زبان غیر سے۔ کچھ تلخ و شیریں

انسان کی سرشت میں ہے کہ وہ بولنا چاہتا ہے، کہنا چاہتا ہے، سنانا چاہتا ہے لیکن دوسروں کی سننے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔ اتفاق سے ہم بھی ایک انسان ہی ہیں اگرچہ مقام انسانیت سے کوسوں دور ہیں۔
تو ہم مجبور تو نہیں لیکن پھر بھی قصۂ درد سناتے ہیں۔
تو قصۂ درد یہ ہے کہ ایک مدت سے خواہش تھی کہ اپنی بے سروپا باتوں سے یار لوگوں کو بور کیا جائے۔ لیکن احباب کی خوش قسمتی آڑے آتی رہی کہ یہ ایک خواہش ہی رہی اور وہ صاف بچتے رہے۔ مگر اب لگتا ہے کہ ان کے ستارے گردش میں آ گئے ہیں اور ہم بڑی باقاعدگی سے انھیں تختۂ مشق بنا سکیں گے۔
پھر خیال آیا کہ آخر اس لغویت کا، اس بکواس کا کچھ تو عنوان بھی ہونا چاہیے۔ شاعروں اور ادیبوں کے دیوانوں سے لے کر مجلے تک چھان مارے مگر گوہر بکواس ہاتھ نہ آیا۔ تنگ آ کر ایک بار پھر سے سر کھپانا شروع کیا۔ جب اچھی طرح کھپ گیا تو عنوان بھی مل گیا۔ خواجہ حیدر علی آتش کی ایک مشہور غزل کا شعر ہے۔
پیامبر نہ میسر ہوا تو خوب ہوا
زبان غیر سے کیا شرح آرزو کرتے
سو اپنے مضمون کا عنوان آتش سے مستعار لینا پڑا۔ بعد میں احساس ہوا کہ اس میں بھی حکمت پوشیدہ ہے کہ اگر کل کو لوگ اس بکواس کو درخور اعتناء سمجھتے ہوئے پسند کریں اور ہمارا گھیراؤ کرنا چاہیں تو بڑی صفائی سے دامن بچایا جا سکتا ہے کہ دیکھو میاں۔ یہ حقیقت افشانی کسی زبان غیر کا کرشمہ ہے۔ ہم تو ازل سے آپ کے بہی خواہ ہیں۔
عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ پان شاپ، ٹی سٹال، بس سٹاپ، باربر شاپ وغیرہ جہاں بھی دو یا دو سے زیادہ افراد جمع ہو جائیں، وہاں بڑی اعلیٰ درجے کی بکواس سننے کو ملتی ہے۔ یہ واحد کام ہے جو ہم 24 گھنٹے کرنے کو تیار رہتے ہیں۔ اور یہ واحد فیلڈ ہے جس میں دنیا کی کوئی قوم ہماری برابری نہیں کر سکتی۔ ایسے ایسے نکتے سننے کو ملتے ہیں کہ دنیا کی بڑی بڑی یونیورسٹیوں میں بھی نہیں پڑھائے جاتے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس کو باقاعدہ ایک صنعت کا درجہ دے دیا جائے۔ اگر حکومت اس پر توجہ دے تو اس شعبے کی ترقی کے بڑے روشن امکانات ہیں۔ بلکہ اعلیٰ درجے کے بکواسیوں کو دوسرے ممالک کو برآمد کر کے کثیر زرمبادلہ بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔
آج کل سیاست پر بولنا ایک فیشن بنتا جا رہا ہے۔ اس دور میں پالیٹیکس پر گفتگو کرنا سب سے آسان ہے۔ اس کے لئے آپ کو کوئی خاص تردد بھی نہیں کرنا پڑتا۔ اور نہ ہی آپ کو کسی خاص اہلیت یا مہارت کی ضرورت ہوتی ہے۔ آپ بغیر کسی ہچکچاہٹ کے، کسی بھی گورنمنٹ پر تنقید کر سکتے ہیں یا اس کی تعریف کر سکتے ہیں۔ دونوں صورتوں میں آپ کو اپنے ہمنوا مل جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج کل ابتدائی کلاسوں کے طالب علموں سے لے کر عمر رسیدہ افراد تک آپ کو سیاست کے دانشور ہر جگہ نظر آئیں گے۔ اور سیاسی گفتگو کے دوران جیسے جیسے آپ کے تیور غضب ناک ہوتے جائیں گے، آپ اتنے ہی ایکسپرٹ سمجھے جائیں گے۔
افسوس اس بات کا ہے کہ یہ بنیادی فارمولا سمجھ لینے کے باوجود ہم میں یہ اہلیت پیدا نہیں ہو سکی۔ ہم اس بہتی گنگا سے ہاتھ نہ دھو سکے۔ اور کنارے پر ہی کھڑے للچائی نظروں سے اس میں اشنان کرنے والوں کو دیکھتے رہے۔ اس کے لئے ہم کسی کو مورد الزام نہیں ٹھہرا رہے۔ یہ سراسر ہماری ذاتی بزدلی ہے۔ لیکن یہ نہ سمجھئے گا کہ ہم نے کبھی کوشش ہی نہیں کی۔ ہم نے کئی بار اس بھاری پتھر کو اٹھانے کی کوشش کی۔ لیکن ابھی ہم کھنکھار کر گلا صاف کر رہے ہوتے ہیں اور احباب پہلے ہی ڈی چوک تک جا پہنچتے ہیں۔
ایک طرف ہماری یہ کم ہمتی اور دوسری جانب احباب کی مستقل مزاجی کہ گالیاں کھا کے بھی بے مزہ نہیں ہوتے۔ بلکہ نئی گالیاں کھانے کے لئے کمربستہ ہو جاتے ہیں۔ اور سیاست کے کوچے سے بے آبرو ہو کر بھی نکلنے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔
اب ان تمام باتوں کو احباب بکواس سمجھ لیں یا دانشوری کہہ کر غبارے میں مزید ہوا بھر دیں۔ ہم تو صرف ہلکی پھلکی چند باتیں کہنا چاہتے تھے۔ لیکن میاں محمد بخش صاحب یاد آ گئے ہیں۔
بس کر میاں محمد بخشا! موڑ قلم دا گھوڑا
ساری عمر دکھ نہیں مکدے، ورقہ رہ گیا تھوڑا

