ٹاسک


رات آدھی سے زیادہ گزر چکی تھی۔ اسلام آباد کا آسمان گہرے سرمئی بادلوں سے ڈھکا ہوا تھا جن میں کسی کسی وقت خوفناک گرج اور کڑکتی بجلیوں کی چمک ابھر رہی تھی ایسے میں تین سمتوں سے آنے والی سیاہ مرسیڈیز گاڑیاں شاہراہ دستور پر دوڑی چلی جا رہی تھیں۔ دس دس منٹ کے فرق سے تینوں پریزیڈینسی کا گیٹ کراس کر گئیں ان میں سے اترنے والی تینوں شخصیات کو وردی میں ملبوس مخصوص میزبانوں نے خوش آمدید کہا اور ایک ہال کمرے کی طرف رہنمائی کی۔

سیاہ لباس میں ملبوس تینوں اسپیشل ٹاسک فورس کے اعلیٰ افسروں نے ایک دوسرے سے مصافحہ کیا اور اپنی اپنی نشست پر بیٹھ گئے اب انھیں اعلیٰ قیادت کی طرف سے بلاوے کا انتظار تھا جیسے ہی قد آدم وال کلاک نے دو کا گھنٹہ بجایا ان تینوں کو کانفرنس روم میں بلا لیا گیا پریزیڈنٹ ہاؤس کا ایک اعلیٰ افسر ان کی رہنمائی کر رہا تھا سب سے پہلے وہ اس ہال کمرے کی طرف بڑھے جہاں سیلاب کی تباہ کاریوں سے مطلع کرنے کے لیے خصوصی سیل قائم کیا گیا تھا ہال میں بیس جدید آپریٹنگ سسٹم نصب تھے جن پر پورے ملک کی مانیٹرنگ کی جا رہی تھی ہر سکرین پر طوفانی ریلوں لٹے پٹے لوگوں ٹوٹتے گھروں اور بہتی گاڑیوں کی ویڈیوز چل رہی تھیں جانی مالی نقصان کے تخمینے لگائے جا رہے تھے ہر طرف چہل پہل تھی۔

وہ تینوں وہاں سے گزرتے اس راہداری کی طرف آ گئے جہاں سے خفیہ تہہ خانے کو راستہ جاتا تھا۔ وسیع تہہ خانے میں بہت سے بڑے بڑے کمرے تھے انھیں میں سے ایک کانفرنس روم تھا جس میں ایک بڑی آبنوسی ٹیبل تھی جس کے گرد رکھی بہت سی کرسیوں میں سے تین پر وہ جا بیٹھے۔ اعلیٰ قیادت کے انتظار میں وہ مستعد تھے۔ جلد ہی ایک طرف سے ایک طویل القامت شخص کمرے میں داخل ہوا اور مرکزی نشست پر براجمان ہو گیا۔ چند لمحے اس نے تینوں کو باری باری دیکھا پھر پہلے آنے والے افسر کی طرف اشارہ کیا وہ شخص اپنی جگہ سے اٹھ کر پروجیکٹر کے پیچھے جا کھڑا ہوا ایک بڑی سی سکرین روشن ہوئی جس پر ایک بپھرے ہوئے دریا کا منظر واضح تھا۔

سر پڑوسی ملک نے اپنی زمینیں اور املاک بچانے کے لیے اپنے دریاؤں میں زیادہ ہونے والا سارا پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیا ہے یہ ایک ایزی ٹاسک تھا جسے بہت جلد پورا کر لیا گیا وہ شخص اپنی نشست پر واپس آیا تو دوسرے نمبر پر آنے والا افسر پروجیکٹر کے پیچھے چلا گیا اب اسکرین پر کچھ ٹیلی فون نمبر دکھائے جا رہے تھے جن کے ذریعے امداد طلب کی جا رہی تھی ایک اور منظر میں باہر سے آنے والی امداد کچھ سرکاری افسر وصول کر رہے تھے آخری منظر میں لوٹ مار راشن کی چھینا جھپٹی اور امداد تقسیم کرتے مخیر حضرات تصاویر اور سیلفیاں بنواتے دکھائی دے رہے تھے یہ ایک درمیانے درجے کا ٹاسک تھا جو کچھ مشکلات کے بعد پورا کر لیا گیا۔

اس کے بعد آخری افسر اپنی جگہ سے اٹھا اور پروجیکٹر کے پیچھے آ گیا اب اسکرین پر ملک کا ایک بڑا سیاستدان جو ملک کے نوجوانوں کا ہر دل عزیز تھا جلسہ گاہ کی طرف جاتا دکھائی دے رہا تھا دوسرے منظر میں وزیر اعظم کسی دوسرے ملک میں اپنے خصوصی طیارے سے مسکراتے ہوئے اتر رہے تھے اس کے بعد چلنے والے مناظر میں کابینہ کے وزراء اور مخالف پارٹیوں کے مشہور سیاستدان ایک دوسرے پر غفلتوں اور سیاسی بد اعمالیوں کے الزامات لگاتے دکھائی دے رہے تھے ایک منظر میں مذہبی رہنما تقریب میں شاہی کھانوں سے لطف اندوز ہو رہے تھے اور آخری منظر میں صدر مملکت اخبار ہاتھ میں لیے کافی پیتے دکھائی دے رہے تھے۔ یہ ایک مشکل ٹاسک تھا اس میں ہم نے تمام سیاسی لیڈروں کے دلوں کو کمال مہارت سے احساس پروف بنایا ہے اب کبھی بھی ان کے دلوں میں عوام کا درد داخل نہیں ہو سکتا ۔

اعلیٰ قیادت اپنی جگہ سے اٹھی اور تینوں کو ان کی قابلیت کے حساب سے کانسی چاندی اور سونے کے تمغوں سے نوازا۔ تینوں کی عاجزانہ نگاہ اعلیٰ قیادت کی پیشانی پر جمی تھی جہاں جلی حروف میں لکھا تھا ”ابلیس“ ۔

 

Facebook Comments HS