خیبر پختونخوا کے چار حلقوں پر ضمنی انتخاب

پاکستان تحریک انصاف کے پاکستان بھر سے مستعفی ہونے والے 123 ممبران قومی اسمبلی میں سے نو ممبران کے استعفوں کی سپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے تصدیق نیز الیکشن کمیشن کی طرف سے ان خالی قرار دی جانے والی نشستوں پر ضمنی انتخابات کے شیڈول کے اعلان کے بعد خیبرپختونخوا سے خالی ہونے والی قومی اسمبلی کی چار نشستوں پر ضمنی انتخابات میں حکمران پی ڈی ایم اور پی ٹی آئی کے درمیان سخت اور دلچسپ مقابلے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔
ان نشستوں پر بعض سرکردہ اور نامی گرامی سیاستدانوں کی جانب سے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے بعد یہ انتخابات انتہائی دلچسپ مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں۔ ان انتخابات کا ایک اور دلچسپ اور منفرد پہلو تادم تحریر صوبے کی ان چاروں نشستوں پر پی ٹی آئی کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان کا بطور امیدوار کاغذات نامزدگی جمع کرانا ہے۔ واضح رہے کہ طے شدہ شیڈول کے مطابق خیبرپختون خوا کے جن چار حلقوں میں ضمنی انتخابات ہوں گے ان میں این اے 31 پشاور، این اے 22 مردان، این اے 24 چارسدہ اور این اے 45 کرم کے حلقے شامل ہیں۔
تفصیلات کے مطابق ویسے تو ان چاروں نشستوں پر کانٹے دار مقابلے کی توقع ہے لیکن ماضی میں این اے ون پشاور اور موجودہ این اے 31 پشاور کے حلقے میں چونکہ دو سابق حریفوں اے این پی کے حاجی غلام احمد بلور اور تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان ایک بار پھر مدمقابل ہیں اس لیے سیاسی مبصرین اس ٹاکرے کو انتہائی دلچسپ اور غیر معمولی قرار دے رہے ہیں۔ قارئین کو یہ بات یاد ہوگی کہ 2013 میں اس حلقے پر پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان کامیاب ہوئے تھے جنہوں نے بعد ازاں یہ نشست خالی کر کے یہاں سے ضمنی الیکشن میں ایک نسبتاً گمنام اور کمزور امیدوار گل بادشاہ کو ٹکٹ جاری کیا تھا جنہیں اے این پی کے سینیئر راہنما حاجی غلام احمد کے ہاتھوں واضح شکست سے دوچار ہونا پڑا تھا۔
پشاور کے روایتی شہری علاقوں پر مشتمل این اے 31 پشاور کا موجودہ حلقہ ماضی میں این اے ون کہلاتا تھا اور یہاں پر ماضی میں ویسے تو کافی دلچسپ مقابلے ہوتے آئے ہیں لیکن یہاں بالعموم اے این پی کا پلہ ہی زیادہ تر بھاری رہا ہے۔ حاجی غلام بلور یہاں سے پہلی بار 1988، دوسری بار 1990، تیسری بار 1997، چوتھی بار 2008 اور آخری بار 2013 کے ضمنی الیکشن میں کامیاب قرار پائے تھے۔ 2018 کے عام انتخابات میں اس حلقے سے پی ٹی آئی کے امیدوار ٹاؤن ون کے سابق ناظم شوکت علی تھے جو حاجی غلام بلور کو بھاری مارجن سے شکست دے کر ایم این اے منتخب ہو گئے تھے۔ حالیہ ضمنی الیکشن میں چونکہ پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں مسلم لیگ (ن) ، جمعیت (ف) اور قومی وطن پارٹی کے علاوہ پیپلز پارٹی بھی عمران خان کے خلاف غلام بلور کا ساتھ دے رہی ہیں اس لیے اس حلقے پر سنسنی خیز مقابلے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
این اے 24 چارسدہ جو ماضی میں این اے پانچ کہلاتا تھا پر ضمنی انتخاب میں بھی ایک دلچسپ مقابلے کی امید ہے جہاں پی ٹی آئی سربراہ کو اے این پی کے سربراہ اسفندیار ولی خان کے برخوردار اور سیاسی جانشین ایمل ولی خان سے پنجہ آزمائی کا مرحلہ درپیش ہے۔ یہ حلقہ بھی روایتی طور پر اے این پی کا حلقہ تصور کیا جاتا ہے جہاں سے ماضی میں اے این پی کے سربراہ عبدالولی خان اور موجودہ سربراہ اسفندیار ولی خان کامیابی حاصل کرتے رہے ہیں۔
اس طرح ایمل ولی باچاخان کے سیاسی خانوادے کی تیسری نسل سے تعلق رکھنے والے پہلے امیدوار ہیں جنہیں ابھی تک قومی یا صوبائی اسمبلی کا رکن بننا نصیب نہیں ہوا ہے اور جنہیں اب 25 ستمبر کے ضمنی الیکشن میں پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کا مقابلہ کرنا ہے۔ گو کہ اس نشست پر بھی اے این پی کو سوائے جماعت اسلامی کے اپوزیشن کی تمام جماعتوں کی حمایت حاصل ہے لیکن پھر بھی ایمل ولی خان کے لیے یہ معرکہ سر کرنا اتنا آسان نہیں ہو گا جتنا کہ سمجھا جا رہا ہے۔
این اے 22 مردان کی نشست پر 2018 میں پی ٹی آئی کے علی محمد خان اور جمعیت (ف) کے مولانا محمد قاسم کے درمیان مقابلہ ہوا تھا جسے علی محمد خان نے نہ صرف جیت لیا تھا بلکہ وہ اپنے سر پر وزارت کا تاج بھی سجانے میں کامیاب ہو گئے تھے جب کہ اس بار اس نشست پر مولانا محمد قاسم اور عمران خان مدمقابل ہیں۔ این اے 45 کرم میں 2018 کے عام انتخابات کے بعد یہ دوسرا ضمنی انتخاب ہو گا۔ 2018 کے عام انتخابات میں یہاں سے جمعیت (ف) کے حاجی منیر خان اورکزئی کامیاب قرار پائے تھے جب کہ پی ٹی آئی کے سید جمال بنگش رنر اپ رہے تھے اور پی ٹی آئی کے ایک ناراض آزاد امیدوار فخر زمان خان نے تھوڑے مارجن کے فرق سے تیسری پوزیشن حاصل کی تھی البتہ جب 2021 میں یہ نشست حاجی منیر اورکزئی کی وفات سے خالی ہوئی تو یہاں ہونے والے ضمنی الیکشن میں پی ٹی آئی نے اپنا ٹکٹ سید جمال کی بجائے فخر زمان کو دیا تھا جو یہ الیکشن معمولی مارجن کے ساتھ جیت تو گئے تھے لیکن یہاں جمعیت (ف) کے امیدوار جمیل خان چمکنی اور پی ٹی آئی سے بغاوت کرتے ہوئے آزاد امیدوار سید جمال بہت کم ووٹوں کے فرق سے بالترتیب دوسری اور تیسری پوزیشن حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔
باقی تینوں حلقوں کی طرح یہاں بھی اصل مقابلہ عمران خان اور جمعیت (ف) اور پی ڈی ایم کے مشترکہ امیدوار کے درمیان ہو گا البتہ یہاں اصل مسئلہ جمعیت (ف) کے دو امیدواران جمیل چمکنی اور منیر اورکزئی کے بھائی عبد القادر اورکزئی کا الگ الگ کاغذات نامزدگی جمع کرنا ہے جن میں سے ایک کو دستبردار کرانے کے لیے پارٹی قیادت کی جانب سے قبائلی اضلاع کے امیر اور وفاقی وزیر مذہبی امور مفتی عبدالشکور کو ٹاسک سونپا گیا ہے لہٰذا اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ ان دونوں مضبوط امیدواران میں سے کس کو کب رام کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔

