عذاب کس پر، ذرا سوچیں؟
ملک بھر میں سیلاب کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ ہے، آہ بکا، غریبی، مفلسی، بھوک، یتیمی، بے سرو سامانی، افلاس کا ایک طوفان ہے جو اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ ان حالات سے پہلے ہی ہر پاکستانی مہنگائی، نا انصافی، بے روزگاری کے بوجھ میں دبا ہوا تھا اس پر یہ سیلاب مرے پر سو درے ثابت ہوا۔ اپنی اپنی طاقت کی چھیننا جھپٹی، اور کرسی کے لیے جاری میوزیکل چیئر میں پہلے تو حکمرانوں کو نہ تو سیلاب نظر آیا نہ ہی بدقسمتی سے اس سیلاب سے بچ جانے والے بد نصیب۔
لیکن جب امداد کے نام پر ڈالروں کی سن گن ملی تو تجربہ کار تو پہلی ہی پرواز سے ان ناداروں کے درمیان پہنچ گئے جبکہ گردن میں غرور، تکبر کا سریا اور چہرے پر فرعونوں کی سی رعونت لیے شخص نے خوش گمانی میں پارٹی فنڈ ریزنگ کا تو اعلان کیا لیکن سیلاب متاثرین کے لئے اعلان یہ کہہ کر موخر کیا کہ پہلے دیکھوں گا کہ پیسہ کہاں جائے گا اور کیسے استعمال کیا جائے گا پھر ان کے لئے پیسہ جمع کروں گا۔ یہ موقف بہت بے معنی سا لگا کیونکہ یہ تو موقع ہے جب اکٹھے کیے گئے پیسوں کا حساب نہیں ہوتا، کتنا ملا، کتنا لگا اور کتنا باعث فرحت ہوا بھلا کون پو چھے گا اس کے بعد نیشنل میڈیا پر فنڈ ریزنگ ٹیلی تھون کی ضد؟
ایسے میں حکومت اور اپوزیشن میں بیٹھنے والوں! اب سمجھ نہیں آتا کہ حکومت کسے کہا جائے اور اپوزیشن کسے سمجھا جائے کیونکہ سب ہی تو اپنے اپنے حصے کا کھاتہ کھولے بیٹھے ہیں بہر حال ایسے میں بھلا کہاں ہمارے حق کے کے علمبردار، سچ کے پیرو کار، انسان دوست، ہمدردی اور رحم دلی کے مینار میڈیا چینلز اور صحافیوں نے اگلی اور پچھلی حکومتوں کے آنے جانے، جانے آنے پر بلاشبہ بہترین تحقیقی متوازن صحافت کی۔ آئی ایم ایف سے معاہدوں پر، معاہدوں کے تسلسل پر، عوام پر بجلی اور پیٹرول کے بم گرنے پر، سبزیوں کی قیمتوں کے پر لگا کر اڑنے پر، دال، چاول، چینی، آٹا، گھی، تیل دسترس سے باہر ہونے پر کسی کو نہیں بخشا۔
بلا شرکت غیرے سب پر تنقید کی، بے حسی، ظلم، نالائقی کا رونا رویا۔ پھر سیلاب آیا اور میڈیا کی ذمہ داری اور تنقید مزید بڑھ گئی، مظلوموں کی صدا صحافیوں نے اپنی آوازیں اونچی کر کے مزید طاقتور کردی۔ رپورٹرز کو مشکل ٹاسک دیے گئے، ظاہر ہے اگر جان پر کھیل کر اصل حالات نہیں دکھائیں گے تو نقصان کا اندازہ کیسے ہو گا، پھر اس کے مطابق سوالات کیسے ہوں گے ، ذمہ داروں کو ان کا اصل چہرہ کیسے دکھایا جائے گا، تنقید کیسے کی جائے گی، مسئلے کے حل کی طرف بڑھا کیسے جائے گا؟
پھر ایشاء کپ آ گیا اور وہ بھی پاکستان انڈیا ٹاکرا! ہمارے ذہنوں، دلوں، روز مرہ کے معمولات، ذمہ داریوں اور ترجیحات پر حاوی ہو گیا، سب پانی، سیلاب، نقصان تباہی، بھوک، موت، مدد کے لیے چیخیں، کیچڑ میں دبی لاشیں، پانی کے زور میں بہتے مردہ جسم دھند میں چھپ گئے۔ بس ایک منظر تھا، ایک ایونٹ تھا، ایک جذبہ تھا بالکل صاف، پاک بھارت میچ، آدھا جذبہ حب الوطنی انگڑائی لے کر ایسا جا گا کہ باقی آدھے کو جذبات میں بہا لے گیا۔
ان مشکل حالات میں بھی الحمد و للہ ملک کا بہت سا حصہ اور لوگ پر سکون ہیں جن کے گھر ڈوبے نہیں ہیں، جن کے سر پر چھت سلامت ہے، والدین کا سایہ بھی موجود ہے آنکھوں کی ٹھنڈک اولادیں بھی ساتھ بیٹھی ہیں، جسم پر کپڑے بھی ہیں، گھر میں راشن کا اسٹاک ہے، غم روزگار بھی نہیں، ٹی وی، موبائل، لیپ ٹاپ کی سہولت بھی موجود اور شوق جاں کے لئے ہزاروں نعمتیں بھی میسر۔ ایسے میں پاک بھارت میچ نہ دیکھا تو کہیں غدار وطن ہی نہ ہوجائیں یا کہلائے جائیں۔ بے شک دل میں دکھ موجود ہے لیکن زندگی رکتی تو نہیں ہے اور ہمارے سامنے ہے بھی کون؟ ہمارا ازلی دشمن انڈیا ایسے میں میچ دیکھنا تو ملکی ذمہ داری ہے۔
ہر ایک نے تو نہیں لیکن چند مظلوموں کی آواز بننے والوں نے نہ صرف دیکھا بلکہ رنگ نور کے سیلاب میں دیکھا، بڑی بڑی اسکرینوں کا انتظام کیا گیا، بیٹھنے کے لئے مہنگی جگہ، کھانے کے لئے میزیں اور کرسیاں لگائی گئیں، بہترین ٹرانسمیشن، بہترین پینل، ہنسی خوشی، چٹکلے اور لطیفے، میچ کے درمیان اور اختتام پر جملے، تجزیے اور سوشل میڈیا کا استعمال کیا گیا۔
لیڈروں جن کو عوامی پیسوں سے گھر، پیٹرول کا خرچ، گاڑیاں اور دیگر سہولیات مفت فراہم کی جاتی ہیں جن کے جوتے، ہینڈ، بیگ گھڑیاں ہزاروں لاکھوں روپے کی ہوتی ہیں، جن کے گھر اس ملک میں ہیں اور بیروں ملک میں بھی اور پاکستان کے کئی شہروں میں بھی، ایک سے زائد اکاؤنٹ اور ہر اکاؤنٹ میں ہزاروں لاکھوں روپے بھی، ملک کتنا ہی معاشی عدم استحکام کا شکار ہو جائے لیکن ایسے میں نہ ان کی سہولیات روکتی ہیں نہ آسائشات میں کمی آتی ہے۔
جن کی ترجیحاتی فہرست میں صرف ذاتی مفاد ہے جبکہ اس فہرست میں ملکی مفاد اور عوام شامل ہی نہیں، جن کے پاس جواز یہ ہے کہ ایسی مشکلات تو آتی ہی رہتی ہیں یعنی موصوف کے مطابق اس کو زیادہ سنجیدہ نہ لیں۔ جو مہنگائی اور بے روزگاری کی ماری عوام سے چندہ، اکٹھا کرنے کی اپیل انتہائی دیدہ دلیری سے کرتے ہیں، جن امراء کی جیبوں سے ان حالات میں 50 روپے نکلیں، بریانی کی ایک تھیلی ہوا میں بلند کر کے یوں دیں جیسے احسان کرتے ہوں، جو حکومتی جہاز ذاتی مقصد کے لئے استعمال کرتے ہوں، اوپر سے جھانک کر اپنی تصویریں بنواتے ہوں سیلاب شدہ علاقوں میں بھی صاف ستھرے ٹینٹوں سفید میز پوشوں سے سجی میزوں کے پیچھے بیٹھ کر اپنی شرکت رجسٹر کراتے ہوں، پانی سے بچنے کے لئے رکھی گئی اینٹوں پر چلنے کے بجائے خود کو ٹخنوں ٹخنوں تک سیلابی پانی میں بھگو کر خود کو سیلاب میں ڈوبنے والوں میں شامل کرتے ہوں، اور ریڈ کارپٹ پر پاؤں رکھ کر گزر جاتے ہوں۔
تو اب حکمرانوں، سرمایہ داروں، وڈیروں، جاگیرداروں، سرداروں میں جن کے اپنے پاس دولت کے انبار ہیں ان میں اور حق کے علمبرداروں میں کیا فرق ہے۔ ان میں اور روز اپنے حقوق کے لئے چیختے چلاتے لوگوں میں کیا فرق ہے۔ ان سرمایہ داروں نے اپنی طاقت، حیثیت کے مطابق ظلم کیا، نا انصافی کی اور کئی لوگوں نے اپنی محدود ترین طاقت کے مطابق بے حسی کا مظاہرہ کیا۔ بد قسمتی سے ہمیں ایونٹس کی ضرورت ہوتی ہے اس کے بغیر ہم کچھ نہیں کرتے، اب من حیث القوم ہم سر جھکا کر خاموشی سے مدد نہیں کرتے، ہمیں امداد کے لئے بھی ایونٹس چاہیں، زلزلہ ہو یا سیلاب ان حادثات میں مبتلا لوگوں کی امداد جمع کرنے کے لئے بھی ایونٹس چاہیے میوزیکل ہوں یا اسپورٹس، لمبی لمبی ٹرانسمیشنز ہوں یا جلسے۔
کوئی آفت آ جائے کوئی مشکل آ جائے وہ اگر ہم تک نہ پہنچے تو صرف ایک خبر ہوتی ہے جس پر دل کڑھتا بھی ہے لیکن جس کی حساسیت، تکلیف ایک ایڈورٹیزمنٹ، ایک شو، ایک ڈرامہ پس پشت ڈال دیتا ہے۔ بے حسی کسی جامد چیز کا نام نہیں، یہ بہت غیر محسوس انداز میں ہم پر اپنا اثر جماتی ہے اور ایک وقت ایسا آتا ہے کہ ہم اتنے بے حس ہو جاتے ہیں کہ ایک طرف مشکل میں پھنسے، چیختے چلاتے، لہولہان، دم توڑتے لوگوں کو دیکھیں اور اگلے ہی لمحے گرم کھانے اور من پسند پروگرام سے لطف اندوز ہوں۔ تو یہ عذاب ہے لیکن ان بہہ جانے والوں پر نہیں بلکہ ہم پر کہ ہمارے دلوں، ذہنوں اور آنکھوں پر غفلت اور بے حسی کا پردہ ہے۔ ان کی امداد تو شاید دنیا سے آنے والی امداد سے ہو جائے لیکن ہماری امداد کون کرے گا، ہمیں اس دلدل سے کون نکالے گا، ہمیں اس بے حسی میں مبتلا عذاب سے کو بچائے گا۔

