پاکستان کا فخر اور مثبت چہرہ: جیمس شیرا

کہتے ہیں زندگی میں مسلسل کوشش کرتے رہنے سے آپ آخر کار وہ مقام حاصل کر ہی لیتے ہیں جس کے لئے آپ محنت اور جدوجہد کر رہے ہوتے ہیں۔ ناکام لوگوں کو یہ باتیں فضول اور کتابی لگتی ہیں لیکن جن کے اندر کچھ کر گزرنے کی جستجو اور لگن ہوتی ہے وہ اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں۔ مستقل مزاجی اور استقلال کامیابی کی کنجی ہے۔ آج کے اس آرٹیکل میں ایسے ہی ایک پاکستانی سے آپ کی ملاقات کروائیں گے جنہوں نے اپنی خدمات سے پاکستان کے سبز ہلالی پرچم کو گوروں کے دیس میں سربلند کیا اور اپنے کردار سے اپنی منفرد پہچان بنائی اور پاکستانی تشخص اور وقار کو بہتر بنایا ہے۔
ان کی کہانی کے بارے میں مجھے 2006 میں جناب اقبال چشتی کے ایک آرٹیکل کے ذریعے معلوم ہوا۔ ان کی کہانی نے مجھے بہت متاثر کیا اور دل میں اس وقت سے ہی خواہش پیدا ہوئی کہ کاش زندگی نے موقع دیا تو ان سے ملاقات ہو اور ان سے بات چیت ہو۔ وقت اور حالات کا پہیہ تیزی سے گھومتا رہا اور 2022 میں میرے ایک مینٹور ڈاکٹر نعیم مشتاق نے ان کا آن لائن انٹرویو کیا جس کو دیکھنے کے بعد میں نے ان سے ڈاکٹر جیمس شیرا صاحب کا نمبر لیا اور انہیں وٹس ایپ پر اپنے نام کے ساتھ میسج کر دیا۔
میری حیرت اور خوشی کی انتہا نہ رہی جب ڈاکٹر جیمس شیرا نے مجھے خود کال کی اور ہماری طویل بات چیت ہوئی۔ ڈاکٹر جیمس شیرا کی زندگی، خدمات اور شخصیت پر بہت سارے ملکی و غیر ملکی اخبارات میں مضمون شائع ہو چکے ہیں۔ یوں بھی ایسی عظیم اور تاریخ ساز شخصیت کا احاطہ کسی ایک مضمون میں نہیں کیا جاسکتا لیکن میری کوشش ہوگی کہ ان کی زندگی، شخصیت اور خدمات کا مختصر تعارف آپ کے ساتھ شیئر کروں۔
6 مارچ 1946 کو گوجرانوالہ کے ایک گاؤں میں مہنگا مسیح اور برکت بی بی کے گھر پیدا ہونے والے جیمس شیرا نے جب آنکھ کھولی تو کسی نے بھی یہ نہ سوچا ہو گا کہ یہ بچہ ایک دن دنیا میں اپنے والدین، خاندان، علاقے اور ملک کا نام روشن کرے گا۔ بھائی مورس بھٹی اور بہن بلقیس مریم پر مشتمل جیمس شیرا کے والدین کا تعلق کا تھو لک مسیحی خاندان سے تھا۔ والد کاشت کار تھے اور صرف پانچویں جماعت تک تعلیم حاصل کی تھی جبکہ ان کی والدہ بالکل بھی اسکول نہیں گئی تھیں۔
ڈاکٹر جیمس شیرا بتاتے ہیں یہ ان کی والدہ کی ہی شدید خواہش تھی کہ وہ تعلیم حاصل کریں۔ والدین کو سخت محنت و مشقت کرتے ہوئے دیکھ کر ڈاکٹر جیمس شیرا نے شروع سے ہی محنت کو اپنا ساتھی بنا لیا تھا۔ انہوں نے پرائمری تک تعلیم گاؤں کے مدرسہ سے حاصل کی اور اس کے بعد گاؤں سے دور تین کلو میٹر پیدل سفر کر کے اسکول جاتے تھے۔ خودداری اور کچھ کر دکھانے کی تڑپ نے ڈاکٹر جیمس شیرا کو خود کفیل بنا دیا۔ وہ صبح سائیکل پر اسکول جاتے ہوئے اپنے گاؤں سے دودہ لیتے اور شہر میں بیچ کر آتے تاکہ اپنے اخراجات اور تعلیم کا بوجھ خود اٹھا سکیں۔ محنت، قسمت، حالات اور وقت نے ساتھ دیا تو ڈاکٹر جیمس شیرا ایف سی یونیورسٹی تک پہنچے، وہاں سے انہیں بیلجیم میں اعلیٰ تعلیم کے لئے اسکالرشپ ملی، لیکن وہ وہاں تک کیسے پہنچے اور ویزا کیسے حاصل کیا یہ ایک طویل کہانی ہے۔
ڈاکٹر جیمس شیرا کہتے ہیں کہ ان کے والدین ان کو بہت پیار کرتے ہیں۔ اور وہ اپنے آپ کو خوش قسمت سمجھتے ہیں کہ انہیں اپنی پاکستانی مسیحی کیمونٹی اور مسلم بہن بھائیوں سے پاکستان اور بیرون ملک بھی بے پناہ محبت اور پیار ملا ہے۔ وہ ہمیشہ پاکستانیوں اور خصوصاً نوجوان کو اس بات پر زور دیتے ہیں کہ محنت کریں اور دیانت داری سے اپنا کام کریں۔ ہمیشہ پاکستان اور عوام کے لئے سوچیں۔ میں نے اپنی زندگی اسی مقصد کے تحت گزاری اور اپنی زندگی بدل دی۔
ڈاکٹر جیمس شیرا کی کامیابیوں اور اعزازات کی فہرست بہت طویل ہے لیکن ان میں چند قابل ذکر ہیں۔
انہیں گزشتہ دنوں پاکستان کی گولڈن جوبلی پر 14 اگست 2022، کو ”ہلال قائداعظم“ سے نوازا گیا۔
1995۔ 1987 تک کاؤنٹی ایڈوائزر، بین الثقافتی تعلیم، واروکشائر کاؤنٹی کونسل رہے۔
2011۔ 1995 ڈائریکٹر، انٹر کلچرل کریکولم سپورٹ سروس (ICSS) ، واروکشائر کاؤنٹی کونسل، ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ رہے۔ جس میں انہوں نے £ 2 بلین کے سالانہ بجٹ کا انتظام کیا، وارکشائر کاؤنٹی کونسل کے اس کلیدی پروگرام کو اسٹریٹجک قیادت فراہم کی، 450 اسکولوں اور کالجوں کو اچھی خاصی، اعلیٰ معیار کی اور بہت قیمتی بین الثقافتی مدد فراہم کی تاکہ وہ سیاہ فام، اقلیتی اور نسلی افراد کی کامیابی کو بڑھانے کے قابل ہوں۔ خاص طور (BME) کے شاگرد، خانہ بدوش روما ٹریولرز، یورپی یونین کے ممالک اور بڑے پیمانے پر دنیا سے نئے آنے والے افراد کی۔
2011۔ 2005 تک بورڈ آف گورنرز، کوونٹری یونیورسٹی رہے۔
2019۔ 2011 تک ایکوئلیٹیز اینڈ انکلوژن پارٹنرشپ بورڈ کے ممبر رہے۔
2004 سے 2010 تک بورڈ آف گورنرز، واروکشائر کالج رہے۔
2013۔ 2011 تک بورڈ آف گورنرز اینڈ ٹرسٹی، نیومین یونیورسٹی کالج، برمنگھم، رہے اور مکمل یونیورسٹی کا درجہ حاصل کرنے کے لیے اس کی حمایت کی۔
1992۔ 1997 تک بورڈ آف گورنرز، اشلون ہائی اسکول رہے۔
1991۔ 1995 تک بورڈ آف گورنرز، ایون ویلی ہائی اسکول، نیو بولڈ، رہے۔
1987۔ 1999 چیئر، بورڈ آف گورنرز، نارتھ لینڈز پرائمری اسکول رہے اور اسکول کی حیثیت کو بچوں سے پرائمری تک تبدیل کرنے میں مدد کی، اور تعلیمی کامیابیوں کو بڑھایا۔
2006۔ 1985 تک چیئر، بورڈ آف گورنرز، سینٹ اینڈریو سی آف ای پرائمری سکول، رہے اور تمام بچوں کی تعلیمی کامیابیوں کو بڑھایا، خاص طور پر پاکستانی نژاد بچوں کو ۔ اسکول نے انہیں مثالی مشق کے لیے لوگوں میں سرمایہ کاروں کا درجہ دیا۔
2005۔ 2001 تک بورڈ ممبر، آکسفورڈ مشن سینٹر، آکسفورڈ، رہے۔ یہ سینٹر ترقی پذیر دنیا میں مسیحی قیادت کو با اختیار بناتا ہے اور پوسٹ گریجویٹ ڈگریاں اور تحقیقی سہولیات فراہم کرتا ہے۔
1987۔ 1982 تک کاتھولک کمیشن برائے نسلی انصاف کے کمیشن کے رکن رہے، یہ کمیشن انگلینڈ اور ویلز کے کاتھولک بشپس کے لیے ایک مشاورتی بورڈ ہے۔
ایوارڈز:
2022 میں کوونٹری یونیورسٹی نے اعزازی ڈاکٹریٹ سے نوازا گیا۔
مڈلینڈز میں NHS اور کمیونٹیز کے لیے خدمات کے لیے جون 2007 کو کوئینز برتھ ڈے آنرز لسٹ میں MBE سے نوازا گیا۔
بورو آف رگبی کے فری مین کو اپریل 2017 کو بورو اور اس کے رہائشیوں کے لیے دیرینہ خدمات کے لیے ایوارڈ دیا گیا۔
1992 میں صدر پاکستان کی طرف سے ستارہ پاکستان سے نوازا گیا (حکومت پاکستان کی طرف سے تیسرا سب سے بڑا عوامی اعزاز) جو کہ برطانیہ اور پاکستان کے درمیان اچھے تعلقات اور بین المذاہب تعلقات کو فروغ دینے کے اعتراف میں دیا گیا۔
2010 میں پاکستانی بزنس فورم، لندن کی طرف سے ایک اور ’سٹار آف پاکستان‘ سے نوازا گیا۔
فارمین کرسچن کالج یونیورسٹی، لاہور، پاکستان کی طرف سے 2016 میں Formanite فیلوشپ سے نوازا گیا۔
2010 میں بزنس ایڈمنسٹریشن، بیڈ فورڈ شائر یونیورسٹی، میں اعزازی ڈاکٹریٹ سے نوازا گیا۔
2021 میں فارمن کرسچن کالج یونیورسٹی، لاہور، پاکستان، نے ذریعہ فنون اور خطوط میں اعزازی پی ایچ ڈی سے نوازا گیا۔
2021 میں کوونٹری یونیورسٹی کے ذریعہ تعلیم میں اعزازی ڈاکٹر سے نوازا گیا۔
1991 میں ”گولڈ سرٹیفکیٹ“ سے نوازا گیا جو کہ کینسر کے مریضوں کے لیے والسگریو ہسپتال میں 32 بستروں کی ایک نئی توسیع کی تعمیر کے لیے £ 1.7 ملین اکٹھا کرنے کے لئے دیا گیا تاکہ ہسپتال کے کینسر وارڈ کی تعمیر ہو سکے۔
2000 میں ایک نیا ہاسپیس بنانے کے لیے رگبی ہاسپیس اپیل کے لیے £ 1 ملین اکٹھا کرنے پر ”گولڈ سرٹیفکیٹ“ سے نوازا گیا۔
1995 میں مقامی کمیونٹی کے لیے رضاکارانہ خدمات کے لیے Rokeby Lions International کے ذریعے ”رگبیئن آف دی ائر“ سے نوازا گیا۔
1997 میں تعلیم کے لیے خدمات پر ”رائل سوسائٹی آف آرٹس کا فیلو“ بنایا گیا۔
2015۔ 2010 تک واروک شائر کالج کا فیلو اور فیلوز کمیٹی کا چیئر، بنایا گیا۔
2009 میں سڑک کا نام رگبی بورو کونسل اور واروکشائر کالج نے ”جیمز شیرا وے“ کا نام دیا گیا جو کہ مقامی لوگوں کے لیے خدمات کے اعتراف میں اور واروکشائر کالج کی ترقی میں حصہ ڈالنے کے لیے £ 7.5 ملین اکٹھا کرنے پر دیا گیا۔
یہ ایک مختصر فہرست ہے اس میں اب بھی کئی اور اہم کارنامے اور اعزازات ہیں جو الفاظ کی کمی کی وجہ سے یہاں درجہ نہیں ہیں۔
برطانیہ میں سابق پاکستانی سفیر محمد نفیس ذکریا نے کہا کہ ”ڈاکٹر جمیس شیرا ایک با اثر شخصیت ہیں، وہ پارلیمنٹیرینز اور سول سوسائٹی میں قابل احترام سمجھے جاتے ہیں۔ وہ 40 سالوں میں کبھی بھی Cllr الیکشن نہیں ہارے۔
مجھے یہ کہتے ہوئے بڑی خوشی اور فخر ہے کہ میری ڈاکٹر جیمس شیرا کے ساتھ دیرینہ دوستی ہے اور ہم نے مل کر انسانی حقوق سے متعلقہ مسائل اور عام لوگوں کی فلاح و بہبود کے لئے گراں قدر کام کیا ہے۔ ”
برطانیہ میں سابق پاکستانی سفیر واجد شمس الحسن اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں۔ ”ڈاکٹرجیمس شیرادنیا بھر میں سفر کرنے والے رہنما ہیں جنہیں مختلف ممالک میں مختلف مواقع پر مقرر کی حیثیت سے بہت پسند کیا جاتا ہے اور ان کی بنیادی مہارت اور پہچان بین المذاہب ہم آہنگی ہے۔ جس کی بدولت لوگوں نے انہیں براعظموں اور برادریوں کے درمیان محبت پیدا کرنے اور نفرت کو دفن کرنے کے لیے ایک پل کا حقدار ٹائٹل دیا ہے۔ وہ فورم استنبول میں اقوام متحدہ کی کانفرنس ہو یا آکسفورڈ یا کسی اور پلیٹ فارم، ان کے خیالات اور گفتگو کو بڑے جوش و خروش کے ساتھ سنا جاتا ہے۔ ان کے بارے میں سب سے نمایاں بات یہ ہے کہ وہ ایک ایسے پاکستانی مسیحی ہیں جسے مسلمانوں نے بین الاقوامی فورم پر اپنی نمائندگی کے لیے نامزد کیا ہے۔“
معروف ٹرینر اور انٹر فیتھ ڈائیلاگ ایکسپرٹ ڈاکٹر نعیم مشاق ڈاکٹر جیمس شیرا کی شخصیت کے بارے میں کہتے ہیں کہ ”وہ ایک سچے حب الوطن پاکستانی ہیں جو مذہب، رنگ، نسل اور زبان کی تفریق سے پاک ہیں۔ وہ ایک کھرے اور باوقار پاکستانی ہیں جنہوں نے ہمیشہ پاکستان کی سربلندی کے لئے کام کیا۔“
بشپ منو رومال شاہ کا کہنا ہے کہ وہ ایک صاف ستھرے انسان ہیں جنہوں نے ہمیشہ انسانیت اور انسان دوستی کا پرچار کیا۔ ان کے دل میں پاکستان کے لئے بے پناہ محبت اور عقیدت ہے۔
معروف مصنف اقبال چشتی کہتے ہیں کہ جب ان کی ملاقات برطانیہ میں کو جیمس شیرا صاحب سے ہوئی تو انہیں اس بات کا فوراً ادراک ہو گیا کہ جیمس شیرا میں بے پناہ قائدانہ صلاحیتیں ہیں، اقبال چشتی کہتے ہیں انہوں نے جیمس شیرا کو کہا کہ ایک دن تم مئیر بنو گے اور میری خواہش ہے کہ تم برطانیہ کے وزیر اعظم بنو۔ یہ اب ممکن ہے لیکن ڈاکٹر جیمس شیرا کی طبیعت نے ساتھ نہ دیا۔ جیمس شیرا ایک قیمتی ہیرا اور انسان ہے جس کی ترقی میں میرا کردار قدرت کا کمال ہے، بلکہ ایک معجزہ ہے۔
لندن میں پاکستان کے سابق سفیر جناب منظور الحق اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں۔ ”تعلیم کے شعبے میں خدمات کے اعتراف کے طور پر یونیورسٹی آف ہیڈ فورڈ شائر نے انہیں ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری دی اور وارک کالج جانے والی ایک سڑک کو ان کے نام پہ“ جیمز شیرا وے ”رکھ دیا گیا ہے۔ یہ اعزاز پہلی بار کسی پاکستانی نژاد شخص کو اور کسی زندہ شخصیت کے حصے میں آئی ہے۔ اس سے پہلے 2007 میں ملکہ برطانیہ کی طرف سے تعلیم کے میدان میں ان کی خدمات کے اعتراف میں ان کو ایم بی ای کا خطاب دیا گیا تھا رگبی برو نے ڈاکٹر جیمز شیرا کو ان کی عوامی خدمات کے اعتراف میں 27 اپریل کو ایک پروقار تقریب منعقد کی اور ان کو “ فریڈم آف برو ”کے خطاب سے نوازا یہ بہت بڑی عزت افزائی ہے میں اپنے دوست جیمزشیرا کو مبارکباد پیش کرتا ہوں اور رگبی کے عوام کو بھی خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے اس گوہر کمیاب کی قدر کی۔ آج ہمیں جذبہ برداشت کے فروغ اور متشددانہ رویوں کی روک تھام کے لئے ایسے لوگوں کی اشد ضرورت ہے۔“
ڈاکٹر جیمس شیرا کی زندگی میں کئی اہم شخصیات نے اپنا اہم کردار ادا کیا لیکن وہ معروف ماہر تعلیم پروفیسر ڈاکٹر اکبر ایس احمد کا ذکر بڑے سنہری حروف میں کرتے ہیں۔ ڈاکٹر جیمس شیرا پاکستانی معاشرے کے لئے ایک روشن مثال ہیں جنہوں نے محنت، لگن، ایمانداری اور پروفیشلنزم کی بنیاد پر غیروں میں اپنا نام اور مقام بنایا۔ ڈاکٹر جیمس شیرا کی شریک حیات نور جہاں نے ان کے ساتھ ہی ایف سی کالج سے ماسٹرز کیا اور زندگی کے اس میں ان کا بھرپور ساتھ دیا۔
ان کا بیٹا عظیم شیرا ایک بزنس مین ہے۔ ڈاکٹر جیمس شیرا کی زندگی اس بات کا ثبوت ہے کہ انسان زندگی میں پختہ ارادے اور جواں حوصلوں کی بدولت دنیا میں کوئی بھی پہاڑ سر کر سکتا ہے۔ ڈاکٹر جیمس شیرا آپ پاکستان کا فخر، پاکستان کی پہچان اور پاکستان کا حقیقی مثبت چہرہ ہیں۔ ہم آپ کی خدمات اور عظمت کو سلام پیش کرتے ہیں۔

