افسانہ: بلا عنوان


ہمیشہ کی طرح آج بھی اسے دیر ہو رہی تھی۔ اس نے ایک بار خوفزدہ نظروں سے اپنے بیگ کو دیکھا اور بیتابی سے اپنے اسٹیشن کے آنے کا انتظار کرنے لگی۔ اس کے ذہن میں بہت سے خیالات گھومنے لگے۔ ایک لمحے کے لیے اسے یوں محسوس ہوا جیسے کائنات کی ہر چیز اس کی داستان سن رہی ہو، اور اسے تسلی دے رہی ہو۔ وہ خود سے باتیں کرنے لگی۔

”شاید وہ اس کی بات سننا چاہتے ہوں، اور اسے کہنا نہ آ رہی ہو۔“
”لیکن اس نے تو کئی بار کوشش کی۔“
”شاید اس نے کوشش نہیں کی، یہ صرف اس کا وہم ہے۔“
”مطلب یہ صرف اس کا قصور ہے کہ وہ کسی کو اپنی بات کہہ نہیں سکتی۔“
”ہاں۔ شاید معاملہ یہی ہے۔“
”یعنی وہ خود ہی۔“
ایک دم سے اسے احساس ہوا کہ اس کا اسٹیشن آ چکا تھا۔ اس نے جلدی سے کیمپس کی راہ لی۔

کیمپس میں ہمیشہ کی طرح خوب گہما گہمی تھی۔ لوگ ایک دوسرے سے محو گفتگو چل رہے تھے۔ قہقہوں اور خوش گپیوں کے شور کو چیرتی ہوئی وہ ایک خالی بینچ پر جا کر بیٹھ گئی اور ہر گزرتے ہوئے چہرے کو غور سے دیکھنے لگی۔ لوگوں کے چہروں سے ان کے تاثرات واضح تھے۔ یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے چہروں کے بجائے چند کاغذ ہوا میں اڑ رہے ہوں، جن پر کئی داستانیں لکھی ہوں۔ وہ سوچنے لگی کہ اگر ہر چہرے پر لکھی گئی داستان کو بآسانی پڑھا جا سکتا ہے تو اس کی داستان کو آج تک کسی نے کیوں نہیں پڑھا۔ ؟

اور یہ کہ سب لوگ انسانوں کو کیوں نہیں پڑھتے۔ ؟ حالانکہ وہاں بہت ساری کہانیاں بالکل عیاں ہوتی ہیں۔ یا اگر وہ پڑھتے بھی ہیں تو کسی اخباری ٹکڑے کی طرح، کہ جسے پڑھنے کے کچھ دیر بعد سب بھول جاتا ہے۔ اور اخبار صرف ایک دن میں ہی اپنی وقعت کھو دیتا ہے۔ بہت دیر تک جب کسی بھی چہرے نے اسے اپنی جانب متوجہ نہیں کیا تو اس نے بلا ارادہ بیگ اٹھایا اور چلنے لگی۔

سردی کی شدت بڑھ گئی تھی۔ یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے ہر چیز ٹھٹھر کر بے آواز ہو گئی ہے۔ لوگ اوور کوٹوں میں ہاتھ ڈالے خراماں خراماں تھے۔ کچھ ہاتھوں میں کافی لیے سردی بھگانے کی ناکام کوشش کر رہے تھے۔ وہ بہت دیر تک کسی گم کردہ راہی کی طرح ادھر ادھر بھٹکتی رہی اور پھر کچھ سوچے بغیر اس درخت کے پاس بیٹھ گئی جو اب بوڑھا ہو چکا ہے اور ایک طویل بیل نے اسے اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ وہ بہت دیر تک اس درخت کو غور سے دیکھتی رہی۔ جو شاید صدیوں سے خود کا اور اس بیل کا بوجھ اٹھائے کھڑا ہے۔ اس کے اندر کئی داستانیں دفن ہیں، لیکن اس نے کبھی اپنا نوحہ بیان نہیں کیا، وہ کبھی کسی کے سامنے رویا نہیں۔ وہ خود سے ہی سوال کرنے لگی۔

”بھلا یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ کوئی صدیوں اتنا بوجھ اٹھائے کھڑا رہے؟“
”بوجھ کو مسلسل اٹھائے رکھنا تو بہت مشکل کام ہے۔“ اس نے خود ہی جواب دیا۔
اس کے ذہن میں پھر سے کئی سوال گھومنے لگے۔

”اس پیڑ نے کسی اور کی خوبصورتی کو برقرار رکھنے کے لیے اس کا بوجھ اتنا عرصہ کیوں اٹھائے رکھا، اور ابھی تک اٹھائے ہوئے ہے، لیکن اس نے کبھی اس سے بھی کوئی شکایت نہیں کی، یہ اتنا مضبوط کیسے ہو سکتا ہے؟“

”شاید اس حالت میں کئی صدیاں گزارنے کے بعد اس نے یہ ہنر سیکھا ہو۔“
”اس نے کبھی بھی ہار کر اس بیل کو نیچے کیوں نہیں پھینک دیا؟“

”ہو سکتا ہے اسے کبھی اس کا بوجھ محسوس ہی نہ ہوا ہو، وہ اس کا عادی ہو چکا ہو اور اب اسے اس سے تسکین ملتی ہو۔“

”تو بھلا کوئی بھی اذیت کسی کو کیسے تسکین دے سکتی ہے؟“
”شاید بہت عرصے تک اسی مدار میں گھومنے کے بعد یہ اذیتیں تسکین میں بدل جاتی ہیں۔“
”کیا کوئی انسان بھی کسی دوسرے کا اتنا بوجھ اٹھا سکتا ہے؟“ اس نے ایک دم خود سے سوال کیا۔

”ہاں۔ انسان بھی بہت سارا بوجھ اٹھائے پھرتے ہیں، کبھی خود کا اور کبھی دوسروں کا۔“ اس نے خود ہی جواب دیا۔

”تو کیا یہ بوجھ انسان کو جھکا نہیں دیتے؟“

”شاید کبھی کبھی وہ جھک کر چلنا گوارا کر لیتا ہے، لیکن وہ سوچتا ہے کہ ایک عرصے تک اس نے جو بوجھ اٹھائے رکھا اب اگر وہ اسے پھینک دے گا تو یہ اس کے ساتھ نا انصافی ہو گی۔“

”تو کیا پھر ہم اس انسان کو اذیت پسند کہیں گے؟“
”معلوم نہیں اسے کیا کہیں گے۔“ اس نے جیسے اس معاملے سے لاعلم ہوتے ہوئے خود ہی جواب دیا۔

اچانک اسے احساس ہوا کہ دن ڈھلنے کے قریب ہے اور اس نے گھر کے لیے ایک طویل سفر طے کرنا ہے۔ اب تک کسی چہرے نے بھی اسے اپنی جانب متوجہ نہیں کیا تھا۔ اب یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے ہر چیز اپنے مرکز کو لوٹ رہی ہے۔ سرد چہروں کے ساتھ لوگ تیز قدم اٹھاتے واپس گھروں کو پلٹ رہے تھے۔ جاڑے نے ہر چیز کو جیسے اداس کر دیا تھا اور کیمپس کی رونق اب اجڑنے لگی تھی۔ وہ سوچنے لگی کہ اسے بھی اب واپس جانا چاہیے۔

”لیکن اس نے تو کچھ بتانا تھا۔“
”شاید وہ صحیح وقت پہ نہیں آئی۔“ اس نے خود کو کوسا۔
”شاید آج سبھی بہت مصروف تھے اسے کسی اور دن آنا چاہیے تھا۔“

ایک دم سے اس کے ذہن میں ایک خیال آیا۔ اس نے اپنا بھاری بیگ سامنے رکھا اور اس سے مخاطب ہوئی۔ دیکھو آپ کے پاس تو بہت سارا وقت ہو گا۔ یہاں میرے سامنے بیٹھو اور آرام سے میری داستان سنو۔

تو سنو! بات کچھ۔ بات کچھ یوں ہے کہ۔
گہری دھند میں کہیں دور سے قہقہوں کی آواز گونج رہی تھی۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

سونیا عارف کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments