شب برات: پلیز مجھے معاف کر دیں

”اگر کبھی جانے انجانے میں میں نے آپ کا دل دکھایا ہو تو پلیز مجھے معاف کر دیں۔ کیا پتہ کل میں رہوں نہ رہوں۔ اور مجھے آپ سے معافی مانگنے کا موقع نہ مل سکے۔“ شب برات کے موقع پر اس قسم کے پیغامات اور اطلاعات کی بھرمار ہو جاتی ہے۔ تقریباً ہر ایک اپنے پچھلے گناہ بخشوا کر اگلی ٹرم کے لیے کم کس لینا چاہتا ہے۔ شاید ہم اس دن کو ظاہری معافی مانگنے کے دن کے

Read more

زبان غیر سے۔ کچھ تلخ و شیریں

انسان کی سرشت میں ہے کہ وہ بولنا چاہتا ہے، کہنا چاہتا ہے، سنانا چاہتا ہے لیکن دوسروں کی سننے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔ اتفاق سے ہم بھی ایک انسان ہی ہیں اگرچہ مقام انسانیت سے کوسوں دور ہیں۔ تو ہم مجبور تو نہیں لیکن پھر بھی قصۂ درد سناتے ہیں۔ تو قصۂ درد یہ ہے کہ ایک مدت سے خواہش تھی کہ اپنی بے سروپا باتوں سے یار لوگوں کو بور کیا جائے۔ لیکن احباب کی خوش قسمتی

Read more

دریائے عاشقاں کی جانب ایک سفر

کیا سوہنی آج بھی چناب کے پہلو میں رات ہونے کا انتظار کر رہی ہے؟ کیا اس کا گھڑا آج بھی کچا ہے؟ کیا اس کا پیار آج بھی اتنا ہی سچا ہے؟ ہمارے پاس کسی کے پیار کی سچائی ماپنے کا نہ تو اختیار تھا اور نہ ہی پیمانہ۔ لیکن ہم پھر بھی چل پڑے تھے۔ کنے کنے جانا بلو دے گھر۔ تو بلو دے گھر کون کون جا رہا تھا؟ ڈاکٹر نزہت، چوہدری عطاء میراں کو اسسٹ کر

Read more

لائبریری کی باتیں

لائبریری اگرچہ ایک پرسکون گوشہ ہوتی ہے، جہاں لوگ مطالعہ کرنے جاتے ہیں۔ کتابیں لینے یا دینے جاتے ہیں۔ تقریباً ہر لائبریری میں باتیں کرنا، شور کرنا ممنوع ہوتا ہے۔ لیکن پھر بھی کچھ دیوانے لائبریری میں باتیں کرنے جا رہے تھے۔ اس کے تقدس بھرے سکوت کو اپنی آوازوں سے درہم برہم کرنے جا رہے تھے۔ اس کی سناٹے والی جھیل میں اپنے دہنوں سے پتھر پھینکنے جا رہے تھے۔ اور یہ دیوانے ایسے بھی نہ تھے کہ لائبریری

Read more

ادب اور ادیب

آپ جیسے اہل علم و ادب کی موجودگی میں کوئی بات کرنا گویا سورج کو چراغ دکھانے کے برابر ہے۔ لیکن

کچھ تو کہئے کہ لوگ کہتے ہیں
آج غالب غزل سرا نہ ہوا

کے مصداق کچھ نہ کچھ تو کہنا ہی پڑے گا۔ کوئی نہ کوئی بات تو کرنی ہی پڑے گی۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ

بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی۔

Read more

تبصرہء کتاب ۔ حبس

مصنف۔ حسن منظر تبصرہ۔ غلام قادر ”حبس“ نام ہے اس خونچکاں تحریر کا جو برسوں پر پھیلی ہوئی نا انصافی کا المیہ ہے۔ جو مغرب کے دوہرے معیار کی آئینہ دار ہے۔ جب مغربی استعمار کو یہود پر ہونے والے ہولو کاسٹ کا کفارہ ادا کرنے کا خیال آیا تو قربانی کے لئے قرعہ ء فال فلسطینیوں کے نام نکلا۔ جن کا واحد قصور ان کا مسلمان ہونا تھا۔ یورپ کے سفید یہودیوں کو وہاں لا بسانے کا تمغہ برطانیہ

Read more