تفریق
ٹپ، ٹپ، ٹپ
ٹپ، ٹپ، ٹپ
آسمان سے سفید موتی لڑیوں کی صورت میں مسلسل ہجرت کر رہے تھے۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے آسمان اپنا سارا بوجھ آج ہی اپنی کمر سے اتار پھینکے گا اور یہی بوجھ زمین کی کمر کو ایسے خمیدہ کر دے گا جیسے دیر سے ہوئی اولاد کے والدین کی کمر اس اولاد کو جوان کرنے کے بوجھ سے ہوجاتی ہے۔ خمیدہ، ٹیڑھی، مریل اور مزید سکت اٹھانے سے عاری۔ آسمان جو پہلے اس بوجھ کو لادے کالا دکھائی دے رہا تھا آہستہ آہستہ نیلے خوشنما رنگ میں تبدیل ہو گیا اور زمین جو کہ جوان، نوعمر دوشیزہ کے جسم کی طرح ہموار، سخت اور دلکش دکھائی دے رہی تھی، بوجھ کی اس ہجرت سے بڑھیا کی جلد کی طرح بوسیدہ دکھائی دینے لگی۔ زمین کی سطح کی بوسیدگی میں مزید اضافہ تب ہوتا اس کے سینے پر گاڑی اس یا موٹرسائیکل گزرتی اور کیچڑ میں پڑنے والے لمبے لمبے نشانات بڑھیا کے جلد پر پڑنے والی شکنوں کی مانند دکھائی دینے لگتے۔
بوجھ اٹھانے اور جھیلنے کی ایک حد ہوتی ہے۔ اس حد کی سیما ریکھا کے پار جب بھی کوئی اترتا ہے یا اتار دیا جاتا ہے تو تخریب اس کا مقدر ہوتی ہے۔ زمین کی وہ حد جب پوری ہو چکی تو اس کی سسکتی ہوئی آواز رفتار جبریل سے سفر کرتی آسمان سے یوں مخاطب ہوتی ہے :
زمین: کیا سارا بوجھ آج ہلکا کر دو گے؟ تم تو زہر خند کی طرح آہستہ آہستہ جان لیتے تھے۔ آج ایک ہی وار میں کاری ضرب لگانے کا ارادہ ہے؟
آسمان: دھان کی فصل کا موسم ہے۔ ڈیزل خریدنے کی سکت اب سبز ہلالی زمین کے مکینوں میں کہاں رہی اور بجلی کا تو ویسے ہی کال پڑا ہوا ہے تو میں نے سوچا کیوں نہ رحمت کی اس سبیل کو چلتا ہی رہنے دوں۔ ویسے بھی زمینی آئے روز پانی کی باری پر جھگڑتے ہیں اور دلوں میں نفرت کی خندق کو مزید گہرا کرنے میں یہ سوچ کر لگے رہتے ہیں کہ فلاں ملک نے ہمارا پانی روک رکھا ہے۔ کیوں نا نفرت کی گہری ہوتی خندق کو ایک ہی دفعہ میں پر کر دوں۔
زمین: سوچ تو تمہاری بہت اچھی ہے لیکن جاگیرداروں کے سمندروں کو پانی دینے کی فکر میں غریبوں کے چھوٹے چھوٹے جزیروں کو کیوں بھول بیٹھے ہو؟ کیا 12 سال پہلے کی گئی دریا دلی کو ذہن کی دیواروں سے مٹا چکے ہو۔
آسمان: نا شکری تمہارے خمیر میں گندھی ہوئی لگتی ہے۔ تمہاری ہوس کی پیاس کو اپنی نمی سے سیراب کرنے کی ہر ممکن کوشش کی تھی۔ یاد نہیں۔ کتنے معتبر اداروں، حکومتوں اور ہر دل عزیز شخصیتوں کی تن آسانی کا سامان وافر امداد کی صورت میں مہیا کیا تھا۔ جس کو ہضم کرنے کے لیے کئی سال مندرجہ بالا حضرات ورزش اور ہاضمولا کا استعمال کرتے رہے تھے اور شکر کے ڈکار لے لے کر الحمدللہ کہتے رہے تھے۔ یاد نہیں۔ تجارتی ترقی کا گراف کس طرح اچانک ڈالر کی طرح بلند ہو گیا تھا۔ خیموں، راشن اور بستروں کی مانگ میں اضافے سے آسمانی خزانے کو کئی گنا زیادہ منافع ہوا تھا اور زائد المیعاد مال بھی دیکھتے ہی دیکھتے ختم ہو گیا تھا۔ سالوں تک ان علاقوں کی تعمیر و ترقی کی مد میں ملنے والے امدادی فنڈز سے کئی لوگ برسر روزگار ہو گئے تھے۔
تم بھول جاتی ہو۔
زمین ہو ناں۔
سوچ بھی زمینی ہے۔ گری پڑی بس روٹی، کپڑے اور مکان تک جاتی ہے۔ ہاؤسنگ سکیموں، زرعی کھادوں، پلازوں یا پٹرول پمپوں والے کاروبار کی اعلی و ارفع تجارت کی طرف کیوں نہیں؟
زمین: تم بھی تو پھر خود غرض ہی ہوئے ناں۔ انہی لوگوں کو یاد رکھتے ہو جن کے مکانوں، اثاثوں، اعزازوں اور پلازوں کے قد تم تک پہنچتے ہیں۔ تمہاری بھی صرف ان سے ہی شناسائی ہے۔ کبھی آسمانی مخلوق کی بجائے میری چھاتی پر رینگتی مخلوق کو بھی تو دیکھو جو چیونٹیوں کی طرح روٹی کے ذروں کو تلاش کرتی رینگتی پھرتی ہے۔
آسمان: افسوس صد افسوس! زمینی مخلوق کا خمیر تمہاری چھاتی سے ہی لیا گیا تم تو انہی کی بات کرو گی۔ تمہارا بطن ہی ان کی ولادت کا ذریعہ بنا تو تم ان کا درد تو محسوس کرو گی ناں۔ لیکن تم بتاؤ جو اشرف المخلوقات کی تخلیق کا اہم اجزائے ترکیبی ہو ایمانداری سے بتاؤ اگر آسمانی مخلوق کے شہسواروں، شہزادوں، عالی مرتبت شرفاؤں جن کے اثاثے آسمانی بلندی کی طرح قد آور ہیں، اگر انہیں اپنے اثاثوں کی تقسیم زکٰوۃ کی صورت میں کر کے نیچے جھکنا پڑا تو تم خود ہی بتلاؤ کیا
امیر و غریب۔
نوری و ناری۔
آسمانی اور زمینی۔
کہاں میں اور کہاں تو۔
لاٹھی اور بھینس۔
آقا اور غلام۔
برہمن اور شودر۔
حاکم اور محکوم۔
ظالم اور مظلوم۔
محاصر اور محصور۔
یس سر اور جی حضور۔
یہ منہ اور مسور۔
کی وہ تفریق جس کے قصر کی تعمیر میں ہمارے آسمانی آبا و اجداد نے اپنا خون پسینہ ایک کیا۔ جس کی عمارت خود غرضی، ہوس، نمک حرامی اور بیرونی خیرات کی اینٹوں سے تہہ در تہہ اور سالہا سال سے بلند ہو کر اب آسمان تک پہنچی ہے۔
کیا وہ تفریق باقی رہے گی؟
کیا آسمان اور زمین کی تفریق باقی رہے گی؟


