قانونی پہلو: کیا عمران خان پر دہشت گردی کا مقدمہ بن سکتا تھا؟
عمران خان ایک فرد ہیں، جو کہ پاکستان کے معزز شہری بھی ہیں۔ مملکت پاکستان کے لیے ان کے کچھ فرائض بھی بنتے ہیں، ایک جماعت کے سربراہ اور سابقہ وزیراعظم ہونے کے ناتے سے، ان کے فرائض عام شہری سے زیادہ ہیں، لہذا ان کو اپنی ذات سے بڑھ کر ملک کا سوچنا چاہیے، ان کو چاہیے کہ پارٹی ورکروں کی سیاسی تربیت بڑھ چڑھ کر کریں اور ایسی کریں تاکہ وہ پاکستان اداروں کو نقصان کے بجائے فائدہ پہنچائیں۔ لیکن وہ اس بات کو سمجھنا نہیں چاہ رہے، بلکہ وہ ابھی بھی یہ سمجھ رہے ہیں کہ وہ وزیراعظم ہیں، اداروں سے بالا تر ہیں اس لیے وہ بڑی بے شرمی سے عدلیہ کو نشانے پر لگائے ہوئے ہیں۔
حالانکہ پاکستان سے بڑھ کر کوئی نہیں چاہے وزیراعظم کیوں نہ ہو۔
20 اگست کو پی ٹی آئی احتجاجی جلسہ کر رہی تھی، وہ جلسہ شہباز گل کی گرفتاری و ریمانڈ پر تھا، اس جلسے میں ایک مجسٹریٹ علی جاوید بھی موجود تھا، جو کہ عمران خان کے کیس میں مدعی بھی ہیں۔ عمران خان نے اس جلسے کے خطاب میں کہا کہ:
آئی جی کچھ شرم کرو، اور ڈی آئی جی تم کچھ شرم کرو، تم کو نہیں چھوڑنا۔
آگے چل کر عمران خان کہتے ہیں کہ ؛
مجسٹریٹ صاحبہ زیبا آپ بھی تیار ہوجائیں، آپ پر بھی ایکشن لینا ہے ہم نے، آپ سب کو شرم آنی چاہیے ( وہ مجسٹریٹ نہیں ایڈیشنل سیشن جج ہیں) ۔
اس بات پر علی جاوید نے پولیس رپورٹ درج کروائی، اور پولیس نے عمران خان پر سیکشن 7 انسداد دہشتگردی ایکٹ لگایا ہے۔
عمران خان کی تقریر پر کیس کون سا بنتا ہے
عمران خان پر توہین عدالت کا کیس لگنا تھا وہ اس لیے کیونکہ خان صاحب نے، عدالت کا تمسخر اڑایا ہے، اور اس کی سزا توہین عدالت اور اس کے الفاظ اس زمرے میں آتے ہیں۔
انسداد دہشت گردی کا کیس
خان صاحب پر جو انسداد دہشتگردی کا سیکشن 7 لگایا گیا ہے جو کہ نہیں لگنا چاہیے تھا کیونکہ یہ دفعات اس ملزم پر لگتی ہے جس کے عمل سے عوام میں خوف و ہراس پھیلے۔
اس پر سپریم کورٹ کی بھی ججمنٹ ہے
2020 SCMR 78
اس ججمنٹ کے مطابق چاہے کتنا بھی سنگین جرم ہو لیکن اگر عوام میں خوف و ہراس نہیں پھیلتا یہ سیکشن نہیں لگ سکتا۔ اس کیس کے لگنے کے بعد خان صاحب نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے ضمانت لے رکھی ہے، لیکن آگے چل کر وہ اس کیس سے بری ہوجائیں گے۔
لیکن خان صاحب پر اداروں پر حملے اور توہین عدالت کا کیس لگے گا۔
اچھا ہوتا وہ مجسٹریٹ صاحب اس کیس داخل کرنے سے پہلے مشاورت کر کے توہین عدالت لگواتے تو اچھا تھا۔
بہرحال خان صاحب کا عدالت پر یہ الفاظ بولنا عوام میں غصہ پیدا کر رہا ہے۔ کیونکہ ادارے بھی تو پاکستان ہیں۔

