جوتی نے جوتی چاٹ لی تو کیا ہوا؟


” یہ لڑکی پسند ہے مجھے، اسے اپنے بستر پہ لانا ہے مجھے“ ایک بد مست خواہش۔
”مگر وہ تو تمہاری بیٹی کی دوست ہے“
”بیٹی تو نہیں“
”سوچ لو تمہاری عمر اور اس کی عمر میں بہت فرق ہے“
”مرد کی کوئی عمر نہیں ہوتی، مرد اور گھوڑا کبھی بوڑھا نہیں ہوتا“
”لیکن بھئی لڑکی کی مرضی نہیں ہے“

” اس کی یہ ہمت کہ انکار کرے۔ عورت کی مرضی کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔ وہ مرد کے لیے بنائی گئی ہے، اور جس مرد کا جی چاہے اس کے ساتھ نکاح کرے۔ ہونہہ دو ٹکے کی عورتیں، میرا جسم میری مرضی“

”لیکن نکاح نامے پہ دستخط تو عورت بھی کرتی ہے“
” او بھائی، آخری منٹ پہ کاغذ پہ ڈالی جانے والی کگھی کو تم دستخط کہتے ہو؟“
”کچھ بھی ہو، لیکن مذہب اسے انکار کا حق دیتا ہے“

” میں یہ حق کسی بھی عورت کو نہیں دیتا اور اب میں اسے انکار کا مزا چکھاؤں گا۔ اس نے اپنی سزا پہ خود دستخط کیے ہیں۔ میں اسے ایک اور عورت کے ہاتھوں پٹواؤں گا، میری آلہ کار“

” سنو لڑکی، میں نے تمہیں عزت سے گھر لانا چاہا تھا لیکن تمہیں یہ عزت راس نہیں آئی۔ اس کی سزا تو تمہیں ملے گی اور یہ جو تمہاری مرضی کا خمار ہے نا تمہارے دماغ میں وہ بھی میں نکالوں گا۔

چلو جھک جاؤ اور ان جوتوں کے تلووں کو زبان سے چاٹو۔ زور سے اچھی طرح، اور اچھی طرح۔

چل اوئے، وڈیو بنا اس کی، کیا یاد کرے گی یہ بھی۔ چلو اچھی طرح چاٹو ان سب جوتوں کو، شاباش شاباش، زبان نکال کر، جیسے کتیا کسی چیز کو چاٹے۔ تجھے میں کتیا سمجھتا ہوں اسی لئے تو جوتے صاف کروا رہا ہوں۔

چلو بھئی ابھی لے آؤ قینچی اس کی ذرا حجامت بنائیں۔ کیا یاد کرے گی، گھر بیٹھے بیٹھے مفت میں بال کٹ گئے، نائی کا خرچہ بچا۔

واہ واہ پر کٹی کبوتری، یہ ٹسوے کس لئے؟ تم عورتیں اپنے آپ کو سمجھتی کیا ہو؟ انکار کرو گی مجھے، ایک مرد کو؟

کیوں نہیں مان لیتیں کہ تمہیں انکار کا حق نہیں دیا گیا، تمہارا کام صرف سر جھکانا ہے، مرد کے سامنے سر جھکانا۔

چلو بھئی بیگم صاحبہ کا ذرا میک اپ بھی کریں، اوہو، بھنویں بہت بڑھی ہوئی ہیں۔ ان کی تراش خراش بھی کیے دیتے ہیں۔ آؤ میرے شیرو، ذرا اس لومڑی پہ ریزر تو چلاؤ، بھنویں ہی صاف کر دو۔ روز روز پارلر کیا جانا۔

ا ہا، بیگم صاحبہ تو بہت خوبصورت لگ رہی ہیں۔ انہیں ہمارے کمرے تک لے چلو، ہم ان کی منہ دکھائی تو کریں۔ ملن۔ ملن۔ دو ستاروں کا ملن۔ ”

پچھلے برس مینار پاکستان پہ عائشہ کے کپڑے پھاڑ کر برہنہ کیا گیا تو عائشہ کو بری لڑکی سمجھ کر دل کو تسلی دینے والوں کی کمی نہیں تھی۔

خدیجہ کے ساتھ ایک گھر کے اندر وحشت و بربریت کا کھیل کھیلا گیا، اب گھڑ لیجیے تاویلات، خدیجہ نے اینا سے دوستی کیوں کی؟ اینا کے گھر آنا جانا کیوں شروع کیا؟ میل ملاقات کیوں رکھی؟ شاید تحفے تحائف بھی وصول کیے تو کیوں کیے؟

جی بالکل وہی توجیہہ کہ اکیلی عورت موٹر وے پر رات کے وقت گئی کیوں؟ یا پھر عورت قبر میں اکیلی لیٹی کیوں؟

موٹر وے پہ اکیلی گئی یا شیخ دانش کے گھر گئی، کیوں گئی؟ آ گیا شیر کی کچھار میں گھسنے کا مزا؟

جنگل ہے بھئی جنگل! تبھی تو ہر دوسرے دن خبر آتی ہے، عورت ریپ ہو گئی، عورت کو جلا دیا گیا، عورت کے منہ پہ تیزاب پھینک دیا گیا، عورت کے گلے میں پھندا ڈال کر لٹکا دیا گیا۔

احتجاج ہوتا ہے، میڈیا میں خبر چلتی ہے، لوگ افسوس کرتے ہیں، مجرموں کو سزا دینے کی اپیل کرتے ہیں۔ گرد بیٹھ جاتی ہے، عورتیں رو دھو کر چپ کر جاتی ہیں اور پھر ایک اور عورت زد میں آ جاتی ہے۔

کیوں؟ کیوں کچھ نہیں بدلتا؟ کیوں عورت کے نصیب میں لکھی کالک مٹتی نہیں؟
سوچیے، جواب کیا ہے؟
غور کیجیے سمجھ آ جائے گا۔

صدیوں سے پدرسری نظام میں طاقت کا محور مرد ہے۔ طاقت ایک ایسا نشہ ہے جو جسے مل جائے اسے نہ چاہتے ہوئے بھی بد مست کرتا ہے۔

طاقتور جو چاہے کر سکتا ہے، اس کی حکم عدولی کوئی نہیں کر سکتا، اطاعت کمزور پہ فرض ہے، کمزور / بے بس کی کیا مجال کہ وہ طاقتور کے بنائے ہوئے دائرے سے باہر نکلنے کی جرات کرے۔ ایسی ہمت دکھانے والے سرکش باغی کی سرکوبی کی جائے گی اور سبق سکھایا جائے گا۔ امان صرف اسے ملے گی جو طاقتور کی پناہ میں آ کر اس کے ساتھ اس کی مرضی کا کھیل کھیلے گی۔

دیکھ لیجیے صدیوں سے رائج رسوم و رواج!
مرد عیاشی کرے، کفارہ اس کے گھر کی عورت ونی بن کر ادا کرے۔
مرد کو غصہ آئے، عورت خاموشی سے سنے۔
مرد بے چین ہو تو عورت بستر پر آ جائے۔
مرد کو مردانگی دکھانے کے لیے عورت کو ہر برس حاملہ کرنا ہو، عورت کیسے انکار کرے۔
مرد کو عورت پسند آ جائے، عورت کی مرضی بھاڑ میں جائے۔
مرد گھر سے باہر عیاشی کرنا چاہے، عورت منہ پر قفل لگائے۔
مرد بچے چھین کر گھر سے نکال دے، عورت بے بسی سے منہ دیکھے۔
مرد دو منٹ میں طلاق دے کر فارغ کرے، عورت کا کیا کام کہ احتجاج کرے۔
عورت خلع لینا چاہے، مرد برسوں عدالتوں میں گھسیٹے۔
مرد وراثت میں حصہ نہ دینا چاہے، عورت قرآن سے شادی کروائے۔
مرد عورت کو تعلیم حاصل کرنے کی اجازت نہ دے، عورت سر کو جھکائے۔
مرد عورت کی پسند کی شادی پر قدغن لگائے، عورت سر جھکائے۔
مرد عورت پہ بے راہ روی کا الزام لگائے، عورت ناکردہ گناہوں کی سزا بھگتے۔
مرد عورت کی ٹھکائی لگائے، عورت نیل و نیل جسم کی سکائی کر کے اگلی بار کا انتظار کرے۔

مرد کا جی جب چاہے، جلا کر راکھ کر دے، بچیوں پر جسمانی تشدد کرے، راہ چلتی عورت کو نہ چھوڑے، منہ پہ تیزاب ڈال دے یا اغوا کر کے جوتی چٹوائے۔ یہ اختیار اسے کسی اور نے نہیں پدرسری نظام نے دیا ہے۔ اسی نظام کی طاقت سے وہ کچھ نادان عورتوں کو اپنا مہرہ بنا کر سامنے لے آتا ہے۔ کون سمجھنے کی کوشش کرتا ہے کہ پس پردہ اس کٹھ پتلی کی ڈور کس کے ہاتھ میں ہے؟

وہ لوگ جو ہماری باتوں کو جھٹلا دیتے ہیں، اور پارسا بن کر یہ سوچتے ہیں کہ ایسی حرکت ان سے تو سرزد نہیں ہوئی۔ وہ کبھی اپنے گھر کی عورت سے پوچھ کر تو دیکھیں کہ ان کا کون سا جملہ اور کون سے الفاظ عورت کے جسم پر کوڑے بن کر برستے ہیں اور کب کب عورت محسوس کرتی ہے کہ وہ جوتے چاٹ رہی ہے۔

بہنو، اگر آپ کے گھر کا مرد یہ سب نہیں کرتا، تب بھی کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر کے حقائق مت جھٹلائیے۔ ان عورتوں کا ساتھ دیجیے جن کے دامن جل رہے ہیں۔ سوچ لیجیے کل یہ آگ آپ کی بیٹی تک بھی پہنچ سکتی ہے۔

اٹھو، پدرسری نظام توڑ دو۔

Facebook Comments HS

One thought on “جوتی نے جوتی چاٹ لی تو کیا ہوا؟

  • 23/08/2022 at 10:23 شام
    Permalink

    مردہ ضمیر کو جھنجھوڑنے والی تحریر ۔ اگر مسلمان ہو تو اسلام کے دءیے ہوئے حقوق کو مانگو چاہے ان کو دبانے والا باپ ہو بھائی ہو یا شوہر ہو۔ اور اس سب کے لیے عورت کا تعلیم یافتہ ہونا ضروری ہے

Comments are closed.