برطانیہ سے تحویل مجرمان کا معاہدہ: کیا نواز شریف کو بھی واپس لایا جائے گا؟


گزشتہ روز ایک خبر نشر ہوئی، وہ تھی برطانیہ و پاکستان کی اس معاہدے پر دستخط کی جو مجرموں کے بارے میں تھا۔ برطانیہ اور پاکستان حکومت نے اس معاہدے میں دستخط کیے جو کہ ان مجرموں کے پاکستان واپس کے لیے تھے جن کا برطانیہ میں رہنے کا کوئی جواز نہیں۔ وہ مجرم یا تو پاکستان کی عدالتوں سے سزا یافتہ ہیں یا جن کی برطانیہ میں پناہ لینے کی درخواست رد ہو چکیں ہیں۔

سترہ اگست کو برطانوی وزیر خارجہ پریٹی پیٹل اور پاکستان کے سیکرٹری داخلہ نے اس معاہدے پر دستخط کیے۔ وزیر داخلہ کی ویب سائٹ کے مطابق برطانوی عوام کے لیے امیگریشن کے نئے منصوبے ”کے تحت 15 ماہ میں مجرموں کی واپسی کا پانچواں معاہدہ ہے، جس پر برطانوی وزیر نے دستخط کیے ہیں۔

برطانوی وزیر نے کہا مجھے خطرناک غیر ملکی مجرموں اور امیگریشن کے مجرموں کو واپس بھیجنے پر کوئی افسوس نہیں، ایسے مجرموں کو برطانیہ کے پاس رہنے کا کوئی حق نھیں۔ لوگ ہمارے قوانین کو غلط استعمال کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہمارا نیا بارڈر ایکٹ مزید آگے بڑھے گا اور زیادہ دعووں اور اپیلوں کے چکر کو ختم کرے گا۔

انگلینڈ اور ویلز کی جیلوں میں زیادہ تعداد پاکستان کے مجرموں کی ہے۔ جو کہ تقریباً 3 ٪ حقیقی آبادی کا ہے۔ برطانیہ سے جنوری 2019 سے دسمبر 2021 تک عالمی سطح پر 10,741 غیر ملکی مجرموں کو اپنے وطن واپس بھیجا گیا ہے۔

کن مجرموں کو واپس پاکستان لایا جا سکتا ہے

وزیر داخلہ کے ایک سینیئر رکن نے نام ظاہر نہ کرنے پر بی بی سی کو بتایا کہ اس معاہدے کے تحت ایسے مجرموں کو واپس لایا جاسکتا ہے جن کو برطانیہ کی عدالت سے سزا ہوئی ہو۔

لیکن ایسا تب ہو گا جب برطانیہ ایسی خواہش کرے کہ وہ ایسے مجرم کو پاکستان حوالے کرنا چاہتا ہے۔ اس معاہدے پر 2009 میں بات چیت شروع ہوئی لیکن اب یہ طے ہوا ہے۔

کیا نواز شریف کو بھی واپس لایا جائے گا؟

نواز شریف کے حوالے سے سوال پر اہلکار نے نفی میں جواب دیا۔

اہلکار نے کہا کہ یہ معاہدہ نواز شریف جیسے کیسز کے بارے میں نہیں ہے۔ یاد رہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کو پاکستان کی عدالت نے سزا سنائی تھی کے بعد میں ان کو علاج کے لیے عدالت نے ہی مشروط اجازت دی تھی۔

وزارت داخلہ کے اہلکار سے جب سوال کیا گیا کہ اشتہاری ملزم جب برطانیہ آ جائے تو اس پر یہ قانون اپلائے ہو گا تو اس پر بھی اس نے نفی میں جواب دیا۔ اور مزید کہا کہ اس پر ایکٹراڈیشن معاہدہ کی ضرورت ہے اور اس پر تحریکی انصاف کی حکومت سے بات ہوئی تھی۔ یاد رہے کہ تحریک انصاف کی حکومت نے برطانیہ سے ایکٹراڈیشن معاہدہ کے حوالے سے کافی کام کیا تھا۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments