سیلاب: چڑیوں کے خدا، بازوں کو پنکھ نہ دے


اے پرور دگار میں جھونپڑی میں رہنے والا اک غریب ہوں، محنت مزدوری کر کے کنبے کے لیے کمائی ہوئی روزی میں سے کاٹ کر مٹی کی کچی اینٹ اینٹ کر کے کچی دیواریں بنائیں اور تنکا تنکا کر کے اس کی چھت بنائی۔ دیواروں میں دراڑیں پڑ گئی ہیں۔ بارش کا پانی جھونپڑی کی چھت کے تنکوں سے ٹپک رہا ہے۔ رلیاں، رضائیاں اور سرہانے بھیگ گئی ہیں۔ اب ڈر ہے کہ جھونپڑی گر نہ جائے اور بچوں سمیت دب نہ جاؤں۔ باہر موسلا دھار بارش میں بھیگنے اور آسمانی بجلی گرنے کا خوف اور اندر جھونپڑی گرنے کا خوف!

میں لخت جگر کہاں چھپاؤں؟ کہاں محفوظ کروں انہیں؟ جاؤں تو جاؤں کہاں؟ پڑوس کا بھی یہ ہی حال ہے۔ وہ بھی خوف کے مگر مچھ کے منہ میں ہیں۔ خود حیران و پریشان ہیں۔ میں جھونپڑی بچانے کی کروں یا ننگے تن و پاؤں بچوں کے پیٹ کے دوزخ کا بندوبست کروں؟ چولھا بھی نہیں جل رہا۔ جلے بھی کیسے۔ لکڑیاں بھیگ کر گیلی بن گئی ہیں۔ لکڑیاں جلا بھی لوں مگر راشن کہاں سے لاؤں؟ میرے رب! مجھے معلوم ہے کہ حالیہ بارشیں ملک بھر میں زحمتیں بن گئی ہیں۔

پورا ملک ڈوب گیا ہے مگر میری جھونپڑی بچاؤ۔ دوبارہ کیسے بناؤں گا؟ کہاں سے لاؤں گا پیسے جو دوبارہ بنا سکوں! میں تو بیس سال پیچھے دھکیل دیا جاؤں گا۔ جھونپڑی نہ رہی تو تپتی دھوپ کی آگ میں کنبے کے ساتھ جلنا شروع ہو جاؤں گا۔ اور آنے والی سردیوں میں میرے چھوٹے بچے سسک سسک کر مر جائیں گے۔ اگر ایسا ہوا تو میرا زندہ رہنا کس کام کا۔ مہنگائی کے گرتے پہاڑ کے نیچے آنے والے غریب لوگ کیسے بنا سکیں گے میری طرح گھر؟

یا رب! رات کے وقت تو نہ برسا بارشیں! بارش میں باہر بیٹھ نہ سکیں گے اور گھر گرنے کے خوف کے مارے کچے گھر میں سو نہ سکیں گے! ڈر کے مارے کہاں پناہ لیں۔ تو ہی پناہ میں رکھ یا رب العالمین۔ میری جھونپڑی کو گرنے سے بچاؤ یا مولا۔ میں ہر ممکن کوشش میں لگا ہوا ہوں کہ بچ جائے۔ دراڑیں بند کرتا ہوں تو چھت ٹپکنا شروع ہو جاتی ہے۔ چھت کی کرتا ہوں تو دیوار گرنے کا خدشہ رہتا ہے۔

رب! تم جانتے ہو کہ غریب کا تو ہی والی وارث ہے۔ تو ہی دینے والا ہے۔ رحمان رحیم ہے تو! حکومت کہاں دیتی ہے غریبوں کو؟ وہ تو اپنے کارندوں کا پیٹ بھرتی ہے۔ تو ہی جانتا ہے سب کچھ کہ غریب ایک پاء آٹے کے لیے ٹھوکریں کھاتا ہے حکومتی کارندوں کی! تو ہی مدد کرنے والا ہے۔ امداد کر مولا میری جھونپڑی پر رحم فرما۔ بس یہ ہی امداد کافی ہے۔ باقی تو ہی رزاق ہے۔ رزق دینے والا ہے۔ ہاتھ پاؤں چلا کر اور محنت مزدوری کر کے بھوک کی آگ بجھا لوں گا۔ صرف میری جھونپڑی بچا۔ میرے کچا گھر کو محفوظ فرما۔ رحمت کی بارشیں برسا مگر انہیں زحمت نہ بنا میرے مالک۔

خود دیکھنے والا ہے۔ دیکھ لے مولا کہ گیسٹرو کا مرض کتنا پھیل گیا ہے۔ نہ راستے نہ رسد۔ بچے بوڑھے زندگی کی جنگ ہار رہے ہیں۔ کوئی نہیں تیرے سوا۔ بس تو ہی مدد کرنے اور دعا قبول کرنے والا۔ میرا کچا گھر بچانے والا! کئی کچے گھر بارشوں کا سیلاب بہا کر لے گیا ہے۔ کئی کچے مکانات مٹی کا ڈھیر بن گئے ہیں۔ کون بنا دے گا انہیں گھر۔ ان کا بھی مجھے دکھ ہے۔ اور جو میرے کچے گھر کی طرح بچ گئے ہیں ان کی بھی حفاظت فرما۔

مجھے احساس ہے ان کچے گھروں کا۔ کیوں کہ میں غریب ہوں اور حالات سمجھتا ہوں۔ میرے گھر کے ساتھ ان کو بھی پناہ میں رکھ۔ میری خاص دعا ہے تیری بارگاہ میں مالک کہ جھونپڑیوں کو محفوظ فرما۔ انہیں موسلا دھار بارشوں سے اپنی پناہ میں رکھ۔ تو ہی بڑا محافظ ہے۔ میری یاداشت کے مطابق اتنی بارشیں کبھی نہیں پڑیں۔ پکے گھروں والے بھی مصیبت میں مبتلا ہیں۔ مگر ان کے گھر پکے ہیں۔ نہی گریں گے مگر میری طرح غریبوں کے کچے گھر اور جھونپڑیاں مسلسل موسلا دھار بارشوں کا مقابلہ نہیں کر پا سکیں گی۔

ان بارشوں کی زد میں آ کر ہم غریبوں کے کچے گھر مٹی کا ڈھیر بن جائیں گے۔ کون بنا دے گا ہمیں دوبارہ؟ تو مدد کر۔ ان بارشوں کو روک۔ اب ہم اور ہمارے کچے گھروں میں قوت برداشت نہیں رہی۔ با الخصوص میری جھونپڑی گرنے کو ہے۔ مجھے بے پردگی سے بچا یا رب! میرے مولا! میں غریب سندھ کے معروف شاعر وفا ناتھن شاہی کے شعر کی صورت میں درخواست گزار ہوں کہ:

چڑیوں کے خدا بازوں کو پنکھ نہ دے
بارش بند کر یا کچے گھر کا دکھ نہ دے

Facebook Comments HS