شناخت مٹ گئی
آپ کسی شام، لوہاری دروازے، انار کلی چوک میں، یا کراچی کی کسی بارونق سڑک پر ایک طرف کھڑے ہو جائیے اور جو کچھ آپ کے سامنے سے گزرے اس کا مطالعہ کرتے جائیے۔ آپ دیکھیں گے کہ انسانوں کا ایک ریلا جو مسلسل ادھر سے ادھر اور ادھر سے ادھر چلا آ رہا ہے، ہر شخص اپنی اپنی دھن میں ’چل نہیں بلکہ‘ بھاگ رہا ہے، کوئی مغموم، کوئی ہشاش، کوئی پریشان کوئی افسردہ۔ کوئی پیدل، کوئی سواری میں، ویسے تو یہ سب ایک ہجوم دکھائی دیں گے لیکن ہر شخص اپنے اپنے خیال میں یوں منہمک ہو گا گویا ایک افراتفری کا عالم ایک نفسانفسی کی کیفیت۔
اب آپ آگے بڑھ کر ان سے پوچھنا شروع کیجئے کہ وہ کس کام کے لئے گھر سے نکل کر یوں بھاگ دو کر رہے ہیں، عموماً آپ کو جو جوابات ملیں ان کا الگ بیٹھ کر تجزیہ کریں تو آپ دیکھیں گے کہ یہ کام کچھ اس قسم کے ہوں گے۔ کھانے پینے، رہنے سہنے کی چیزیں مہیا کرنے کا دھندا، فکر معاش، علاج معالجے کا سلسلہ، جھگڑے تنازعوں کا معاملہ، بیاہ شادی کا قصہ، بچوں کی تعلیم کا مسئلہ، سیر و تفریح، میل ملاقات وغیرہ وغیرہ۔
آپ اس ہنگامے کو چھوڑ کر کسی دوست کے ہاں جائیے جو اپنی عمر کے آخری مراحل میں سے گزر رہا ہو، وہ نہایت اطمینان کا سانس لے کر کہے گا کہ صاحب! اللہ کا شکر ہے کہ اس نے سب کچھ دے رکھا ہے، میری زندگی بڑی کامیابی سے گزر رہی ہے، عمر بھر نوکری کی اور بڑی عزت کی نوکری کی، معاش کی طرف سے بے فکری رہی، بچوں کو پڑھایا لکھایا اور اب وہ سب اپنے ہاں خوشحال ہیں، بیٹیاں بیاہیں، وہ اپنے اپنے گھر خوش ہیں، مجھے پنشن مل رہی ہے اس میں کسی کا محتاج نہیں، رہنے کو اپنا مکان ہے، صحت ابھی تک اللہ کے فضل سے اچھی ہے، اس سے زیادہ انسان کو اور کیا چاہیے۔ اب اس دوست کو بھی چھوڑیے کہ اچھی سرکاری ملازمت تھی، سب کچھ دوران نوکری بھی ملا اور ریٹائرمنٹ کے بعد پنشن وغیرہ بھی اتنی وافر مل رہی ہے کہ واقعی ایسا لگتا ہے کہ انہیں اب کچھ اور نہیں چاہیے۔
کسی غریب دوست کے گھر جائیے، وہاں جو جو مسائل سننے کو ملیں گے، وہ دنیا سے ہی دل کو اجاڑ دیں گے کہ اف خدایا، انسان کس قدر تکلیف میں جی رہا ہے، اگر اس کی مدد کریں تو بھی کتنی کی جا سکتی۔ اس کو آسودہ حال زندگی مستقل بنیادوں پر ملے تو بھی کیسے، ایک آسودہ حال دوست کی بے فکری جہاں دل کو خوش کر دیتی ہے تو دوسری جانب معاشی و خانگی مسائل میں الجھے دوست کی تکالیف دیکھ کر دل مسوس ہو جاتا ہے۔ پھر اپنے کمرے میں تنہا بیٹھ کر سوچتے ہیں کہ ہماری اپنی زندگی کا کیا پروگرام ہے؟
کاروبار کو فروغ دینے یا ملازمت کی ایسی اسکیمیں تاکہ معاش کی طرف سے بے فکری ہو، بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلانے کی تجاویز تاکہ وہ اپنے پاؤں پر آپ کھڑے ہونے کے قابل ہوجائیں، یا برسرروزگار جوان بچوں کی شادیاں کا جھمیلا اور اس کے بعد بوڑھے والدین کو اپنا اور اپنے بچوں کے مستقبل بلکہ اچھے مستقبل کے خاطر ایک الگ مکان کو گھر بنا لینا، غرض یہ کہ آپ اس تمام پروگرام کو سمٹائیے تو آپ دیکھیں گے کہ آخر الامر یہ دو شقوں میں بٹ جاتا ہے یعنی، اپنی زندگی کی بے فکری سے گزارنے کی سبیل، اولاد کو بے فکری کی زندگی گزارنے کے قابل بنانے کی تجاویز، یعنی اپنی پرورش اور اولاد کی کی پرورش۔ ہماری زندگی انہی کی گرد گھومتی نظر آتی ہے۔
اب کسی حیوان کو لیجیے اور دیکھئے کہ اس کی زندگی کا مقصد کیا ہے؟ آپ دیکھیں گے کہ وہ پرورش کے لئے دوڑ دھوپ کرتا ہے اور جب اس کے ہاں بچہ پیدا ہوجاتا ہے تو اس بچے کی پرورش کی فکر کرتا ہے تاکہ بچہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے قابل ہو جائے۔ اس تقابل کے آپ سوچئے کہ ہماری زندگی کے مقصد اور حیوان کی زندگی کے مقصد میں کچھ فرق بھی ہے؟ اس مقصد کے حصول کے ذرائع مختلف ہوسکتے ہیں، لیکن مقصد تو بہرحال دونوں کا ایک ہی ہے، یعنی مقصد کے لحاظ سے انسان اور حیوان ایک ہی سطح پر ہیں۔
انسانی سطح سے بلند ہو کر ذرا قومی سطح پر آ جائیے اور دیکھئے کہ قوموں کے سامنے مقصد زندگی کیا ہے؟ اس خطہ زمین کی حفاظت جس میں وہ قوم بستی ہے، کمزور قوموں کے ملک پر حکومت تاکہ اس طرح ان کی دولت کھینچ کر اپنے ملک میں لائی جائے، برابر کی قوموں سے معاہدات تاکہ طاقت ور قومیں اس کو اپنا محکوم نہ بنا لیں، فطرت کی قوتوں کی تسخیر، تاکہ زیادہ سے زیادہ قوت فراہم کی جائے اور اس قوت کو اپنے استحکام اور کمزور اقوام کی پامالی میں خرچ کیا جائے، اندرون ملک میں قیام امن تاکہ بے امنی سے ملک کمزور نہ ہو جائے۔ لیکن یہ سب کچھ کس لئے؟ اس لئے کہ ملک میں رہنے والوں کی پرورش اچھی طرح سے ہو سکے اور آنے والی نسلوں کی پرورش کی طرف سے اطمینان ہو جائے۔
آپ نے دیکھا کہ مقصد کے اعتبار سے ہم پھر وہیں پہنچ گئے، یعنی وہی حیوانی سطح کی زندگی کا مقصد، جو حیوانات جھنڈ بنا کر رہتے ہیں، ان کی اجتماعی زندگی کا بھی وہی مقصد ہوتا ہے جو قوموں کی زندگی کا مقصد ہے، اس فرق کے ساتھ کہ ان کے اندر وہ تنازعات پیدا نہیں ہوتے جو انسانی زندگی کا گویا لازمی جزو بن گئے ہیں اور جن کے نپٹانے کے لئے ہماری اس قدر توانائیاں صرف ہوجاتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر مقصد زندگی کھانا پینا، بچے پیدا کرنا اور مر جانا ہی ہے تو پھر انسان اور حیوان میں فرق کیا ہے؟
آپ کہیں گے کہ انسان علم میں ترقی کر رہا ہے، جس قسم کی حیات بسر کرتا ہے وہ حیوانات کو کہاں نصیب ہے! ، یہ سب ٹھیک ہے لیکن سوال یہ ہے کہ اس سے مقصد زندگی پر کیا فرق پڑتا ہے؟ انسانی و حیوانی زندگی کے مقصد (کھانے پینے، اولاد پیدا کرنے اور مرجانے ) سے بلند اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب اسے تسلیم کیا جائے کہ انسان میں حیوانات سے زیادہ کوئی چیز ہے، ایسی چیز جو جسم کی موت کے ساتھ نہیں مر جاتی، وہ ہے انسانی ذات، جس کا عملی مظاہرہ سیرت یا کریکٹر کہلاتا ہے۔ کیا ہم نے کبھی اپنی ذات کی شناخت کا حیوان سے موازنہ کیا ہے۔


