گوبند رام دربار مانجھد: مستند تاریخی درستگی کی ضرورت


سندھ بھر میں ایسے بہت تاریخی اور ثقافتی مقامات ہیں جو ثقافت کے ساتھ ساتھ مذہبی اثاثہ بھی ہیں۔ ان تاریخی اثاثوں میں گوبند رام دربار مانجھند بھی ہے۔ یہ دربار سندھ کے موجودہ ضلع جام شورو میں ہے۔ مانجھند سندھ کا قدیم شہر ہے اور حیدرآباد سندھ سے ایک گھنٹے کے فاصلے پر شمال میں واقع ہے۔ یہ شہر قدیم زمانے سے انگریز دور تک دریائے سندھ کے ذریعے تجارت کا مرکز رہا ہے۔ پروفیسر عبداللہ مگسی نے اپنی کتاب ”سندھ جی تاریخ جو جدید مطالعو“ میں لکھتے ہیں کہ، ”مانجھند کے سندھ ورکی یعنے مانجھند کے تجارتی لوگوں کی تجارت پوری دنیا میں پھیلی ہوئی تھی۔ یہاں سے سونا چاندی، مختلف جواہرات، قیمتی کپڑے اور دوسری قیمتی چیزیں برآمد اور درآمد کی جاتی تھیں۔ مانجھند کے تاجر دنیا میں سندھ کے تاجر کے طور پر مشہور تھے جو اکثر ہندو تھے۔ ان کے بڑے شاندار محلات تھے۔ یہاں مختلف باغات بھی تھے۔“

محققین کے مطابق مانجھند شہر دریائے سندھ کی لہروں کی نظر ہوتا رہا اور پھر آباد ہوتا رہا۔ دو مرتبہ یہ شہر دریائے سندھ میں ڈوبا اور موجودہ شہر تیسری بار اوائلی برطانوی دور میں آباد ہوا تھا اور اسے دریائے کے متوقع سیلاب سے بچانے کے لیے بچائے بند دیا گیا تھا۔ شہر کے ڈوبنے اور دوبارہ آباد ہونے کی محققین کی اس رائے کی تصدیق گوبند رام دربار سے ہوتی ہے کہ یہ شہر کے شمال مشرق میں بچاء بند کے اندر دریائے سندھ کے کنارے پر واقع ہے۔

موجودہ شہر مانجھند میں ہندو مت کے دو مزید یادگار اثاثے اب بھی موجود ہیں۔ ایک قدیم شیوا مندر اور دوسرا چھوٹا سا مینار ہے جس پر لکھا ہوا ہے کہ ”یہ یادگار سیٹھ (تاجر) چانڈومل کے بیٹے سیرومل نے اپنی بیوی شری متی موہنی بائی کی یاد میں ہندی سال ماگھ 2001 میں تعمیر کروایا تھا۔“ عیسوی سال کے مطابق یہ مینار لگ بھگ 78 یا 79 سال پرانا ہے۔

اب تک سندھ کے مورخین اور محققین نے مقامی روایات کے مطابق دربار کو گوبند رام دربار لکھا ہے مگر مانجھند کے اصل رہائش پذیر اور برصغیر کی تقسیم کے بعد ہندستان جانے والے پرکاش سیوالانی کا کہنا ہے کہ اس دربار کا اصل نام گوبند داس سوامی ہے۔ پرکاش سیوالانی جو اس وقت ہانگ کانگ میں رہتے ہیں ان کے مطابق اس کے گدی نشین سوامی گوبند داس تھے۔ ایسی دربار سندھ کے ضلع ٹھٹھہ کے فقیر جو گوٹھ میں بھی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مانجھند کی گوبند داس دربار کے موجودہ گدی نشین سوامی موہن داس مہاراج ہندستان کے شہر ممبئی میں مقیم ہیں۔

پرکاش سیوالانی عمر رسیدہ ہیں۔ جب چھوٹے تھے تو یہاں رہتے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ 1935 ء یا 1936 ء میں سندھ کے معروف صوفی گلوکار بھگت کنور رام یہاں آئے تھے اور جب یہاں سے واپس ہوئے تھے تو قتل کیے گئے تھے۔ پرکاش نے دربار کی پرانی تصاویر بھی ایمیل کی ہیں اور اس دربار کے قریب آخری بار بھگت کنور رام کی کھینچی ہوئی تصویر بھی بھیجی ہے۔ میں نے 2011 اور 2012 ء میں یہ دربار دیکھا تھا اور مقامی لوگوں نے دربار کا نام گوبند رام بتایا تھا جو نام سندھ کے دوسرے مققین نے بھی درج کیا ہے۔ میں نے جو تصاویر کھینچی تھیں وہ پرکاش سیوالانی کی بھیجی گئی تصاویر کے ساتھ ملتی ہیں۔ صرف دو فرق ہیں۔ ایک یہ کہ 2012 ء کی تصویر میں دربار کے برامدے کا شمالی حصہ سالم ہے باقی دریا کے سیلاب میں گرا ہوا نظر آتا ہے۔ دوسرا بلیک اور وائٹ اور رنگین ہونے کا فرق ہے۔ باقی طرز تعمیر میں کوئی فرق نہیں۔

تاریخ میں درج گوبند رام دربار اور پرکاش کے مطابق گوبند داس دربار کی اندر والی دیواروں پر فریسکو نقش نگاری موجود تھی۔ جس میں مختلف پودے، پھولوں، پتوں کی ڈیزائنوں کے علاوہ جیومیٹریکل ڈزائینیں نقش تھیں جو اب ریسٹروریشن کے بعد مٹ گئی ہیں۔ کنزرویشن کے بعد دربار کا برامدہ بھی غائب ہے۔ اس دربار کی دوبارہ کنزرویشن برامدے کے ساتھ کی جائے تو بہتر ہے۔

اصل نام کے سلسلے میں میرے خیال کے مطابق پرکاش سیوالانی درست ہیں اور زندہ گواہ ہیں۔ اس کے بیان کو اہمیت دینی چاہیے یا مستند تحقیق کی روشنی میں دربار کا درست نام گوبند داس دربار ہی لکھنا چاہیے۔

معروف صوفی گلوکار بھگت کنور رام

 

گوبند داس دربار کی پرانی تصویر

گوبند داس دربار کی 2012 ء کی تصویر
Facebook Comments HS