ڈاکٹر خالد سہیل کا نام پہلی دفعہ اس وقت میری نظر سے گزرا جب میں ظلمت شب کتاب کا مطالعہ کر رہا تھا وہ ایک ایسی کتاب تھی کہ جس نے میرے خیالات کو یکسر بدل ڈالے۔ ظلمت شب کتاب کا مصنف جمیل خان ہے۔

جہاں ایک طرف یہ کتاب براہ راست میرے خیالات پر اثرانداز ہو رہی تھی تو دوسری طرف اس کتاب پر ڈاکٹر خالد سہیل کا تبصرہ پڑھ کر احساس ہوا کہ ایسے حالات میں صرف ایک جمیل خان ہی نہیں بلکہ ڈاکٹر خالد سہیل اور اس طرح اور بھی بہت سارے ادیب ہیں جو ان خاص موضوعات پر لکھتے رہتے ہیں۔ ”میں ایسے لکھنے والوں کا پرستار ہوں جن کا قلم نہ لرزتا ہے نہ بکتا ہے بلکہ اپنے قلم سے لوگوں کو معاشرے کی تصویر کا دوسرا اور تیسرا رخ دکھاتے ہیں۔

کتاب ”آدرش“ ہم سب ویب سائٹ پر شائع شدہ کالمز کا مجموعہ ہے۔ اس کتاب کو مختلف موضوعات کے حوالے سے مختلف حصوں میں بانٹا ہے یعنی کہ جو کالم جس موضوع کے حوالے سے لکھا گیا ہے اس کو اسی خانے میں ڈال دیا ہے۔ مجموعی طور پر پانچ حصے ہیں پہلا حصہ انسانی نفسیات پر مشتمل ہے۔ دوسرا حصہ سماجی کالمز پر اور اسی طرح بالترتیب باقی حصے ادبی، سیاسی اور فلسفیانہ کالمز پر مشتمل ہیں۔

ڈاکٹر خالد سہیل نے MBBS خیبر میڈیکل کالج خیبر پختونخوا سے کی ہے اور اعلٰی تعلیم کے لئے کینیڈا گئے اور وہاں سے ڈاکٹری کی تعلیم حاصل کی۔ اس وقت ڈاکٹر خالد سہیل کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں اپنی کلینک Green Zone Therapy میں ماہر نفسیات لوگوں کی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ 1988 میں ڈاکٹر صاحب کی کتاب ”بھگوان، ایمان اور انسان“ کے نام سے شائع ہوئی اور اس پر منیر پرویز سامی کہتے ہیں کہ وطن عزیز میں ایسے سنگین حالات میں خالد سہیل کا ایسی کتاب کا شائع ہونا بذات خود ان کی ثابت قدمی اور دلیری کا ثبوت ہے۔ میرا خیال ہے کہ چونکہ ڈاکٹر صاحب یہاں سے سات سمندر پار دور ہے اس حوالے سے بالکل خوش قسمت ہے ورنہ توہم پرست ٹولے نے وطن عزیز میں ایسے لکھنے والوں کو زندہ سلامت نہیں چھوڑا ہر قدم پر ایسے لکھنے والوں کا پیچھا کیا ہے اور اپنے خواہش کے مطابق ان کے لئے سزائیں بھی تجویز کی ہے۔

اس کتاب میں ڈاکٹر خالد سہیل نے ایک یونانی لفظ استعمال کیا ہے اور اس لفظ کے پیچھے پوری ایک کہانی لکھ ڈالی ہے جس کا عنوان ہے ”میری میوس کہاں چھپ گئی ہے“ ۔ مجھے ڈاکٹر خالد سہیل پر رشک آتا ہے کہ اس کا روٹھی ہوئی محبوبہ ”میوس“ واپس اسے مل گئی اور روز مصنف کے لئے نئی کہانیاں بطور تحفہ ان کی خدمت میں پیش کرتی ہے۔ مگر میرے لئے تو کتاب پر ریویو لکھنا بھی اتنا مشکل ہوجاتا ہے کہ میں جب کتاب مکمل کرتا ہوں پھر ریویو میرے لئے ایک ٹینشن کا سبب ہوتا ہے کہ اب ریویو کا کیا کروں گا کیسے لکھوں گا گویا اس قدر مشکل ہوجاتا ہے جیسے پوری کتاب لکھنا ہو۔ بہرحال مشکل تو نہیں ہے مگر نجانے میرے لئے کیوں اتنا مشکل ہے۔ خدا کرے کہ میرا میوس بھی واپس آ کر میرے پہلو میں بیٹھ جائیں روز مجھے نئے کہانیاں بطور تحفہ پیش کریں اور یوں یہ سلسلہ چلتا رہے۔

نفسیاتی کالمز کے حصے میں ڈاکٹر صاحب ایک شخص کا ذکر کرتا ہے جس نے خودکشی کرنے کی کوشش کی تھی بعد میں ڈاکٹر صاحب نے اس کے مرض کی تشخیص کر کے نتیجتاً یہ کہ بالآخر وہ ایک ہنسی خوشی زندگی گزارنے لگے۔ اس کے ساتھ ”دو بہنوں کی کہانی“ ایک بہن احساس کمتری کا شکار تھی اور اپنی نفسیاتی علاج کے لئے وہ ڈاکٹر صاحب کی خدمت میں پیش ہوئی۔ ڈاکٹر صاحب اس لڑکی کا علاج کرانے میں بھی کامیاب ہوئے اور آخر کار اس لڑکی کا خود پر اعتماد بھی بحال ہوا اور ایک دن اسٹیج پر بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کر کے سب کا دل جیت لیا یہ سب ڈاکٹر خالد سہیل کے علاج کی بدولت ہوا۔ اسی طرح ادبی کالمز میں بھی ڈاکٹر صاحب نے رومی اور شمس کے محبت سے لے کر منیر نیازی سے ملاقات تک مختلف حوالے سے مختلف کالمز لکھے ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ڈاکٹر خالد سہیل صرف ماہر نفسیات ہی نہیں بلکہ ادب سے بھی لگاؤ رکھتے ہیں ایک ادیب اور بہترین شاعر بھی ہے۔

منیر پرویز سامی کہتے ہیں کہ ڈاکٹر خالد سہیل جس پیغام کا پیامبر ہے وہ ہے انسان دوستی، انسانیت اور محبت ہے۔ ڈاکٹر خالد سہیل کتاب ”آدرش“ پڑھ کر واقعی احساس ہوا کہ ڈاکٹر خالد سہیل صاحب پیار اور محبت سے مالامال شخصیت ہے جس نے بہت سارے لوگوں کے دلوں میں جگہ بنائی ہے اور آخر میں یہ کہنا ضروری ہے کہ اگر وقت ملے تو ”آدرش“ کا مطالعہ ضرور کریں اور یہ کتاب میں نے اپنے حلقے کے دوستوں میں سے کسی ایک دوست کو دیا ہے تاکہ وہ بھی پڑھے اور میری طرح وہ بھی اس سے استفادہ حاصل کریں۔