روس کی گرم پانی کی خواہش اور ہمارا سلیبس


روس میں ایک حاکم گزرا ہے جو انرجی بارے بہت کانشس تھا۔ اس نے سوچا کہ ہماری قوم انڈے ابالنے، نہانے اور چائے بنانے کے لیے پانی گرم کرتی ہے۔ ان کاموں پر بے شمار انرجی خرچ ہوتی ہے، کیوں نہ ہم اپنے ملک کی سرحدوں کو گرم پانیوں تک لے جائیں اور اس پانی کو نہانے، انڈے ابالنے اور چائے بنانے کے لیے استعمال کر کے انرجی کو اگلی نسلوں کے لیے محفوظ کر لیں۔ پاس بیٹھے وزیر نے داد دی اور  اضافہ کیا جی بالکل ایسا ہو سکتا ہے، صبح صبح لوگ واک کے لیے نکلتے ہیں وہ اپنے ساتھ ایک بالٹی لے جایا کریں گے اور مسواک کرتے ہوئے واپسی پر گرم پانی کی بالٹی بھر کر گھر لے آیا کریں گے۔ اسی پانی سے چائے بھی بن جائے گی، انڈے بھی ابل جائیں گے اور بقیہ گرم پانی سے ہاتھ منہ دھو لیا کریں گئے۔ خیال کو حقیقت بنانے کے لیے حاکم نے فوج کو گرم پانی کی طرف کوچ کا حکم دے دیا۔

فوج نے افغانستان سے گزر کر پاکستان کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کو مسمار کرتے ہوئے گرم پانی تک جانا تھا۔ اس وقت خوش قسمتی سے پاکستان پرایک تازہ تازہ باتدبیر اور صادق حاکم مسلط ہونے میں کامیاب ہو چکا تھا۔ اس نے پروگرام بنایا کہ روس کو افغانستان کے اندر ہی ناکوں چنے چبوائے جائیں۔ اس کے لیے اس نے کئی حکمت عملیاں اپنائیں ان میں سے ایک حکمت عملی یہ تھی کہ سکولوں کے لیے ایسا نصاب ترتیب دیا جائے جس کو پڑھنے کے بعد ہمارے بچے رضاکارانہ طور پر روسی فوج کے سامنے بطور باڑ کھڑے ہو جائیں۔ ان ہی دنوں میں جغرافیہ، تاریخ اور ڈرائنگ جیسے مضامین کو فالتو سمجھ کر نصاب سے نکال دیا گیا تھا۔

یہاں یہ سوال ہو سکتا ہے کہ اتنے سال پرانی بات آج کیوں۔ بات یہ ہے کہ آج صبح مجھے اسی نصاب زدہ ایک آدمی ملا، جس کا نام یہبل ہے۔ یہبل کا تھوڑا سا تعارف۔ یہبل کی عمر اب پچاس سال ہے۔ جن دنوں یہبل آٹھویں سے فیل ہوا تھا، ان دنوں سکولوں کے رزلٹ اکتیس مارچ کو برآمد ہوا کرتے تھے۔ رزلٹ والے دن ہی یہبل نے سکول کو داغ مفارقت دینے کا اعلان کر دیا۔ یہبل پندرہ سال مسلسل فارغ رہا پھر اس کی والدہ نے مسلسل کوشش کی اور پینتیس سال کی عمر میں یہبل کی شادی کر کے اس کو کام پر لگا دیا۔ وہ چونکہ عرصے سے فارغ تھا، کام ملنے پر اس نے دن رات کام کیا اور تا دم تحریر یہبل چھے بچوں کا مالک ہے۔

آج صبح جب یہبل مجھے ملا تو وہ بہت غصے میں تھا، بلکہ قریب قریب آگ بگولہ تھا، آتے ہی کہتا ہے کہ ”وہ فلاں بندہ کیا چیز ہے“ ۔

پوچھا، کیوں؟ کیا ہوا؟

کہنے لگا، مجھے کل ملا تھا اور کہتا تھا کہ جس سائنس دان نے ائر کنڈیشنر بنایا تھا وہ جنتی ہے، عجب بات ہے، جنت ہے یا مذاق ہے۔ مجھے لگتا ہے وہ کافر ہو گیا ہے؟

پوچھا کسی کو جنتی کہہ دینے سے بندا کافر ہو جاتا ہے؟

یہبل، ہاں، کیوں نہیں، اس کو اتنا پتہ نہیں، جنت صرف ہمارا حق ہے، کافر خواہ ائر کنڈیشنر بنائیں یا فریج، ان کا آخری ٹھکانہ دوزخ ہے۔ میں تو دوبارہ اس سے ملوں گا نہ سلام لوں گا۔ ”اوہ تے بالکل ہی لائنوں لتھا اے“ ۔

میں نے کہا، نہیں نہیں یہ نہیں کرنا، اس کو اس طرح دوزخ میں جانے کے لیے آزاد چھوڑ دینا غلط بات ہے، اس کو لائن پر لگاؤ، تاکہ وہ بھی تمہاری طرح صاحب جنت بن جائے۔

کہنے لگا وہ مانتا ہی کچھ نہیں، میں اس کو کیسے مناؤں، ویسے مجھے اس پر بہت غصہ ہے، اگر مجھے اب ملا تو میں نے اس کی بے عزتی کر دینی ہے اور ہو سکتا ہے ایک دو لگا بھی دوں۔

میں نے کہا، یہبل، تم صرف ان کو مناتے ہو جو پہلے ہی مانے ہوئے ہیں؟ دوسری بات یہ کہ کسی کو مارنا یا بے عزتی کرنا اچھی بات نہیں۔

یہبل کی گفتگو، رزلٹ ہے ہمارے اس سلیبس کا جو ہم نے روس کو گرم پانی تک پہنچنے سے روکنے کے لیے اپنے ملک میں بچوں کی تعلیم و تربیت کے نام پر بنایا تھا۔ گرم پانی کی تلاش کے آٹھ دس سال بعد روس گرم پانی کی تلاش کی خواہش چھوڑ کر چلا گیا، مگر ہمارا سلیبس وہی رہا۔ یہ پتہ نہیں کہ سلیبس تبدیل کرنے کے لیے ہمارے حاکموں کے پاس پیسے نہیں تھے یا یہ سلیبس ان کو راس آ گیا تھا۔

اب یکساں قومی نصاب آ گیا ہے اگلے پانچ چھے سال بعد یکساں قومی نصاب کے نتائج بھی آنے شروع ہو جائیں گے۔ اب تو ہم کافروں کے جنت میں جانے سے غصہ کر جاتے ہیں، یکساں قومی نصاب کے نتائج برآمد ہونے پر ہو سکتا ہے ہم لوگوں سے اس لیے ناراض ہونا شروع ہو جائیں کہ دوزخ بھی ہمارا ہے، ہم نے وہاں بھی کسی کافر کو نہیں جانے دینا۔

یہبل میں ہمارا سلیبس ہی تو بول رہا تھا۔

مجھے پہلے سلیبس سے شکوہ ہے نہ یکساں قومی نصاب سے۔ بس شکایت ہے تو صرف یہ کہ لوگوں نے دونوں سلیبسز کو حاکموں سے یہ سوال کیے بغیر قبول کر لیا کہ، ”آپ جو سلیبس ہمارے بچوں کو پڑھا رہے ہیں اگر وہ اتنا ہی اچھا ہے، تو آپ اپنے بچوں کو وہ سلیبس کیوں نہیں پڑھواتے“ ۔

Facebook Comments HS