شب ظلمت میں نکلا چاند: آخری قسط

  ” اوہ۔ میرے خدا، یہ کیا ہو گیا۔ اب شاہ بانو کہاں ہے“ ۔ مہرین نے شرجیل کو بتایا تو وہ بے چین ہو اٹھے ” اللہ ہی بہتر جانتا ہے شاید اپنے بھائی ثمر کے پاس چلی گئی ہو“ ” میں اس خبیث شخص کا خون کر دوں گا“ ” نہیں بھائی جان! آپ اب کچھ نہیں کریں گے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ اس کے ظلم کو روک دیا جائے اور یہ کام میں کروں گی“

Read more

شب ظلمت میں نکلا چاند  قسط نمبر 5

دو ماہ بعد خضر کی والدہ رشتہ لے آئیں۔ مسز احمد نے ایک مختصر سی منگنی کی تقریب رکھی تو حمیرا خالہ اور شاہ بانو کو بھی بلایا۔ وہ خضر کے گھر والوں سے اپنی ہونے والی بہو کو ملوانا چاہتی تھیں۔ اس دن شاہ بانو بہت دل سے تیار ہوئی، کائی گرین پشواز اور آتشی گلابی چوڑی دار پاجامے دوپٹے میں وہ کوئی مغل شہزادی لگ رہی تھی۔ رحمان نے اسے دیکھا تو چند لمحے دیکھتے رہ گئے بلاشبہ

Read more

شب ظلمت میں نکلا چاند (4)

” تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے مہرین۔ یہ بات تم مجھے اب بتا رہی ہو، اتنا سب کچھ ہونے کے بعد“ خضر صاحب اور ایمن کے سونے کے بعد مہرین گیسٹ روم میں شرجیل کو سب کچھ بتا چکی تھیں جس پر شرجیل سخت غصے میں تھے ” میں نہیں چاہتی تھی بھائی جان کہ ایک بار پھر آپ کے اور اس کے درمیان کلیش ہو“ ۔ ” ہونہہ۔ کلیش۔ اب میرے پاس کیا بچا ہے جسے وہ چھین

Read more

شب ظلمت میں نکلا چاند: قسط نمبر۔ 3

انٹر کالجیٹ تقریری مقابلوں کا انعقاد ایمن کے کالج میں کیا گیا تھا اور ابھی ابھی سوشل میڈیا کے فوائد اور نقصانات پر ایک دھواں دھار تقریر کر کے ایمن ڈائس سے نیچے آئی تھی۔ اس کی سہیلیاں اسے داد دے رہی تھیں۔ ” ویل ڈن ایمن“ شناسا آواز پر ایمن پلٹی تو ماحد کو اپنے سامنے پا کر پھول سی کھل اٹھی۔ ” آپ۔ یہاں“ ” ہاں، ہمارے کالج نے بھی پارٹی سپیٹ کیا ہے تو میں اپنے کچھ

Read more

شب ظلمت میں نکلا چاند  قسط نمبر۔ 2

رات ساڑھے بارہ بجے کا وقت تھا۔ رحمان صاحب ہارن پر ہارن بجا رہے تھے۔ گھر پہنچنے پر گھر کے باہر انتظار کرنا ان کی شان کے سخت خلاف تھا کوئی ملازم بھی نہیں تھا اس لیے ماحد یا شاہ بانو ہی زیادہ تر گیٹ کھولنے آتے تھے۔ اس وقت بھی وہ سخت بیزار ہو رہے تھے تبھی ان کے پیچھے ایک اور گاڑی آ کر رکی۔ انہوں نے سائیڈ مرر پر کوفت زدہ نظر ڈال کر ہٹا لی پر

Read more

شب ظلمت میں نکلا چاند  (1)

کون یہ جانتا ہے کہ کالی سیاہ رات اپنے اندر کیسی کیسی ظلمتوں کو چھپائے ہوئے ہے۔ کتنے ہی لوگوں کے گناہ اور کتنے ہی لوگوں کی بے بسی اس رات کے اندھیرے میں گم ہوجاتی ہے۔ زاہدوں کی عبادتیں، عیاشوں کی معصیتیں اور مظلوموں کی فریادیں سب رات کی کالی چادر میں لپٹ جاتی ہیں۔ ایسے میں چہرے پر آنسووں کی آڑی ترچھی لکیریں اور وجود پر دکھ اور بے بسی کا بوجھ لا دے شاہ بانو کے قدم

Read more

غزہ کی جنگ: ایک عام عورت کی سوچ

بحیثیت ایک عورت ہونے کے ایک مسلمان عورت ہونے کے ایک پاکستانی عورت ہونے کے آج میں اپنی سوچ اور کچھ سوال لے کر آئی ہوں۔ ہم بچپن سے سنتے آرہے ہیں کہ فلسطین میں اسرائیل نے ظلم کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ آئے دن ٹی وی پر دیکھتے رہتے ہیں کہ اسرائیل نے فلسطینی نوجوان شہید کر دیے۔ ایک عام عورت فلسطین اور اس پر اسرائیلی تسلط کی تاریخ اور وجوہات سے ناواقف ہے۔ جب کبھی وہاں کشیدگی

Read more

سیکولر راج

آٹھ سالہ بشارو ماتھے پر نادیفہ کا محبت بھرا لمس پاتے ہی جاگ اٹھی۔ یہ نادیفہ کا معمول تھا وہ ہر روز اپنی پیاری بیٹی بشارو کو فجر کے لیے ایسے ہی اٹھاتی تھی۔ بشارو نے بھی کبھی اسے تنگ نہیں کیا کیونکہ فجر اس کی محبوب نماز تھی۔ وہ روزانہ ہی طمانیت بھرا احساس لیے اٹھتی تھی مگر آج اس کی خوشی دیدنی تھی۔ اس کے چہرے پر کھلتی مسکراہٹ دیکھ کر نادیفہ بھی مسکرا دی تھی۔ دونوں ماں

Read more

عجب نظام کے غضب اثرات

ایک تو ہمارا نظام تعلیم ہی عجب اس پر مخلوط نظام تعلیم غضب۔ جن معاشروں میں شعور اور اقدار کی کمی ہو وہاں ایسی عجب غضب باتیں ہوتی ہیں۔ بنیادی طور پر ہم ایک مسلم معاشرہ ہیں۔ مخلوط تعلیم کا سب سے بڑا نقصان ہمیں اسلامی اقدار کی پامالی کی صورت میں نظر آتا ہے مخلوط تعلیم کو درست قرار دینے والے اس ضمن میں دو دلائل بہت زیادہ دیتے ہیں۔ 1۔ خواتین کا جمعے اور عید کی نمازوں میں

Read more

یہ امریکہ نہیں آساں…

آج یہ روداد میں اس لیے بیان کر رہی ہوں کیونکہ پاکستان کے سینکڑوں نہیں ہزاروں خاندان ان مصائب کو جھیل رہے ہیں جو مجھے اور میری بیٹی کو جھیلنے پڑے۔ یہ بات شروع ہوئی 2017 کے اختتام دسمبر سے جب میرے قریب ہی رہنے والی ایک خاتون نے اپنے بیٹے کے لیے میری بیٹی کا رشتہ طلب کیا وہ پوری فیملی امریکہ ہجرت کر کے جا رہی تھی جب یہ بات کھلی تو قریبی رفقاء کی مخالفت اور موافقت

Read more

کلف سے خالی محبت

دنیا کی چکا چوند میں گر مجھے کچھ بھایا تو بس اس نامور مردانہ برانڈ کے کھڑکھڑاتے کرتا شلوار جو میں زمزمہ کے ایک بنگلے سے دو تلوار تک جاتے ہوئے راستے میں دیکھا کرتا تھا۔ بڑے بڑے شیشوں کے پیچھے ڈمیوں پر چڑھے وہ کلف لگے کاٹن کے سوٹ آئے دن بدلتے رہتے تھے اور ہر نیا چڑھنے والا لباس پہلے سے زیادہ میری آرزو بنتا جاتا تھا۔ یہ آرزو پچھلے چھ سال سے میرے دل میں پل رہی

Read more

ندامت

مجھ میں اور میرے جڑواں بھائی ابراہیم کے مزاجوں میں بہت فرق تھا۔ وہ نہایت لا ابالی قسم کا تھا اور میں سنجیدہ مزاج کا۔ ہم دونوں نے ایک دیندار اور پرہیزگار ماں کی آغوش میں آنکھ کھولی تھی۔ ابا ہمارے بس ایسے ہی تھے کبھی نماز پڑھ لی کبھی نہیں۔ لیکن اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ انہوں نے کبھی بھی ہمیں حرام نہیں کھلایا۔ محنتی انسان تھے۔ لیکن شعور کی منزل کو پہنچتے پہنچتے میرا دل ابا

Read more

ٹاسک

رات آدھی سے زیادہ گزر چکی تھی۔ اسلام آباد کا آسمان گہرے سرمئی بادلوں سے ڈھکا ہوا تھا جن میں کسی کسی وقت خوفناک گرج اور کڑکتی بجلیوں کی چمک ابھر رہی تھی ایسے میں تین سمتوں سے آنے والی سیاہ مرسیڈیز گاڑیاں شاہراہ دستور پر دوڑی چلی جا رہی تھیں۔ دس دس منٹ کے فرق سے تینوں پریزیڈینسی کا گیٹ کراس کر گئیں ان میں سے اترنے والی تینوں شخصیات کو وردی میں ملبوس مخصوص میزبانوں نے خوش آمدید

Read more

چالاک عورت کا انتقام

میں کہتا ہوں عورت سب کچھ ہو پر چالاک نہ ہو اور چالاک بھی ایسی کہ توبہ توبہ جو بھی سنتا ہے انگشت بدنداں رہ جاتا ہے۔ عالیہ میری چچا زاد اور میرے بچپن کی مانگ تھی۔ ہمارا آبائی گھر ایبٹ آباد میں تھا جبکہ والد صاحب کراچی میں پراپرٹی ڈیلنگ کا کام کرتے تھے۔ میرے بہت بچپن میں وہ ہماری پوری فیملی کو کراچی لے آئے لیکن سردیوں گرمیوں کی چھٹیاں ہم ایبٹ آباد میں ہی گزارتے تھے۔ جوانی

Read more

سر بسجود – مرکزی خیال ماخوذ

راحت۔ راحت اٹھو نماز پڑھ لو، ٹائم نکل رہا ہے۔ تیسری بار اجمل نے جگایا تو میں نے بیزاری سے چادر خود پر سے اتار دی۔ یا اللہ! اس شخص کو ہر ایک کی آخرت سنوارنے کا اتنا خیال کیوں رہتا ہے۔ میں نے کھلے بالوں کو جوڑے کی صورت لپیٹا اور باتھ روم کی طرف بڑھ گئی۔ آج بھی میں نے اپنے لئے کچھ نہیں مانگا بس کل جہاں کے لئے خوشیاں مانگ کر اٹھ کھڑی ہوئی۔ گڑیا کو

Read more

روشن کل

گھر کا دروازہ بند کر کے میں گلی میں نکل آیا مگر الجھنوں اور پریشانیوں کے جو دروازے میرے اندر کھلے تھے وہ بند نا ہو سکے میں نے اپنی زندگی میں ہر مشکل کا سامنا صبر اور سکون سے کیا تھا لیکن ساٹھ کو پہنچنے سے پہلے ہی یا تو میں سٹھیا گیا تھا یا پھر یہ دور ہی پاگل کر دینے والا تھا نفسا نفسی کے اس دور میں بقا کی جنگ لڑنا مشکل ترین ہو گیا تھا۔

Read more

مقابل ہے آئینہ

میٹنگ ختم ہوتے ہی میں اس شاندار بلڈنگ سے باہر آ گئی جو دنیا کی ایک مشہور ترین کمپنی کا ہیڈ کوارٹر ہے۔ سوئٹزرلینڈ میں واقع یہ شہر ویوے میری جائے پیدائش ہے زندگی کے پینتالیس سال میں نے یہیں گزارے کیونکہ مجھے اس کا حسن اور سکون پسند ہے میری ہر شام یہاں جھیل کے کنارے گزرتی ہے آج بھی میں اپنی مخصوص جگہ آ بیٹھی تھی لیکن آج میری توجہ جھیل کے نیلگوں پانی اور اس میں بہتی

Read more

سفید کاغذ

صبح صادق میں ابھرتے ہوئے سورج کو دیکھنا ہمیشہ سے میرا محبوب منظر رہا ہے جب سپیدہ سحر شب کی ظلمتوں کو چیرتا چلا جاتا ہے تب میرے دل میں خیال آتا ہے کہ صبح کی روشنی نور الہی بن کر رات کی سیاہی میں چھپے گناہوں کو ایسے دھو دیتی ہے جیسے شبنم پھولوں کا منہ دھو دیتی ہے کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ محرومی گناہ کی ماں ہے اور مایوسی گناہ کی ابتداء۔ اچھی بھلی ہی تو

Read more

خوں آشام

آج پھر رجو کی کمبختی آئی تھی۔ شاید کوئی برتن اس سے ٹوٹ گیا تھا تبھی اس کی بھابھی اسے صلواتیں سنا رہی تھی۔ میں چینی کے پیالے میں گدلی سی رنگت والی چائے میں گول پاپے ڈبو ڈبو کر کھاتا رہا۔ میرے لیے یہ آئے دن کے معمول کی بات تھی۔ سامنے کمرے کے دروازے سے جھلنگا سی چارپائی پر اماں سوتی نظر آ رہی تھی۔ ہر تھوڑی دیر بعد اس کا داہنا ہاتھ کالے سفید مٹیالے بالوں میں

Read more