لالہ فہیم بلوچ: کتاب کا وارث گمشدہ


گزشتہ روز متاثرین کے لیے کراچی سے نصیر آباد سامان روانہ کر کے حب چوکی پہنچنے کے بعد مجھے دنیا کی مقبول ترین سماجی ویب سائٹ ٹویٹر استعمال کرنے کا موقع ملا۔ کچھ ٹویٹس کا جواب دینے کے بعد میری نظر ایک ٹویٹ پر پڑی جس پر لکھا ہوا تھا۔ ادارہ علم و ادب پبلشرز کے منیجر لالہ فہیم بلوچ کو سندھ پولیس کراچی اردو بازار سے اپنے ساتھ لے گئی۔

بلوچستان کا نگہبان ہونے کے ناتے مجھے بہت غصہ اور مایوسی ہوئی اور میں نے بے چینی کے عالم میں ان کے بارے میں طرح طرح کی خبریں پڑھنا شروع کر دیں اور پڑھتے پڑھتے میری مایوسی مزید شدت اختیار کرنے لگی۔

خبر کی تفصیلات کچھ یوں تھی

بروز جمعہ کراچی کے معروف ادبی بازار اردو بازار سے پاکستانی سیکورٹی فورسز کے اہلکار علم و ادب پبلشرز کے منیجر کو گرفتار کر کے اپنے ساتھ لے گئے۔

تفصیلات کے مطابق کراچی کے علاقے اردو بازار سے جمعہ کی شام علم و ادب پبلشرز کے منیجر لالہ فہیم بلوچ کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے شناخت کے بعد گرفتار کر کے اپنے ساتھ لے گئے۔

عینی شاہدین کے مطابق سندھ پولیس و سادہ کپڑوں میں ملبوس اہلکار پوچھ گچھ اور شناخت کے بعد میں ان کی دکان بند کروا کر انہیں گرفتار کرنے بعد اپنے ساتھ لے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ علم و ادب پبلشرز پاکستان کی سطح پر ایک معروف پبلشنگ ہاؤس ہے جہاں بلوچی ادب اور دیگر زبانوں میں تحقیقی کتابیں شائع کی جاتی ہیں۔

اور پھر میں سوچنے لگا کہ بلوچ اتنا بے بس اور لاچار کیوں ہے؟ آخر اس جدید دور میں بھی ایسا ہو سکتا ہے کہ اردو بازار جیسے مشہور بازار میں کوئی کسی کو اٹھا کر لے جائے اور کوئی اسے پوچھنے والا نہ ہو۔ لالہ فہیم بلوچ بخوبی جانتے تھے کہ یہ انجان لوگ کبھی نہ کبھی انہیں غائب کر دیں گے اور اکثر اپنے دوستوں سے کہا کرتے تھے کہ یہ نامعلوم لوگ مجھے کسی بھی وقت غائب کر سکتے ہیں، بس مایوس نہ ہوں، علم کا ساتھ نہ چھوڑیں۔ قومیت کو کبھی نقصان نہ پہنچنے دیں۔

اللہ سے دعا ہے کہ لالہ کو سلامت اور تندرست رکھے اور بہت جلد ہمارے ساتھ ہو۔

Facebook Comments HS