یوکرائن پہ روسی یلغار: اصل اسباب


حالیہ روسی لشکر جو 24 فروری 2022 کو یوکرائن پہ کی گئی ہے اس مقصد تو بظاہر یوکرائن کے ناٹو میں متوقع شمولیت بنی وجہ سے جوڑا جا رہا ہے یا روس کا سمندری راستوں پر رسائی کا معاملہ ہے۔ مگر اس عمل کے پیچھے ایک طویل سوچ و بچار اور دوررس حکمت عملی نظر آتی ہے۔ یوکرائن میں بہت سی آبادی روسی ثقافت و تمدن سے جڑی ہوئی ہے، ڈانباس کا علاقہ روسی زبان بولنے لوگوں کا ہے اسی وجہ سے قبل از حملہ ہی اس کی علیحدگی کو تسلیم کیا گیا اور وہاں پہ اب کوئی جنگی کیفیت نظر نہیں آتی، اس کے برعکس زیادہ توجہ کائیو جو دارالحکومت بھی ہے اور جنوب مشرقی حصہ اوڈیسا کا ہے زیادہ عسکری دباؤ کا شکار ہے کیونکہ ادھر سے بحیرہ اسود کا راستہ کھل جائے گا جس سے تجارتی راہ گزر آرام سے کھل جائے گی اور اس طرح روس دنیا کو اپنی اشیاء خورد و نوش بالخصوص گندم کی سپلائی لائن بحال کر سکتا ہے۔

اس سارے عمل کے پیچھے دراصل وہ سوچ کارفرما ہے کہ زار روس سے پہلے کریمیا، یوکرائن، بلگاریہ، فن لینڈ سلطنت عظیم روس کا حصہ رہیں ہیں اب 2014 میں کریمیا پہ قبضہ ہو جانے کے بعد یہ تمنا اور بے تابی دوچند ہو گئی اور یوکرائن کو کئی بار اس بات پہ راضی کرنے کی دامے درمے اور سخنے یہ باور کرنے کی کوشش کی گئی کہ وہ ایک باجگزار ریاست کا درجہ قبول کر لے تو گلوخلاصی ہو سکتی ہے مگر یوکرائن نے یہ بات تسلیم نہ کی اور اسے امریکی اور یورپی وعدے وعید زیادہ پسند آئے ادھر ناٹو کی شمولیت کے بھی لارے لگ گئے جس سے اسے تقویت ملی کہ وہ یورپی یونین میں شامل بھی ہوں گے تو گویا زہر کا تریاق مل جائے گا۔

مگر وقت نے ثابت کیا کہ امریکہ کسی کی پھنسی ہوئی دم چھڑانے کبھی آیا نہیں۔ اب اس جنگ میں برائے راست مداخلت کرنے کی کسی میں ہمت نہیں اور اتنا دم خم تو ہے نہیں اس لیے روس بھی دھیرے دھیرے اپنے متعین نتائج کی جانب بڑھ رہا ہے۔ روس کے اندر ابھی کوئی خاص عوامی مزاحمت دیکھنے کو نہیں ملی، وہاں آزادی اظہار تو کسی کو حاصل نہیں اور جبری بھرتی کیے جانے والے سپاہی بھی دیہاتی علاقوں سے اور پچکے ہوئے طبقات سے لیے جا رہے ہیں اور ان کی ماؤں کی آہ و زاری بھی عالمی میڈیا سے کوسوں دور ہے۔

لہذا راوی فی الحال سب چین ہی چین لکھتا ہے۔ امریکہ اور یورپی قیادتوں کو اپنے راج سنگھاسن بھی ڈولتے نظر آتے ہیں۔ کیونکہ آنے والا موسم سرما جب ٹھٹھرتے عوامی جذبات کو پروان چڑھے گا تو پھر گویا کئی ایک ایوانوں کے مکینوں کو راہ کوچ کرنا پڑے گا۔ گیس اور تیل کی عدم دستیابی اور غیر مقبول مہنگائی عوامی غیظ و غضب کو مہمیز دے گی۔ روس اپنی کھوئی ہوئی عظمت ثانیہ کے حصول کے لیے کچھ بھی کرے گا۔ دنیا میں اسے کسی خاص مخاصمت کا سامنا بھی نہیں اور امریکہ بے چینی کا اسے بخوبی ادراک بھی ہے اور مقابلہ کرنے کی سکت بھی نیز روسی معیشت ابھی تک حسب سابق مناسب چل رہی ہے۔ وقت کی گردش تھمے گی تو معلوم ہو گا کہ اصل سود و زیاں کس کا کتنا ہوا البتہ فی الحال اس جنگ کے اختتام کے کوئی اشارے نہیں ہیں۔

Facebook Comments HS