سیلاب کے بعد اناج کا بحران
ہر قدرتی آفت شاید غریب کا ہی امتحان ہوتی ہے۔ 2005 کا بالاکوٹ زلزلہ ہو، 2010 کا سیلاب ہو یا 2022 کا ملک گیر سیلاب ہو، آپ ان تینوں قدرتی آفات کا ڈیٹا نکال لیں۔ آپ کو 98 فیصد ان آفات سے ہلاک شدگان غریب ہی ملیں گے۔ موجودہ سیلاب پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا اور خوفناک سیلاب ہے۔ جس نے تقریباً پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ اس وقت صرف سینٹرل پنجاب، آزاد کشمیر، گلگت اور فاٹا ہی محفوظ رہ گئے ہیں۔ ہمارے ملک میں صرف پانچ دریا ہیں اور سمندر وہ بھی صرف کراچی اور گوادر کی بندرگاہ کو لگتا ہے۔
خوش قسمتی سے پاکستان کو کبھی سمندری طوفان کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ جبکہ بنگلادیش کے شہر چٹانگانگ کو دریاؤں کی سرزمین کہا جاتا ہے۔ بنگلادیش میں شاید ہی کوئی ایسا دن گزرتا ہو گا جب وہاں بارش نہ ہوتی ہو گی۔ اس کے باوجود بنگلادیش میں اتنے بڑے پیمانے پر کبھی تباہی نہیں مچی۔ بنگلادیش جب تک مغربی پاکستان تھا وہاں سیلاب آتے تھے لیکن جیسے بنگلادیش ہی بن گیا وہاں سیلاب آنا بند ہو گئے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ ان لوگوں نے ایک سسٹم بنایا۔
آج تک بنگلادیش میں کبھی ایسا سیلاب نہیں آیا جس نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لیا ہو۔ جبکہ پاکستان میں تقریباً ہر سال اپنے قیام سے لے کر آج تک مسلسل سیلاب آرہے ہیں۔ لیکن یہ پہلی بار اتنا بڑا ملک گیر سیلاب آیا۔ ہم اس کے باوجود بھی سیلاب سے نمٹنے کے لئے کبھی پیشگی انتظامات نہیں کرتے۔ ہم 75 سالوں میں صرف دو بڑے ڈیم بنا سکے۔ اس کے بعد ہم کوئی بڑا ڈیم نہیں بنا سکے۔ کروڑوں ٹن پانی گزشتہ ایک ماہ کے دوران سیلاب کی صورت میں ضائع ہو چکا ہے جو اگلے پندرہ دن تک مزید ضائع ہوتا رہے گا۔
اگر ہم نے بلوچستان میں تین بڑے ڈیم، سندھ میں دو بڑے ڈیم، کے پی میں دو ڈیم اور پنجاب میں پانچ بڑے ڈیم بنائے ہوتے تو شاید آج یہ سیلاب بھی نہ آتا اور نہ اس کی تباہ کاریاں دیکھنی پڑتی۔ تربیلا اور منگلا ڈیم کے بعد ہم نے دیامر اور بھاشا ڈیمز بنانے شروع کیے یہ ڈیمز گزشتہ بیس سال سے مکمل ہونے کا نام نہیں لے رہے۔ بابا رحمتے ڈیم فنڈ کے نام پر 9 ارب جمع کر کے گیا جس کی کیمپین پر ہی صرف 12 ارب خرچ کر دیے گئے۔ آج معلوم نہیں وہ 9 ارب کہاں گئے۔
ان ڈیمز کی زمین پہلی بار سابق وزیر میاں نواز شریف نے خریدی۔ واپڈا کے ریکارڈ کے مطابق دیامر ڈیم پر 10 فیصد اور بھاشا ڈیم کا صرف 12 فیصد کام مکمل ہوا۔ عمران خان نے کل ہی کہا ہے میں نے اپنے دور میں دس ڈیمز بنانے شروع کیے تھے۔ ویسے مجھے ذاتی طور پر ایک ہی ڈیم کا معلوم ہے جو مہمند ڈیم کا افتتاح کیا تھا جس کا ٹھیکہ عمران کابینہ کے وزیر تجارت رزاق داؤد کے بھائی حسین داؤد کی کمپنی ڈیسکون کو دیا گیا تھا۔ میں نے پہلی اور آخری بار اس ڈیم کی خبر تب ہی دیکھی جس دن اس کا افتتاح ہوا۔
اس کے بعد عمران حکومت، واپڈا یا پاور ڈویژن کی جانب سے اس ڈیم کی تیاریوں اور تعمیرات کے متعلق ایک خبر بھی مجھے موصول نہیں ہوئی اور نہ ہی ٹی وی چینلز یا اخبارات پر نظر آئی۔ کالا باغ ڈیم کے نام پر گزشتہ کئی سالوں سے سیاست کرتے آرہے ہیں۔ کے پی والے کہتے ہیں ہم نہیں بننے دیں گے اگر ڈیم بنا تو کے پی ڈوب جائے گا۔ بلوچستان والے کہتے ہیں ہم نہیں بننے دیں گے اگر ڈیم بنا تو ہم ڈوب جائیں گے۔ لو آج سب ڈوب رہے ہیں اور نہ ڈیم بن رہا ہے۔
مونس الہی جو آج کل پنجاب کے سیاہ و سفید کا مالک بنا ہوا ہے جس کو مقدمات درج کرنے کی فکر پڑی ہے وہ گزشتہ چار سال سے کالا باغ ڈیم کی بات کر رہا تھا جب وفاقی وزیر بنا کالا باغ ڈیم کا نام ہی بھول گیا۔ پرویز مشرف اپنے دور کا طاقتور حکمران تھا وہ چاہتا تو کالا باغ ڈیم بنا سکتا تھا لیکن اس کو تو خیر بلوچوں اور دہشتگردوں سے لڑائی میں فرصت ہی نہیں ملی۔ کے پی کے کئی اضلاع سیلاب کی نذر ہو گئے ہیں۔ ابھی کل ہی کوہستان میں پانچ نوجوان کئی گھنٹے ایک پتھر پر کھڑے مدد کا انتظار کرتے رہے۔
کوہستان سے پشاور کا بائے روڈ راستہ 90 منٹس کا ہے جبکہ ہیلی کاپٹر سے زیادہ سے زیادہ پندرہ یا بیس منٹ تھا لیکن یہ ہیلی کاپٹر عمران خان کو لینے بنی گالہ تو پہنچ گیا لیکن ان پانچ نوجوانوں کو بچانے نہیں آیا۔ عمران خان نے رسمی طور پر ٹانک کا دورہ کیا جس کے لئے شاہانہ انتظامات کیے گئے لیکن موصوف ٹانک میں پریس کانفرنس کر کے چند تصویریں بنوا کر واپس سیلاب متاثرین سے ملے بغیر واپس بنی گالہ چلے گئے۔ پریس کانفرنس میں یہ تک کہہ دیا کہ میں شوکت خانم کے لئے پہلے ہی چندہ جمع کر رہا ہوں لہذا سیلاب متاثرین کے لئے چندہ جمع نہیں کر سکتا۔
شہباز شریف بطور وزیر اعظم مشکل ترین معاشی حالات میں سیلاب متاثرین کی مالی مدد بھی کر رہے ہیں اور ان کو کھانے پینے کی اشیاء بھی فراہم کر رہے ہیں ساتھ ادویات اور خیمے بھی دے رہے ہیں۔ سندھ حکومت اور بلوچستان حکومت ہر ممکنہ مدد کر رہے ہیں۔ اگر حکومت کے علاوہ دیکھا جائے تو اس وقت تحریک لبیک واحد جماعت ہے جو حکومت کا حصہ نہیں اس کے باوجود اس نے سب سے پہلے بلوچستان میں لوگوں کی مدد کی اب جنوبی پنجاب میں سعد رضوی خود نکلے ہوئے ہیں اور سیلاب متاثرین کو ہر ممکنہ ریلیف فراہم کر رہے ہیں۔
ان کے ساتھ جمعیت علماء ف کی ذیلی تنظیم انصار السلام اور جماعت اسلامی کی الخدمت فاؤنڈیشن سیلاب متاثرین کی مدد میں پیش پیش ہیں۔ اگلے پندرہ تک سیلاب کی تباہ کاریاں ختم ہو جائیں گئیں لیکن اب اس کا اثر اناج پر پڑنے والا ہے۔ اگلے چند دنوں تک ملک بھر میں اناج کی شدید ترین قلت پیدا ہو گی۔ کیونکہ سیلاب میں کئی فصلیں اور سبزیوں کی فصل بھی تباہ ہو گئی ہے۔ سینٹرل پنجاب میں زیادہ تر گندم، چاول، گنے اور مکئی کی فصلیں ہوتی ہیں جبکہ سبزیاں زیادہ سندھ سے آتی ہیں۔ سیلاب کے بعد مہنگائی میں بھی یقینی طور پر اضافہ ہو گا کیونکہ ہم بے حس قوم ہیں۔ ہم ہر تہوار اور مشکل کی گھڑی میں لوٹ مار کرنے میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ اگلے چند دنوں میں اس کا آپ عملی مظاہرہ دیکھیں گے۔

