پچھتر سالہ کشکول

پاکستان کی 75 سالہ تاریخ میں کشکول کا کردار بڑا اہم اور متحرک ملتا ہے۔ جس نے غریب کو غریب اور مجبور کر کے ناقص حکمت عملی کا چراغ بجھنے نہیں دیا۔ اس ناقص مینجمنٹ نے خاندان کے خاندان تباہ کر دیے جو صرف کیمرے کے سامنے آ کر جھوٹ کی گرہ کو کھولتے اور یہ عوام اسی پر یقین رکھ کر آئندہ انتخابات میں اس کو منتخب کر کے اپنا مستقبل خطرے میں ڈال لیتی ہے۔ ماضی کا تذکرہ ہو یا حال حتیٰ کہ مستقبل کے تاثرات بھی موجودہ کشکول سے ہی ملتے نظر آتے ہیں۔
میں ماضی بعید میں نہیں جاؤں گا بلکہ ماضی قریب کا ہی تذکرہ آپ کے سامنے کروں گا۔ پاکستان میں اکتوبر 2008 کو زلزلہ آیا جس کے تاثرات ابھی بھی منظرعام پر ہیں۔ اس کو لوگوں نے عذاب الہی قرار دیا جو کہ بالکل بجا ہے۔ مگر پاکستانی باشندوں نے بجائے توبہ کرنے کے، آئندہ کی حکمت عملی بنانے کے، اور اپنا قبلہ درست کیا جائے ان لوگوں نے کشکول کو اٹھا کر بڑے بڑے بھکاری بن کر دکھا دیا اور دوسرے ملکوں سے امیدیں وابستہ کر کے بیٹھ گئے۔ انہوں نے تو انسانیت کا بول بالا بلند کرتے ہوئے امداد بہم پہنچائی مگر ان کا کشکول پھر بھی خالی نظر آیا۔ اب تک اس زلزلے سے متاثر لوگوں کا حال ویسے ہی ہے جیسا ابتدائی ایام میں تھا۔ اور زلزلے کے نشانات ایک عبرتناک سبق دیتے منظر عام پر نظر آتے ہیں۔
2010 میں پاکستان میں سیلاب آیا جس میں فصل تباہ ہو گئی، مکان صفحہ ہستی سے مٹ گئے، لوگ بھوک اور افلاس کی نذر ہو گئے۔ اسی دور کے کشکول صاحبان نے کشکول اٹھایا اور دوسرے ملک کا رخ کر لیا۔ نتیجہ وہی نکلا جو آج کی صورت سے کچھ فرق نہیں رکھتا۔ یہی کشکول کے وارث بیرونی ممالک کے لوگوں کو بجائے سیلاب متاثرین کو ملواتے اپنی فیملی اور جاگیروں کی سیر کروانے میں مگن رہے۔ پھر وہی رٹا سسٹم پریس کانفرنس کروا کر عذاب الہی کی نوید پر صبر و استقلال کا پیمانہ سونپ دیتے۔
اگر ماضی بعید کی تاریخ کو یاد کرو تو وہ بھی اس کی کڑی سے ملتی ہے کوئی منفرد نہ ہے۔ 2010 کے سیلاب کے تاثرات آج بھی قائم ہے حقیقی وارثان آج بھی اس امداد کے منتظر ہیں۔ مگر ان کا کشکول اپنے خزانے بھرنے میں مگن ہے۔ پھر ستمبر 2021 کی بات کرو تو یہ ماضی قریب ہے اس سال بھی مون سون بارشوں کی وجہ سے عذاب آیا مگر حکمران خواب خرگوش میں سوئے ان کے ذہن میں صرف کشکول ہی گھوم رہا تھا۔
اب بات کرو موجودہ سیلاب 2022 کی جس میں وہی علاقہ جات جو ماضی میں متاثر تھے وہ اس کی زد میں آ گئے۔ جو ماضی کی تلخ یادوں کو ابھی اپنے سینے میں چھپانے کی کوشش کر رہے تھے۔ اب بھی کشکول دان کشکول کو اٹھائے اپنی نسلوں کا پتہ بتا رہے ہیں مطلب کوئی زیر یا زبر کا فرق معلوم نہیں ہو رہا۔
کچھ سیاستدان اس کو عذاب الہی قرار دے کر اپنا فریضہ سرانجام دے رہے ہیں تو کچھ کشکول دان بن کر اپنی ذمہ داری پوری کرتے نظر آتے ہیں۔ ادھر ملک میں سیلاب سے لوگ بھوکے، پیاسے، آسمان کے نیچے بغیر چھت کے چلاتے، روتے نظر آتے ہیں۔ تو دوسری جانب کشکول دان اپنا کشکول اٹھائے دوسرے ملکوں کے دورے پر نکل پڑے ہیں۔ اس حالت زار کو کوئی عذاب خداوندی کا نام دے رہا ہے تو کوئی گناہوں کا نتیجہ کہہ کر اپنی ذمہ داری سے بری ہو رہا ہے۔ کوئی اس کو مس مینجمنٹ قرار دے رہا ہے۔ جس کا جو کوئی نظریہ وہ اسی کو بیان کر رہا ہے۔ اب ان نظریات اور صورتحال کو آپس میں یکجا کرے تو نتیجہ آپ کے سامنے آ جاتا ہے۔ جب ان ساری باتوں پر غور کریں تو اس کا براہ راست تعلق بھی اسی بنیاد پر جا ملتا ہے جس کا انتخاب ہم نے کیا ہے۔
پاکستان کے 75 سالہ تاریخ میں کوئی نیا قدم یا سوچ نظر نہیں آتی معلوم ہوئی۔ وہی دو سے تین خاندان بر سر اقتدار اور کشکول دان باری باری آتے ہیں ان کا انتخاب کس نے کیا اب سوال یہ بنتا ہے۔ اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کی میں نے کوشش کی تو جواب باآسانی مل گیا وہ جواب آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔
ان کشکول دانوں کا انتخاب کرنے والے یہی ( عوام) ہے۔ ان کو معلوم بھی ہے ماضی کے عذاب الہی کا منظر سامنے ہے جو بھی آپ اس کو سمجھیں۔ ان کی نسل در نسل روایت بنانے والے ہم ہیں ہم نے ہی ان کو بار بار اس کرسی پر براجمان کیا۔ ہم نے ہی اپنا ضمیر دو ہزار، چار ہزار، پانچ ہزار روپے کے عوض فروخت کر کے اس کشکول کو بھرنے کی کوشش کی۔ یہ عادت ہماری بے ضمیری کے عوض جنم لے کر بین الاقوامی سطح پر جا پہنچی ہے۔ پھر یہی لوگ ہمارے نام پر ان لوگوں سے اپنا کشکول بھرواتے ہیں تصویریں ہماری استعمال کرتے ہیں۔ میری بات نوٹ کر لیں :
” جب ہم امید کشکول دانوں سے اور بے ضمیروں پر لگاتے ہیں اور شکوے خدا سے کرتے ہیں تو کیا کمال کرتے ہیں۔“
تو پھر ان جیسے حالات کا سامنا کرنا بھی ضرور پڑتا ہے۔ جب یہ نا اہل اور پڑھے لکھے جاہل اقتدار کی ہوس میں اپنا عقیدہ اور فرض نبھانا بھول جاتے ہیں۔ تو پھر بدانتظامی جنم لیتی ہے۔
کرپشن اور بدعنوانی کا بازار گرم ہوتا ہے۔ وہ خیمہ جو عام زندگی میں 4000 کا ملتا ہے سیلاب کے دن میں 12000 کا فروخت ہوتا ہے۔ تو پھر سمجھ جاؤ سب اس بے ضمیری اور نا اہلی حتیٰ کہ اس کے عوض بدانتظامی کا جنم ہونا ہمارے معاشرے میں اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔ جب یہ صورتحال ہو تو خداوند کریم کا فرمان اور ماضی کی قوموں کی تباہی کے مناظر ہمارے سامنے موجود بطور ثبوت ہیں۔ جب بھی پاکستان میں کوئی آفت آئی دیگر ممالک نے بڑے دل سے خدمت کے لیے رقم عطیہ کی مگر ان کشکول دانوں کی عادتیں تو پہلے ہم نے بگاڑ دی ہیں۔ عادتیں تو پھر نسلوں کا پتہ بتا دیتی ہے، اب موجودہ کشکول دان جس نے قانون سازی میں ترمیم کر کے بیرون ملک پاکستانیوں کو حق رائے دہی سے محروم کر دیا۔ اب اس سال اب 2022 کا واقعہ آن پہنچا تو وہ یہ کشکول اٹھا کر ان کی منت کر رہا ہے کہ:
”میں بیرون ملک پاکستانیوں سے درخواست کرتا ہوں کہ دل کھول کر سیلاب متاثرین کے لئے مدد کریں۔“
اس ساری صورتحال کے ذمہ دار ہم ہیں جنہوں نے ان کو کشکول دان بنایا۔
مس مینجمنٹ بدانتظامی کو جنم دیا
نا اہل اور نکمے پن کا مظاہرہ کیا۔ ان سارے عناصر کا تو پھر ایک نتیجہ نکلتا ہے چاہے وہ عذاب الہی ہو، زلزلہ، سیلاب ہو غربت ہویا افلاس۔

