ترجیحات


ذیل میں تحریر کردہ تین خبروں کے ساتھ آپ کی توجہ نہایت کی اہم مسئلے کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں۔

پہلی ہیڈ لائن:پولیو کے دو کیسز سامنے آ گئے ہیں۔ وزیراعظم نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جلد سے جلد پولیو مہم کا آغاز کیا جائے۔

دوسری ہیڈ لائن: سابق وزیراعظم پاکستان نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نیوٹرلز کو اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔

تیسری ہیڈ لائن: بارشوں کی شدت اور ہمسایہ ملک سے بے موقع دریاؤں میں چھوڑے جانے والی پانی نے سیلاب کی شکل اختیار کر لی۔ لاکھوں لوگوں کے مکانات پانی خس و خاشاک کی طرح بہا لے گیا۔ جانور پانی کے ریلے میں بہہ گئے۔ علاقے کی پل کے نیچے سے بچوں کی پانی سے پھولی ہوئی لاشیں برآمد۔

بیش بہا قربانیوں اور عظیم قائدین کی انتھک جستجو سے وجود میں آنے والا پاکستان دنیا کے نقشے پر تاریخی و جغرافیائی اعتبار سے اہم حیثیت رکھتا ہے۔ ہندووں سے آزادی کا خواب دیکھنے والے مسلمانوں نے جب علیحدہ مملکت بنائی تو دماغ کے پنہاں خانوں میں آزاد عدلیہ اور جمہوری نظام کو پنپنے دیا لیکن قائد ملت اور ان کے وفادار ساتھیوں کی رحلت کے بعد وطن عزیز کی ڈوریں چند ایسے لوگوں نے تھام لیں جن کا مقصد پاکستان اور اس کے عوام کو نچوڑ کر پھینکنا تھا۔

بین الاقوامی قرضوں اور نام نہاد جمہوریت کے سائے میں پچھتر سال کی زندگی گزارنے والا یہ ملک آج بھی رینگنے کی رفتار سے ترقی کی کوشش کر رہا ہے۔ اندرونی و بیرونی مداخلت اور سازشوں کے گھیرے میں دھنستا چلا جانے والا اسلامی جمہوریہ پاکستان ہر گزرتے دن کے ساتھ بربادی کی طرف مائل ہے۔ ترقی پذیر ممالک کی طرح پاکستان بھی ان مشکلات سے نبرد آزما ہے جو اس کے عوام کی ترقی میں رکاوٹ بن کر سامنے آ رہی ہیں جن میں غربت، بے روزگاری، صحت کے مسائل اور بدامنی سمیت قدرتی آفات بھی شامل ہیں۔

انسان نے سائنس اور ٹیکنالوجی کی مدد سے دنیا کو تابع کر لیا ہے لیکن آج تلک اس کی عقل قدرتی آفات کے سامنے بے بس نظر آتی ہے۔ جہاں زلزلہ، آندھی، طوفان اور گرد و باد قدرتی آفات ہیں وہیں سیلاب جو کہ پانی کی زیادتی سے وجود میں آتا ہے ان قدرتی آفات میں شامل ہے جن کے سامنے انسان مکمل بے بس نظر آتا ہے۔ مثل مشہور ہے کہ ”کسی بھی شے کی زیادتی نقصان دہ ہوتی ہے“ ۔ پانی جو کہ انسانی زندگی کا جزو لازم، پودوں کی بقاء اور بڑھوتری کے لیے اہم عنصر ہے وہی جب مطلوبہ مقدار سے بڑھ جاتا ہے تو اپنے ساتھ تباہی اور بربادی کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ لاتا ہے جس سے انسان کے ساتھ جانور اور دیگر جاندار متاثر ہوتے ہیں۔

حالیہ مون سون کی بارشیں انسانی بقا کے لیے خطرہ بن کر برسی ہیں جس سے ملک کے بیشتر حصے بارشوں کے پانی اور دریائی پانی کی مقدار بڑھ جانے کی وجہ سے خس و خاشاک کی طرح بہہ گئے ہیں۔ سینکڑوں انسانی جانوں کے ضیاع کے ساتھ ساتھ ہزاروں پالتو جانور بھی اس تباہی کا شکار ہوئے ہیں۔ سال ہا سال کی محنت و مشقت سے تیار کردہ لوگوں کے مکانات مٹی ہو گئے ہیں۔ ہر طرف آہ و فغاں سننے کو مل رہی ہے اور سوشل میڈیا پر ہمہ وقت سیلاب کے ستائے ہوؤں کی دردناک کہانیاں بیان کی جا رہی ہیں۔

ان لمحات میں حکومت وقت اور انسان ہونے کے ناتے انسانیت کا تقاضا ہے کہ سیلاب زدگان کی ہر ممکن مدد کی کوشش کی جائے جس میں ان لوگوں کو صاف اور حفاظتی مقامات کی رسائی سمیت خوراک کی فراہمی بھی شامل ہے۔ سیلاب کی آفت سے ہر سال ہزاروں لوگ بے گھر ہو جاتے ہیں جس کی بنیادی وجہ ڈیموں کی عدم تعمیر اور موجودہ نہری نظام کی مستقل بنیادوں پر صفائی نہ ہونا ہے۔ نہروں میں مٹی اور درختوں کے گرنے سے پانی کا بہاؤ رکاوٹ کا شکار ہوتا ہے جس سے بند ٹوٹ جاتے ہیں اور نزدیکی علاقے زیر آب آ جاتے ہیں۔

پاکستان کے شمالی علاقوں سے لے کر جنوب میں مظفر گڑھ، تونسہ شریف اور متعلقہ گاؤں سمیت کراچی تک اس قدرتی آفت نے نہ تھمنے والا سلسلہ شروع کر رکھا ہے جس کے نتیجے میں ہونے والے نقصان کا ازالہ اب تک نہیں ہو سکا ہے۔ پاکستان کا شہری ہونے کے ناتے حکومتی مشینری کو درخواست ہے کہ جلد از جلد اور بروقت مدد کر کے ان علاقوں کے لوگوں کو محفوظ کیا جائے تا کہ انسانی جان شکر گزار ہو۔

Facebook Comments HS