عقیلۂ قریش، شریکتہ الحسین ع
شاید کہ روز ازل سے ہی ہم نے یہ طے کر لیا تھا کہ عورت کمزور و ناتواں ہے۔ اور ہم نے اس سوچ کا بھرپور پرچار بھی کیا۔ لیکن تاریخ انسانی نے عورت کی جرات، دانائی، اور عزم و استقلال کی وہ داستانیں سنبھال رکھی ہیں کہ خود شجاعت داد دینے پہ مجبور نظر آتی ہے۔
وہ فرعون کے گھر میں موسٰی ع پالنے والی آسیہ ہوں یا عیسٰی ع کی ماں مریم مقدس، حضرت شعیب ع کی بیٹیاں ہوں یا اسمعیل ع کی ماں ہاجرہ ع
ملیکۃ العرب خدیجہ ع ہوں یا سیدۃ النساء العالمین فاطمہ ع
ان تمام محترم ہستیوں کی زندگی جرات و ہوش مندی، محنت و بلند ہمتی کا آئینہ ہے۔
ہر معظمہ اپنے مقام پہ بے مثل ہے لیکن ایک مخدومہ ایسی بھی ہیں کہ جن کی جرات و شجاعت، صبر اور استقلال نے فکر انسانیہ کو آج تک سحر زدہ کر رکھا ہے۔
نبی آخر الزمان ص کی دختر فاطمہ زہراء ع کی گود میں آنے والی یہ بچی کہ جسے رسول ص نے گھٹی دی اور علی المرتضٰی ع نے تربیت، جسے حسن المجتبٰی ع نے لوری دی اور حسین ع نے اپنی مشفقانہ صحبت، یہ زینب بنت علی ع ہیں۔
آپ نہایت کمسنی میں ہی دانائی اور معرفت کی اس منزل پہ تھیں کہ جو عقل انسانی کو حیرت زدہ کردے۔
عبادت اور پرہیزگاری کا یہ عالم کہ آپ کو عابدہ آل محمد (ص) کہا جاتا تھا۔
علم و حکمت کی یہ کیفیت کہ آپ کے متعلق آئمہ اہلبیت فرماتے ہیں کہ
انت بحمد اللہ عالمة غیر معلمة فھمة غیر مفھمة۔
یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے پروردگار عالم نے زینب ع کو خاص کر حسین ع کی رفاقت اور الفت کے لیے ہی خلق کیا ہو۔
برادر سے محبت کا یہ عالم تھا کہ زینب ع تھوڑی دیر بھی حسین ع سے دور نہ رہ پاتیں۔ بھائی اور بھی تھے، بہنیں اور بھی تھیں لیکن زینب ع اور حسین ع کی الفت الگ ہی تھی۔
شاید ان دونوں ہستیوں نے ایک ساتھ وہ معرکہ سرانجام دینا تھا کہ جس کی تکمیل اکیلے اکیلے ممکن ہی نہ تھی۔
قدم با قدم، منزل با منزل حسین ع کے ساتھ چلیں زینب ع، حسین ع کے ساتھ رہیں زینب، اور ہر گام مقصد حسین ع میں اس قدر شریک رہیں کہ آپ کو آج بھی نائبۃ الحسین ع کہا جاتا ہے۔
مدینہ سے مکہ اور پھر مکہ سے کربلا کا سفر ہو یا دو محرم سے دس محرم تک ہنگام ہو، زینب ع کا کردار امام وقت ع کے خصوصی معاون اور سب سے قریبی مدد گار کا رہا ہے۔
لیکن کردار زینبی کے اصلی جوہر بعد از عصر عاشور کھلتے نظر آتے ہیں۔ جب دشت بلا میں سارے کنبے کے لاشے ہوں اور خیام کا دھواں شام غریباں کی سیاہی کو مزید گہرا کر رہا ہو، پسماندگان میں بیوہ مستورات اور یتیم بچے رہ گئے ہوں جو بھوکے بھی ہوں اور پیاسے بھی، خوف زدہ بھی ہوں اور سہمے ہوئے بھی، ایسے میں کوئی بہادر سے بہادر مرد بھی کانپ جائے لیکن نہیں کانپی علی ع کی بیٹی۔
جب دیکھا کہ مردوں میں فقط سید سجاد ع رہ گئے اور وہ بھی بیمار و لاچار ہیں تو آگے بڑھ کے میر کارواں بنی زینب ع، اس لٹے اور اجڑے ہوئے قافلے کی قیادت سنبھال لی زینب ع نے۔
مستورات عصمت کو تسلی اور دلاسا دیتی ہیں تو کبھی دشت بلا میں بکھرے ہوئے شہداء کے بچوں کو تلاش کرتی ہیں۔
یہ شام غریباں کا ہنگام ہے
جب سر شام غریباں مٹ رہی تھی کائنات
چوب خیمہ تھام کر زینب ع نے تھامی کائنات
یہ گیارہ محرم کی ویران صبح ہے اور وہ قافلہ کہ جو حسین ع کی سربراہی میں مدینہ سے نکلا تھا، اب زینب ع کی قیادت میں کوفہ داخل ہوتا ہے تو بازار کا ایک ہنگام منتظر ہے۔ ایسا ہنگام کہ جہاں کسی مرد کی شنوائی نہیں وہاں ایک رسن بستہ عورت کے خطبے جاری ہوتے ہیں۔ دربار ایسے کہ شان و شوکت سے زبانیں گنگ ہو جائیں لیکن علی ع کی بیٹی کے جاہ و حشم کے آگے زمین بوس نظر آتے ہیں۔
کوفہ سے شام تک تقریباً چھتیس شہر اور بستیاں، اسیران آل محمد ص کا قافلہ اور قاتلان حسین ع کا پہرہ لیکن ڈری نہیں زینب ع
بازار شام آیا، دربار شام دیکھا، زندان پہنچے، قید گزاری لیکن گری نہیں زینب ع
اگر عورت کے مزاج اور فطرت کی کسوٹی پہ زینب ع کو پرکھیں تو یہ معجزہ نما ہستی نظر آتی ہیں۔ کسی باپردہ اور گھریلو مستور سے بعید ہے کہ وہ اس قدر زیرک و دانا، جرات مند اور معاملہ فہم ہوں۔ زینبی وقار اور عقل مندی کو دیکھتے ہوئے تاریخ آپ کو عقیلہ قریش کے نام سے یاد کرتی ہے۔ اٹھائیس رجب سے لے کے آٹھ ربیع الاول تک کے واقعات زینب ع کی شخصیت کا وہ آئینہ ہیں کہ جس میں سوائے زینب ع کے کسی اور مستور کی جھلک نظر نہیں آتی۔
حسین ع کی مشاورت ہو یا زین العابدین ع کی پشت پناہی، زینب ع امامت کی رازدار اور محافظہ نظر آتی ہیں۔ بازار و دربار کے ماحول میں گفتار زینبی صاحب نہج البلاغہ کی گفتار کا پرتو نظر آتی ہے۔ یہ زینب ع کے بلاغت ہی تھی کہ کربلا کو بہ کو پہنچی، کربلا جا بجا نظر آئی اور آج تک زینب ع کی محنت کے سبب زندہ ہے۔
حدیث عشق دو باب است، کربلا و دمشق
یکے حسین ع رقم کرد و دیگرے زینب ع
حسین ع جیسی ہستی کہ آج تک جن کا ثانی ممکن نہ ہوا زینب ع ان کے فضائل و مصائب میں برابر کی شریک ہیں۔ اسی لیے آپ کا لقب شریکۃ الحسین ع ہے۔
اسے شبیر ع ہونا پڑتا ہے
خدا جسے ہمشیر دے زینب ع
سلام ہو فاتح خیبر کی دلیر بیٹی پر۔
سلام ہو حسین ع کی حوصلہ مند خواہر پر۔
سلام ہو مریم کربلا پر۔
سلام ہو نائب زہراء پر۔



ماشاءاللّٰہ ہمیشہ کی طرح بے مثال فکر اور بہترین تفکر کا حامل قلم
خداوند توفیقات میں اضافہ فرمائے
شکریہ خانم
آپکی حوصلہ افزائی معنی رکھتی ہے۔