عورت اور مرد کی دیوانگی


عورت وہ نہیں جو ہزاروں مردوں کو دیوانہ کرے! بلکہ عورت تو وہ ہے جو ایک ہی مرد کو ہزار بار دیوانہ کرے ”۔

یہ جملہ یا ایسے کئی جملے آپ کو سننے میں ملیں گے۔ عورت کے حسن و جسم کی تعریف میں کیا کیا نہیں کہا گیا۔ پسندیدہ عورت کا گیت گاتے ہوئے مرد زمین و آسمان کے قلابے ملا دیتے ہیں، اپنا ہوش گنوا بیٹھتے ہیں۔ مگر، جو کام کرنے کا ہے اس کے لیے خود کو کبھی آمادہ نہیں کرتے کہ محنت طلب اور تسلسل مانگتا ہے۔ ارے بھائی، ایک ہی مرد کو ہزار بار دیوانہ بھی عورت کرے (اور پھر یہ الزام بھی اپنے سر لے کہ مرد کو کہیں کا نہیں چھوڑا، پاگل بنا کے رکھ دیا) ، بقول شخصے چھاتیاں اس کی خدا، وہ خود حسن و نزاکت کی دیوی۔ انسان بھی مانتے ہو اس کو کہ نہیں؟ وفا شعار، فرمانبردار، سگھڑ و خوش سلیقہ، باکردار وغیرہ یہ سب خوبیاں اور صلاحیتیں بھی پسندیدہ عورت میں ہی ہونی چاہیے۔ آخر تم کس مرض کی دوا ہو؟ تمہارے ذمہ بھی کچھ فریضہ سر انجام دینے کو ہے کہ نہیں؟

تم ریوڑ سے جدا ہو جانے والی بھیڑ کی طرح یا شتر بے مہار بنے جہاں دل کہے پھدکتے پھرو۔ بس یہی تک ہے تمہاری مردانگی؟ وفا شعاری، خوش خیالی، شائستگی میں آپ کا کچھ حصہ ہے کہ نہیں؟ مردانگی کے اپنے تصور کو بہتر بنانے کی اور آدمیت کی سطح پر لانے کی کچھ ذمہ داری آپ پر بھی ہے؟

ایک مرد یہ کیوں نہیں کر سکتا؟

ہزاروں عورتوں کی بجائے ایک ہی عورت کو ہزار بار دیوانہ! (ہزار بار دیوانہ کرنے کا مقصد ہرگز ہرگز بھی ہزار بچے پیدا کرنا نہیں ہے۔ وضاحت ضروری معلوم ہوئی) اگر دیوانگی ہی چاہیے تو کام بانٹ کیوں نہیں لیتے؟ جسم و حسن ہی چاہیے تو جسم کے تقاضوں کو بھی کچھ سمجھ لینے کی کوشش کرو۔

ہوش و حواس سے گزاری گئی باعزت زندگی کیوں نہیں اچھی لگتی تمہیں؟ عورت کو مکمل انسان تسلیم کرتے ہوئے، زندگی کا ساتھی سمجھ کر۔ اس کے جسم کے سب تقاضے قبول کرتے ہوئے۔ اس کے ذہن اور انفرادیت کا لحاظ رکھتے ہوئے۔ اس کے جذبات کی قدر کرتے ہوئے۔ صرف اپنے من پسند حصے ہی تمہیں پرکشش لگتے ہیں؟ بقایا جسم کا کیا؟ جذبات کا کیا؟ دیوانگی ایک حد تک، ایک دائرہ میں پر کشش ہو سکتی ہے لیکن کیا صرف حسن و دیوانگی کے سہارے پوری زندگی بھی بسر کی جا سکتی ہے؟

تعلق جب مکمل انسان سے قائم ہو گا تو پیش نظر بھی مکمل انسان ہونا چاہیے۔ جو جسم کے ساتھ ساتھ، جذبات اور خیالات بھی رکھتا ہے۔ جس کو عزت و احترام، زندگی میں شراکت، فیصلہ سازی میں مشاورت، انفرادیت کا اظہار، اپنے دائرے میں آزادی کا اختیار، وقت، توجہ (بستر کے علاوہ بھی) چاہیے۔ کیا مرد کو یہ سب نہیں چاہیے؟ تو بھائی، عورت بھی مرد جیسی انسان ہی ہے۔ اعضاء مختلف ہیں۔ خیالات میں بھی فرق ہو گا لیکن ضرورتیں تو ایک سی ہیں ناں؟ جسمانی ہوں یا جذباتی۔

ظالمو، انسان کو مکمل قبول کرنے سے مکمل حسن کا جلوہ بھی دکھنے میں آئے گا اور ہزار عورتوں کی منت سماجت کرنے کی حاجت بھی نہیں رہے گی۔ بس وجود کی خوبیوں خامیوں سمیت تحسین کرنا سیکھ لو۔ عورت کو اپنے جیسا مکمل شخص تسلیم کرتے ہوئے عزت و احترام سے اپنانے کی صلاحیت پیدا کرلو۔

Facebook Comments HS