبھی نہیں ہوا خزاں اتنی دیر ٹھہری ہو۔ ہاں کبھی نہیں وہ پتے جو تنے سے علیحدہ اس وجہ سے ہو جاتے تھے کہ اب گرنا باعث سجدہ ریزی ہے تاکہ در خدا ابلیس کی طرح اکڑے ہی نہ رہیں۔ بلکہ گر کر گلشن وحدانی قائم کر سکیں۔ اب بہت دیر ہو چکی پتے کیا درخت بھی گر چکا ہے مگر وہ خوشبو بہار نہ آ سکی۔ لگتا جلد وہ روح صور پھونکی جانے والی جس کا منتظر ہر ذرہ کائنات ہے۔ اب انسان اپنے شباب میں تنومند ہو چکا ہے کہ وہ پیغام جو عہد طفولیت سے زمانہ شباب تک اسے ملا کرتا تھا وہ زمانہ پیغمبری اب بے تاب و سرخرو ہو چکا ہے۔

وہ نوید جو صحائف سماوی میں ملتی تھی جو دور موسوی اور دور محمدی میں ملتی تھی اب وہ ساعت آ چکی کہ ایک زمانہ ازل کی مثل عہد جوان کی خوشنودی آن ہر سو پھیل جائے گی۔ وہ صحائف و اوراق جو اخروی زمانہ کی پیدائش میں پیغمبر نویدی اور جہاں آتش زیر پا کا پیغام سنایا کرتے تھے اب وہ نور حقیقوی کا نظارہ ہر عالم میں کر پائیں گے۔

مقام ازلیت کے سائے تلے ہر لشکر یکسر بے تابی کا جو انتظار کر ر ہا تھا وہ اسی دھارے سے ملنے جا رہا ہے جس کا مخزن وہی الوہی طاقت ہوگی جو اپنے اندر دوامیت کا جام لیے ازل سے موجود ہے۔

انسانی تہذیبی و ثقافتی کہانی جو مسلم و کافر کے ورد و وظائف میں مشغول تر ہے اب احدیت کی تسبیح میں پرو دی جائے گی۔ وہ فلسفہ جو دانائی سے محبت کا مدعی ہے اب اس تلاش میں مزید سر گرداں نہیں ہو گا کیونکہ زمانہ حقیقوی آن پہنچا ہے۔

مادیت و تصوریت پسند اشخاص اب مزید دنیائے تجرد و تقید سے جڑے نہیں رہیں گے اب روح باطن ان کے اندر انڈیل دی جائے گی۔

معاشرے کے اجزا میں اب تفاخر و پشیمان طرز کی سوچ اپنی موت آپ مرنے والی ہے۔ معاشرتی پہلو سے اب کوئی حاکم و محکومیت کا درس نہیں سن پائے گا۔ خواب کی دنیا کا بسیرا اب حقیقت کی دنیا سے پرے ہٹ جائے گا۔ کوئی نسل برتر و کمتر کے اصولوں کی آماجگاہ نہیں بن پائے گی۔ پیسہ و دولت کا تصور پس پشت ڈال دیا جائے گا۔ ایک فرد دوسرے فرد کی ملکیت نہیں ہو گا بلکہ ہر ایک غنی و خودمختار ہو گا جو نعرہ لایحتاجی کی صدا بلند کرتا نظر آئے گا۔ بھوک پیاس کی شدت، جانداروں کا قتل عام، عزت و آبرو کی مسخی و بلکتی حالت اب قریب الختم ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

حامد سہیل کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
3 Comments (Email address is not required)
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments