عہد ازل کی مثل جہان نو

انسانی معاشرت کی نظم کاری و عمرانی رویے کے پیش نظر اس سوال کی اشد ضرورت محسوس کی جاتی کہ ایسا کون سا نظم ترتیب و تدویب دیا جائے کہ جس سے انسانی فطرت کی جنبش اضداد اور چپقلش و کشاکش و باہمی نزاع کا انسداد ممکن الوقوع ہو۔ ایک طرف اقرار کیا جاتا ہے کہ ہم انسانیت کے مخیر اول ہیں مگر ثانیاً یہ بات بھی نشان تضحیک کر دی جاتی ہے کہ انسانیت کے فوائد و خواص میں

Read more

شب ظلمت سے طلوع آفتاب تک کی روداد

تحبب زندگی کی آغوش میں کیا وہ پل ہم پلہ ہو گیا ہے جس کی تلاش میں غم رسیدہ کا سماں چھٹ گیا ہو۔ کیا تمنا دلگی اب پختگی کے باب میں آتشین چنگیزیں نہیں بن گئی۔ حیات کے ایجابی و باطنی پہلوؤں سے اب کوئی توقع وابستگی کا دامن بچ گیا ہے۔ کیا عقل کے تسخر کے مناظر میں اب وقعت انسانیت بچی رہ گئی ہے۔ علم کی پیاس ہو یا دیوان جاوداں کیا کوئی راہگیر پردہ غیب سے

Read more