پاک/ انڈیا میچ اور ہماری زندگی


آج سوئم ہے نا، پاکستان انڈیا میچ کا جو پرسوں ہوا تھا اور جس میں ہمارے ارمانوں کا جنازہ نکلا تھا۔ بس بحیثیت مومن تین دن سے زیادہ سوگ منانا اچھا نہیں گویا عزیزوں کو تین دن رونے کی اجازت ہے۔ ہم نے نہ آہ کی تھی نہ واہ گویا دل بھاری تھا، آس پاس لوگ کہتے ہیں رو لو دل ہلکا ہو جائے گا چنانچہ ہم رونے یہاں آ گئے۔

رونے لگے تو خیال آیا کہ ہم میں سے اکثر کی زندگی بھی پاکستان اور انڈیا کا میچ ہی تو ہے۔ ویسی ہی امیدیں وہی ناکامیاں۔ وہی حوصلے وہی بربادیاں۔ وہی کوششیں وہی مایوسیاں اور اللہ جانے کون کون سے دنیا بھر کے ملے جلے احساسات۔

یہ حالت ہر میچ میں نہیں ہوتی بس انڈیا کے ساتھ ہوتی ہے، اسی طرح ہر ایک کی زندگی بھی ایسی سنسنی خیز نہیں ہوتی، آسٹریلیا اور افغانستان کے میچ جیسی بھی ہوتی ہے کسی کی یک طرفہ سی۔ لیکن کچھ کی ہوتی ہے ”ایشز سیریز“ آسٹریلیا اور انگلینڈ جیسی۔ یا انڈیا اور پاکستان جیسی۔ ہمارے لیے سوہان روح جیسی۔ ایسے جیسے زندگی میں وہ ایک پہلو جو ہماری دکھتی رگ ہوتا ہے اور جس کے معاملے میں ہم ضرورت سے زیادہ ”ٹچی“ ہوتے ہیں، اس کا بھی وہی حساب ہے۔ ساری تیاریوں کے ساتھ گراؤنڈ میں اترو تب بھی کسی ایک کو جیتنا دوسرے کو ہارنا ہوتا ہی ہے۔ گراؤنڈ سے باہر بیٹھے تماشائیوں کی آس، ان کی آوازیں، ان کی خوشی، ان کا اشتعال، ان کی امیدوں پر پورا اترنے کا پریشر ہاتھ پاؤں پھلائے رکھتا ہے۔ پھر اپنی عزت بھی سنبھالنی ہے۔

انعام بھی ایک اہم جز ہے جو جیتنے پر ملنا ہے اور دانشور کہتے ہیں کہ موٹیویشن ملتی ہے انعام کو سوچ کر۔ جیسے ہمارے ہاں کہ مرد مومن جو بھی نیکی کرتے ہیں ستر حوروں کو سوچ کر کرتے ہیں۔ بقیہ عورتوں کا تو یہ ہے صاحب کہ : جیے گرچہ اسی دنیا میں ہم بھی، مگر دنیا ہماری اور ہی تھی۔ اور دیکھ ہی سکتے ہیں آپ کہ وومن کرکٹ کا عالمی مقابلہ بھی ایسے گزر جاتا ہے جیسے گھر کے چھٹے ساتویں بچے کی سالگرہ لیکن یہی ابھی مردوں کا ہو تو کاؤنٹی بھی ایسے دیکھی جاتی ہے جیسے پہلوٹی اولاد نرینہ کا عقیقہ۔

خیر ہم بھی کہاں اپنے دکھڑے لے بیٹھے، بات تو کرکٹ اور زندگی کی ہو رہی تھی کہ کیسے ہم میں سے کچھ فاسٹ باؤلر اور کچھ اسپنر ہوتے ہیں، جوں ہی چوکے چھکے کھاتے ہیں تو اس کے ساتھ بطور سائیڈ ڈش گھر والوں کی لعن طعن بھی کھانی پڑتی ہے، اور اگر بلے بازی کرتے ہوں تو ڈگری ہاتھ میں لیے پھرتے پھرتے ایک ایک دو دو رنز بنانے کی تک و دو۔ پرائیویٹ نوکری میں کسی بھی وقت بولڈ ہونے کا ڈر، دوسروں سے آگے بھاگتے ہوئے رن آؤٹ ہونے کا خطرہ، کسی سرکاری دفتر میں کام نکل آئے تو سمجھو کیچ آؤٹ ہوئے ہی ہوئے ان کے ہاتھوں۔ پویلین واپس جاتے ہوئے سر اٹھا کر جانا ہو تو ایک شاندار اننگ کھیلنی پڑتی ہے۔ ورنہ کتنے ہی کھلاڑی آتے ہیں اور اپنی جگہ بنانے کے لئے خوار ہو کر غائب ہو جاتے ہیں کون پوچھتا ہے؟ ایسے ہی زندگی میں لوگ معاشرے کے معیار والے چارٹ میں آپ کی رینکنگ دیکھتے ہیں اور اس حساب سے آپ کو عزت دیتے ہیں۔

تو ایسا کریں کہ سب سے پہلے تو خود کو صحت مند رکھیں ورنہ کتنے بھی سورما ہوں آپ، سیلیکشن ہی نہیں ہوگی، دوسرے یہ کہ سیزن ہو نہ ہو پریکٹس کرتے ہیں اپنے ہنر کی، اور تیسرا یہ کہ اتنی قابلیت حاصل کر رکھیں کہ کبھی مین آف دی میچ ملے تو تقریر کرنی آتی ہو۔ اللہ اللہ خیر صلا۔

Facebook Comments HS