ایک لڑکی کی کہانی: اے خدا تو کہاں ہے؟


میں نے تو زندگی کو اتنے عجیب سے انداز میں دیکھا کہ زندگی سے ہی نفرت ہونے لگی اور لوگ جینے کے لئے ایک دوسرے کو ہی ٹھوکر مارنے لگے۔ وہ چاہتی تھی کہ سب خوش رہیں مگر یہ ناممکن سا لگنے لگا تھا۔

سب کو خوش رکھنا ایک فن ہے جو ہر کسی کو نہیں آتا۔
ہم لوگ بڑی باتیں کرتے ہیں جبکہ ہم اندر سے بکھرے ہارے ہوئے وجود رکھتے ہیں اور کوئی بتاتا بھی نہیں۔

میں ایک ڈاکٹر تھی مختلف لوگ میرے پاس آتے تھے تب ہی میں نے گل پری کو دیکھا معصوم سی مجھے ایک ہی نگاہ میں بھا گئی اس کی کچھ ہی دنوں میں شادی تھی مگر وہ اداس لگ رہی تھی نہ میں نے پوچھا نہ اس نے ہی کچھ بتایا اور چلی گئی۔

ایک مہینا گزرا تھا کہ اس کی امی ہارٹ اٹیک کی وجہ سے ہاسپیٹل میں ایڈمٹ ہو گئی۔

میں نے پریشان ہو کر ان کے ساتھ جو آئے تھے ان لوگوں سے جاننا چاہا دل کے دورے کے بارے میں تو اس کی بہن نے رو کر بتایا۔

” ڈاکٹر جی گل پری کا صدمہ تو کھا گیا اس کے شوہر نے شادی کی رات اسے گولی مار دی تھی“ ۔

اس کا جملہ اتنا اچانک تھا کہ وہ ہل کر رہ گئی کچھ بھی تو نہیں کہہ سکی اس کی امی بہتر ہو رہی تھیں لیکن اس کے دل میں بہت سے سوال مچل رہے تھے کہ ایسا کیا ہوا جو گل پری اپنی جان سے چلی گئی۔

ندا نے پوچھا تو اس کی بہن رونے لگی۔
” ڈاکٹر صاحبہ آپ ہمارے رسموں رواج کو نہیں جانتی اس کو ناحق مارا گیا“ ۔

یہ کہہ کر کہ وہ بدکردار ہے، اس کی پاکیزگی رات کو ثابت نہیں ہو سکی تھی تو اس کے شوہر نے غیرت کے جوش میں آ کر اسے گولی مار دی۔

ہائے میری معصوم بہن جس نے کبھی غیر مرد کی شکل نہیں دیکھی تھی وہ کیسے بدکردار ہو سکتی تھی مگر کوئی مانے تب نہ سب تو اس کے شوہر کو شاباش دے رہے ہیں جرگہ بیٹھا تو اس کو بری کر دیا۔

یہ کہہ کر اس کی بہن رونے لگی اور وہ خاموشی سے دل میں سوچنے لگی اے خدا تو کہاں ہے؟

کچھ دن گزرے وہ یہ بات بھول بھی جاتی اگر اس کے ہاسپیٹل میں ایک چھوٹی بچی جس کی عمر تقریباً بارہ تیرہ سال ہوگی وہ سونے کے زیورات میں لدی پھندی بے انتہا خوبصورت دکھائی دے رہی تھی اس کے ساتھ آنے والی بھی کچھ اسی طرح کے زیورات پہنے ہوئے تھی اس نے ایک ہی نگاہ میں پہچان لیا کہ وہ لڑکی جس کا نام ماہ نور تھا وہ بے حد خوفزدہ اور ہیسٹیریا کی مریض ہے اس کو نارمل کرنے میں دو ہی گھنٹے لگے لیکن وہ ہوش میں آ کے نہیں دے رہی تھی جس کی وجہ ندا کو اچھی طرح سمجھ میں آ رہی تھی کہ وہ ہوش میں آنا ہی نہیں چاہتی جبکہ اس کے اعصاب بیدار ہوچکے تھے مگر وہ بے ہوشی کی ایکٹنگ کر رہی تھی جس کا مطلب تھا کہ وہ یہاں سے جانا نہیں چاہتی تھی۔

” ماہ نور میں نے کمرے سے سب کو نکال دیا ہے تم مجھ سے بات کر سکتی ہو“ ۔

پھر بھی ماہ نور نے آنکھیں نہیں کھولیں تب ڈاکٹر ندا نے بہت کوشش کی اور آخرکار وہ اس کوشش میں کامیاب ہو گئی۔

ماہ نور نے آنکھیں کھول لیں سب سے پہلے اس نے اپنے اطراف میں دیکھا کمرا خالی ہے یا نہیں، پھر وہ آہستہ سے اٹھ بیٹھی۔
” آپ کون ہیں“ ۔
اس نے پوچھا۔

” میں تمہارا علاج کر رہی ہوں تم بے ہوش یہاں پر آئیں تھیں لیکن میں یہ بھی جانتی ہوں کہ تم بالکل صحتمند ہو زیادہ تر بے ہوش ہونے کی ایکٹنگ کرتی ہو ایسا کیوں ہے“ ۔

ماہ نور ایک دم گھبرا گئی اس کے ہاتھ پاؤں کانپنے لگے۔
” یہ بات آپ کی کو بتائیں گی تو نہیں؟“ ۔
وہ بہت ہی التجا انداز میں دیکھ رہی تھی۔
ظاہر ہے میں تمہاری دوست ہوں اور تمہاری مدد کرنا چاہتی ہوں تو میں کسی کو کیوں بتاؤں گی؟ ”۔

ڈاکٹر ندا نے اسے بھرپور یقین دلایا تو وہ کچھ مطمئن دکھائی دی۔
” کمرے کا دروازہ بند ہے نا“ ۔
بی جان تو اندر نہیں آئیں گی نا؟
اس نے بھرپور تصدیق چاہی۔

” تم مطمئن رہو تمہارے گھر والے یہ ہی سمجھ رہے ہیں کہ تمہیں ابھی ہوش نہیں آیا اور بتاؤ اس سب کی اصل وجہ کیا ہے؟“ ۔

ڈاکٹر ندا نے بے تابی سے پوچھا۔

” دراصل ڈاکٹر صاحبہ ہمارے گاؤں میں جو لڑکی چودھویں رات کو وڈیرے سائیں کے یہاں پیدا ہوتی ہے اس کو بہت مقدس مانا جاتا ہے اور وہ بھی سب سے چھوٹی سب اس کی عزت کرتے ہیں دنیا کی ہر آسائش دیتے ہیں بس انسان ہونے کا حق نہیں دیتے“ ۔

ماہ نور نے کہا۔
مطلب کیا ہے تمہارا اس بات سے ندا کی کچھ سمجھ میں نہیں آیا۔

” دراصل ہمارے گاؤں میں کوئی اتنا جانتا تو ہے نہیں وہ سمجھتے ہیں پاک بی بی سے دعا لے کے جائیں گے تو سب صحیح ہو جائے گا مگر وہ یہ نہیں جانتے کہ دعا تو اللہ قبول کرتا ہے یہ تو پیری مریدی کے چکر صرف اور صرف اپنا شملا اونچا کرنے کے لئے ہیں۔

میں سارا دن یہ بناؤ سینگھار کیے عورتوں میں بیٹھی رہتی ہوں میری بی جان جو چاہتی ہیں وہ منواتی ہیں ان سے پتا نہیں کتنے ہی پٹواریوں کی زمینیں ہمارے پاس ہیں اور کتنی ہی لڑکیوں کے زیور تجوری میں بند ہیں سود پر دیا گیا قرضہ آج تک معاف نہیں ہوا میری سمجھ میں نہیں آتا کہ میں ان سب کو کیسے سمجھاؤں میں تو بہت عام سی لڑکی ہوں کس طرح سے اپنے آپ کو بھی بچاؤں اور ان کو بھی جو لٹنے کے لئے تیار بیٹھے ہیں ”۔

ڈاکٹر ندا یہ سب باتیں سن کر چکرا گئیں۔
” یہ سب یہیں کی باتیں کر رہی ہو نا تم؟“ ۔
وہ حیران ہو رہی تھی۔

” بالکل یہ یہیں کی باتیں ہیں جس سے ہم اور آپ کبھی بھی چھٹکارا نہیں پا سکتے، کیونکہ ہمارے لوگوں کے ذہن میں ایسا مضبوط عقیدہ بنا دیا جاتا ہے کہ وہ جھوٹ کو بھی سچ سمجھنے لگتے ہیں اس لئے میں زیادہ تر کوشش کرتی ہوں کہ اپنے کمرے میں بے ہوش پڑی رہوں میری خاص ملازمائیں اس میں میری مدد کرتی ہیں اور جب کبھی میں ہوش میں آتی ہوں تو بی جان مجھے باہر لے جاتی ہیں جہاں پتا نہیں کتنی عورتیں بیٹھی ہوتی ہیں جن سے مجھے کوئی سروکار نہیں ہوتا اور وہ مجھے پتا نہیں کیا سمجھ رہی ہوتی ہیں“ ۔

یہ تو ظلم ہے اور کوئی سمجھتا بھی نہیں؟
ڈاکٹر ندا نے پوچھا تو وہ بے ساختہ ہنس دی۔

کیسی باتیں کر رہی ہیں آپ کبھی کوئی اپنا ظلم مانا ہے میری تو شادی بھی نہیں ہوگی میں ساری زندگی اس حویلی میں پاک بی بی بن کر گزاروں گی اور کون جانتا ہے کہ میں اچھائی کے راستے میں چلوں گی یا برائی کو اپنا لوں گی ”۔

تم کسی کو بتا تو سکتی ہو؟
ڈاکٹر ندا نے پوچھا۔

” نہیں ڈاکٹر صاحبہ میں کسی سے کچھ نہیں کہہ سکتی ورنہ مجھے مار کر یہ میری قبر کو بھی مزار بنا دیں گے اور کمائی کا ذریعہ بند نہیں ہو گا“ ۔

ماہ نور نے کہا۔

اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے تبھی دروازہ کھلا اور اس کی خاندان کی عورتیں داخل ہونے لگیں جو اس پر صدقے واری جا رہی تھیں۔

ڈاکٹر ندا تھکے تھکے قدموں سے باہر نکل آئی اس کے ذہن میں ایک ہی سوال چکرا رہا تھا، اے خدا تو کہاں ہے؟

وہ اپنی آفس میں آ کر بیٹھ گئی سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ اندرونی ملک میں ایسی باتیں بھی ہوتی ہوں گی۔

وہ تو یہ ہی سمجھتی تھی کہ ہم ترقی یافتہ ہوچکے ہیں ہمارے لڑکے لڑکیاں پڑھ رہے ہیں ہم فلسطین کی مدد کر سکتے ہیں مسئلہ کشمیر کو اٹھا سکتے ہیں کہ وہاں پر ظلم ہو رہا ہے لیکن جب گھر کے اندر ہی اندھیرا چھایا ہو تو ہم ان کی کیا مدد کریں جب ہی تو جھاڑیوں میں چھپی ہوئی لاشیں، چھوٹی بچیوں کے ساتھ زیادتیاں، چھوٹے لڑکوں کے ساتھ ظلم ایسے زد و عام ہو گئے ہیں جیسے گھر کی کوئی کہانی ہو۔

بس بے بسی سے یہ ہی کہہ سکتے ہیں کہ کوئی مسیحا بھیج کوئی تو علاج کر اے خدا تو کہاں ہے؟
عرش پر بیٹھا خدا سب دیکھ رہا ہے
بنت حوا کس طرح پامال ہو رہی ہے
اے خدا تو کہاں ہے؟

Facebook Comments HS