آزادی کے بطن سے جنم لینے والے المیے اور ہم گناہ گار

رواں برس وطن عزیز پچھتر برس کا سفید بالوں والا بزرگ بن گیا ہے،
جیسے جیسے وطن عزیز کی عمر بڑھ رہی ہے، ویسے ویسے وہ کمزور تر اور ضعیفی کی لاعلاج بیماریوں میں بھی مبتلا ہو گیا ہے۔
سب سے جان لیوا مرض دوسرے انسانوں کو گناہ گار ثابت کرنا ہے، قدرتی آفات کو انسانوں کے گناہوں کی سزا قرار دینا طاقتور طبقے کی طرف داری کی ایک مثال ہے، کیا معصوم بے زبان جانور بھی خدا نہ خواستہ گناہ گار ہیں جو مٹی میں لت پت منہ زور سیلابی ریلے میں بہے جا رہے ہیں۔
یہ آبی آفت ہماری ناقص آبی منصوبہ بندی کے باعث ہم پر آئی ہے، اگر حکومتی ادارے اور عسکری حکام پانی کے ذخائر کا بندوبست کر لیتے تو آج ہم یہ دن نہ دیکھتے۔ عوام کو گناہ گار کہنے والے خود اپنا محاسبہ بھی کر لیں کہ انہوں نے اپنی کون سی ذمہ داریاں پوری کی ہیں۔ کیا سکھایا ہے عوام کو؟
سوشل میڈیا کے ذریعے انتہائی شاطرانہ انداز سے عوام کی سوچ کا رخ مذہبی شدت پسندی اور سیاست کی طرف موڑ دیا گیا ہے۔
آزادی کے موقع پر ملک کے کئی علاقوں سے سیلاب کی خبریں آ رہی تھیں، وہیں پر ایک خبر یہ بھی تھی کہ حیدر آباد میں ایک غیر مسلم خاکروب پر توہین مذہب کا الزام لگا کر اس کو قتل کرنے کی کوشش کی گئی، سینکڑوں افراد کا ہجوم اس عمارت کے دروازے پر موجود تھا جہاں خاکروب موجود تھا، ایک ویڈیو میں دیکھا کہ صبح سے شام ہو گئی، لیکن ہجوم وہیں تھا اور پھر رینجرز نے مداخلت کی اور لاٹھی چارج کر کے ہجوم کو منتشر کیا۔
یہ مناظر دیکھنے کے بعد صرف یہ سوچ ذہن میں آئی کہ یہ کون سے مسلمان تھے جو سارا دن ایک ان پڑھ اور دین سے ناواقف شخص کو قتل کرنے کے لئے کھڑے رہے، وہ بھی حیدر آباد جیسے معتدل اور ٹھنڈے مزاج کے حامل شہر میں، کچھ عرصہ حیدر آباد میں رہائش رہی ہے اس لیے حیدر آباد کے متعلق یہ خبر پریشان کن رہی۔
کیا یہ ملک اسی لئے آزاد ہوا تھا کہ یہاں مظلوموں کو، غریبوں کو، اقلیتوں کو دین کے نام پر قتل کیا جائے۔ جب کہ دین میں قتل کی ممانعت ہے۔ لیکن پچھلے کئی سال سے تواتر ایسے واقعات ہو رہے ہیں۔ حیرت یہ ہوئی کہ سیلاب کی خبریں آنے کے باوجود لوگ فساد و قتل کے درپے تھے۔
آزادی اپنے اندر وسیع مفہوم رکھتی ہے، پچھتر برس قبل اس ملک کو حاصل کرنے کا مقصد قائد اعظم سمیت پاکستان کو بنانے والے تمام رہنماؤں نے سمجھا دیا تھا، قائد اعظم نے اپنی تقریر میں یہی کہا تھا ناں کہ ”آپ سب آزاد ہیں اپنی اپنی عبادت گاہوں میں جانے کے لئے“
قائد اعظم کی یہ مکمل و جامع تقریر پڑھنے اور سننے کے بعد تمام پاکستانیوں کے ذہن میں یہ بات راسخ ہو جانی چاہیے کہ قائد اعظم مذہبی آزادی، انسانی حقوق اور انسانوں کی باہم مساوات کے کس قدر قائل تھے اور وہ یہی اصول پاکستان کے دستور میں شامل رکھنا چاہتے تھے۔
جب غیر منقسم ہندوستان کے متعلق مذہبی، لسانی، ثقافتی و سماجی تفصیلات کا مطالعہ کیا جائے، تو معلوم ہوتا ہے کہ اس وسیع و عریض خطے میں مذاہب و عقائد کی تعداد بھی باقی دنیا کے مقابلے میں کچھ زیادہ ہی ہے، مذہبی شدت پسندی بھی ہے، اور تمام مذاہب کے افراد مل جل کر بھی رہتے ہیں لیکن کوئی ایک انسانیت کا دشمن گروہ اچانک اپنے مذہب کو اور خود کو سب سے برتر ثابت کرنے کے دوسرے انسانوں کا قتل کرنے کے درپے ہو جاتا ہے۔
انہی فسادات سے بچنے کے لئے پاکستان کا قیام عمل میں لایا گیا۔ پاکستان بننے کے بعد بھی اگر مذہبی فرقہ پرستی، لسانیت و قوم پرستی جاری ہے تو اس کا مطلب ہے ہم نے آزادی کی قدر نہ کی ہے نہ ہی ہم اپنے ملک کو ایک محفوظ ریاست بنا پائے ہیں، اقلیتوں کے حقوق ہوں یا خواتین کے حقوق، بد قسمتی سے دونوں ہی آزادی کے ماہ مقدس میں پامال کیے گئے۔
دارالحکومت میں غیر ملکی مہمان خواتین کے ساتھ بد تہذیبی و بدتمیزی کر کے قوم کا وقار مجروح کیا گیا، جب کہ وہ خواتین پاکستانی لباس میں ملبوس تھیں۔ شہر بنوں میں ایک عوامی پارک میں خواتین کو ہراساں کیا گیا، بعد ازاں خبر آئی کہ پارک میں خواتین کا داخلہ ممنوع قرار دے دیا گیا ہے۔
گویا پاکستانی خواتین کو باغات میں گھومنے کا کوئی حق نہیں ہے، وہ تازہ فضا میں سانس بھی نہیں لے سکتیں نہ ہی خواتین پھولوں۔ تتلیوں اور قدرتی مناظر سے لطف اندوز ہو سکتی ہیں، نہ ہی جشن آزادی منا سکتی ہیں۔ آزاد ریاست کی آزاد خواتین ترقی معکوس کے ذریعے اپنے بنیادی حقوق سے محروم کی جا رہی ہیں۔
حقیقی آزاد ریاست وہ ہوتی ہے، جہاں نہ صرف ہر شہری کو ریاست کے اصول، قواعد و ضوابط اور قوانین کا احترام کرنا ہوتا ہے وہیں ریاست کو بھی اپنے شہریوں کے تمام بنیادی حقوق کا خیال اور احترام کرنا ہوتا ہے۔ احترام کا معاملات دوطرفہ ہونے چاہئیں تاکہ ایک مہذب اور پروقار معاشرہ قائم ہو سکے۔

