خوبی کا ادراک


بابا جی اشفاق صاحب اپنے انٹرویو میں فرما رہے تھے کہ میٹرک میں انہیں ریاضی سے بہت مسئلہ تھا۔ باقی سب مضامین کو وہ بخوبی سنبھال لیتے تھے لیکن ریاضی اور پھر ریاضی میں بھی الجبراء انہیں سمجھ نہیں آتا تھا۔ مثلاً وہ کہتے کہ یہ سوال سمجھ نہیں آتا تھا کہ ایک حوض کو دو نالیاں تین گھنٹوں میں بھرتی ہیں اور اگر ایک نالی بند کر دی جائے تو دوسری نالی اسے کتنی دیر میں بھرے گی۔ یا الجبرے کا سوال کہ اگر ل کو ج سے ضرب دی جائے اور ب کوس کے ساتھ تو فرض کیا یہ لا کے برابر ہے۔ یہ اور اس جیسی دوسری اصطلاحات اشفاق صاحب کو خاصا تذبذب کا شکار رکھتیں۔

ریاضی کی انہی مشکلات کے باعث انہیں میٹرک میں فیل ہونا پڑا اور سخت ندامت کا بھی سامنا ہوا کہ ایسا کبھی ان کے خاندان میں نہ ہوا تھا۔ اس معیوب بات پہ بہت دلبرداشتہ تھے تو ایک استاد صاحب نے راہنمائی فرمائی کہ آپ الجبرے کی جگہ جیومیٹری کا مضمون پڑھ لیں تا کہ کم از کم پاس ہونے والی صورتحال بن جائے۔

بابا جی اشفاق صاحب بتاتے ہیں کہ جیومیٹری کی کوئی باون پریپوزیشنز تھیں جن میں سے چالیس انہوں نے ایسے یاد کر لیں جیسے حفاظ کرام قرآن شریف یاد کرتے ہیں۔ لیکن ریاضی ہے نا ایسے آسانی سے تو جان نہیں چھوٹتی ’ان چالیس میں بھی دس ایسی تھیں کہ ان کو الجبرے کی اصطلاحات کے ساتھ ثابت کرنا پڑتا تھا اور ہو بہو وہی بات پرچے میں لکھنی ہوتی تھی۔ یہاں پھر مسئلہ بن گیا۔ ان کے گاؤں میں ہیر وارث شاہ پڑھی جاتی تھی تو انہوں نے وہ دس جملے بھی ہیر کی مقامی بنائی گئی طرز پہ ہی یاد کر لئے تو امتحان کے لئے آسانی پیدا ہو گئی۔

ہیر وارث شاہ سے رغبت نے انہیں وہ دس لائنیں یاد کرنے میں مدد دی۔ یا یوں کہہ لیتے ہیں کہ ان دس لائنوں کو ہیر کی طرز پہ یاد کرنے کی خوبی نے انہیں اس جوئے شیر کو لانے میں مدد دی اور میٹرک پاس کرنے میں ریاضی جیسی خلیج پاٹی جا سکی۔

اللہ کریم نے ہر کسی کو منفرد پیدا فرمایا ہے اگر دو جڑواں لوگوں کو بھی ایک ساتھ کھڑا کر لیں تو ان میں بھی کوئی نہ کوئی مختلف انگ مل ہی جاتا ہے۔ جیسے ہر شخص خود میں منفرد ہے ایسے ہی ہر شخص کی استعداد اور صلاحیت بھی مختلف ہے۔ اگر لامحالہ کوئی ایک صلاحیت یا حس کم ہے تو قدرت کاملہ نے اسے کسی اور صورت یا کسی اور صلاحیت یا کسی اور خوبی کی شکل میں بڑھا دیا ہے۔ کسی کمی یا کجی کو یوں پورا کر دیا جاتا ہے کہ کمی کا احساس بھی باقی نہیں رہتا۔

یہ احساس لیکن اس وقت ہی ختم ہو سکتا ہے جب اپنی اس ’خوبی‘ کا ادراک ہو جائے۔ اس خوبی کو جاننے کے لئے خود کی پہچان ’کھوج اور شناخت بہت ضروری ہے۔ جیسے گمشدہ چیز کو ڈھونڈا جاتا ہے‘ ایسے ہی اپنے اندر کی کھوج سے وہ خوبی مل جاتی ہے جو نروان تک پہنچا دیتی ہے۔ اس خوبی کے ادراک کی صورت میں نا صرف کامیابی کے نئے راستے کھلتے ہیں ’نئی امیدیں بندھتی ہیں بلکہ اپنے رب کی شکرگزاری کا بھی احساس پیدا ہوتا ہے۔

خوبی والی بات کی تاب بھی تب ہی بڑھے گی اگر اسے ہمہ وقت اپنے اور دوسروں کے فائدے کے لئے استعمال کرتے رہیں۔ راہ میں حائل وقتی رکاوٹیں ’لا حاصل الجھنیں‘ لا یعنی پریشانیاں اور روڑے اٹکاتے لوگ ہر ممکن اس ایک خوبی کو دبانے کی کوشش کریں گے۔ اس کا ردعمل محض اپنی مستقل محنت ’کام سے لگن اور منزل پہ نظر رکھ کے ہی دیا جا سکتا ہے۔ اردگرد کے ماحول سے لئے جانے والا تاثر راہ بھی کھوٹی کر سکتا ہے۔ دانائے راز کہتے ہیں کہ مایوسی اور غصہ خوبی کو کھا جاتے ہیں۔

Facebook Comments HS