علی وزیر اور انصاف والے


اسلام آباد پولیس نے 9 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سابق وزیراعظم عمران خان کے چیف آف سٹاف شہباز گل کو گرفتار کیا تھا۔ اسلام آباد پولیس کے مطابق شہباز گل کے خلاف تھانہ بنی گالا میں مقدمہ درج ہوا تھا۔ اور مقدمہ بغاوت پر اکسانے کا تھا۔ شہباز گل کے خلاف مقدمہ میں اداروں ان کے سربراہان کے خلاف اکسانے دیگر دفعات بھی شامل کی گئی تھی۔ اس کے علاوہ شہباز گل نے 8 اگست کو ایک ٹی وی چینل کے پروگرام میں متنازع گفتگو کی تھی۔

شہباز گل نے ملک پاکستان میں انتشار پھیلانے اور نوجوانوں بلکہ تحریک انصاف کے سپورٹرز کو فوج کے خلاف نعرے بازی کرنے اور پاکستان کی سالمیت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تھی۔ یہ سب اسلام آباد کے تھانہ کوہسار میں شہباز گل کے خلاف درج ایف آئی آر میں لکھا تھا۔ اصل کہانی کیا ہے اس کو بیان کرنے کے لیے میں ماضی کی طرف جاتا ہوں 10 اپریل کو عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوئی۔ نون لیگ کی حکومت آئی اصل کہانی اسی مطلب عدم اعتماد کامیاب ہونے کے بعد شروع ہوئی عدم اعتماد کامیاب ہونے کے بعد تحریک انصاف کے سوشل میڈیا ٹیم نے سوشل میڈیا پر مختلف قسم کے ٹرینڈ شروع کیے جس میں یہ ”ٹرینڈ امپورٹڈ حکومت نہ منظور“ بہت مشہور ہوا۔

اس وقت تحریک انصاف کے سوشل میڈیا ٹیم نے فوج اور پاکستانی جرنیلوں کے خلاف باتیں شروع کیے ہر دو تین گھنٹے بعد نیا ٹرینڈ شروع ہو جاتا۔ اس وقت پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا ٹیم نے کسی کو نہیں چھوڑا حتی کہ اس نے جرنل باجوہ کو غدار کہا کہ جرنل باجوہ غدار ہے ملک دشمن ہے اور اس کے خلاف ٹرینڈ شروع کیے اس کے علاوہ بعض لوگ جس میں خواتین بھی تھی سڑکوں پہ نکلے اور باجوہ غدار کے نعرے لگائے۔ سوشل میڈیا اور خاص طور پر ٹویٹر پر ایک ٹرینڈ پر صرف پاکستان میں لاکھوں لوگوں نے ٹویٹ کیے۔

چونکہ یہ بہت گھٹیا اور بیہودہ عمل تھا اور میں اب بھی اس کی مذمت کرتا ہوں کہ تحریک انصاف کے سوشل میڈیا ٹیم نے ہمارے جرنیلوں کے خلاف نعرے بازی اور ان کو گالی دے کر بہت غلطی کی ہیں۔ اور ان لوگوں کو قانون کے کٹہرے میں لانا ضروری تھا جو نہیں ہوا۔ ان میں بعض سوشل میڈیا ایکٹوسٹ کو ایف آئی اے نے گرفتار بھی کیا۔ لیکن پھر بھی یہ سلسلہ جاری رہا اب جب شہباز گل کو پولیس نے گرفتار کیا اسی روز سوشل میڈیا پہ ٹرینڈز شروع ہوئے تحریک انصاف کے سپورٹرز پاکستان کے اداروں کو گالیاں دیتے تھے جو اب بھی وہ ٹرینڈ سوشل میڈیا پہ موجود ہے۔

شہباز گل کے گرفتاری کے بعد فواد چوہدری نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا کہ شہباز گل کو بنی گالا چوک سے بغیر نمبر پلیٹ گاڑیوں میں آئے لوگوں نے اغوا کر لیا ہے۔ فواد چوہدری کے اس ٹویٹ کا اشارہ کوئی اور لوگوں کی طرف ہے کہ انھوں نے شہباز گل کو اغواء کیا عمران خان نے شہباز گل کے حق میں کہا شہباز گل کو گرفتار نہیں اغوا کیا گیا ہے۔ کیا ایسی شرمناک حرکتیں کسی بھی جمہوریت میں ممکن ہیں؟ سیاسی کارکنوں کے ساتھ دشمن جیسا برتاؤ کیا جاتا ہے تاکہ ہم بیرونی حمایت یافتہ چوروں کی حکومت تسلیم کر لیں۔

یہاں پر عمران خان نے جمہوریت کا لفظ استعمال کیا ہیں۔ تو علی وزیر جو کہ منتخب ایم این اے ان کو ایک تقریر اور انسانی حقوق کے حق کے لیے آواز اٹھانے کی جرم میں تحریک انصاف کی حکومت میں گرفتار کیا گیا تھا علی وزیر امن جمہوریت انسانی حقوق کے حق میں بات کرتا تھا۔ لیکن عمران دور حکومت میں ان کو گرفتار کیا عدم اعتماد کے بعد جس طرح گھٹیا ٹرینڈ تحریک انصاف والوں نے شروع کیے تھے اور پوری دنیا میں پاکستان کے اداروں کو بد نام کیا اور بغیر کسی ثبوت کے اداروں پر الزام لگاتے مگر ان کو کسی نے گرفتار نہیں کیا۔

شہباز گل جس وقت حکومت میں تھے علی وزیر کے گرفتاری پہ انھوں نے کوئی بات نہیں کی بلکہ الٹا انصاف والوں نے کہا کہ اچھا ہوا کہ علی وزیر کو گرفتار کیا۔ مگر اب جب پولیس نے ان لوگوں کو گرفتار کیا تو یہ لوگ کبھی بیماری کا بہانہ کرتے ہیں تو کبھی اداکاری کرتے ہیں کبھی کہتے ہیں کہ پولیس نے ہم پر تشدد کیا اس طرح بعض صحافی حضرات بھی ہیں جو اصل میں صحافی کم اور تحریک انصاف کے سپورٹرز زیادہ ہیں۔ اور تحریک انصاف کے ہر غلط کام پر یہ لوگ شروع ہوتے ہیں اور جواز ڈھونڈتے ہیں اس غلط کام کے لیے عمران خان اب جلسوں میں آزادی اظہار رائے پر بات کرتے ہیں لیکن انصاف دور میں اسلام آباد جیسے محفوظ جگہ پہ صحافیوں پر حملے ہوئے ان صحافیوں کو مارا پیٹا مگر اس پر خان صاحب نے کچھ نہیں کہا بلکہ تحریک انصاف کے صحافی نے الٹا ان مظلوموں کا مذاق اڑایا جمیل فاروقی نامی صحافی جس نے شہباز گل کی گرفتاری پہ اسلام آباد پولیس پہ الزام لگایا کہ پولیس نے گل پر تشدد کیا ہے۔

اس کے علاوہ یہ شخص سچے صحافیوں کا مذاق اڑاتا تھا جب خود پولیس نے گرفتار کیا تو پھر رو رہا تھا کہ پولیس نے مجھ پر تشدد کیا ہے مطلب بندہ یہ لوگ اور پھر اس کا رونا دھونا دیکھ کے حیران ہوتا ہے کہ یہ کس قسم کے لوگ ہے دوسرے کا مذاق اڑاتے ہیں خود جب قانون کے کٹہرے میں آتے ہیں تو روتے ہیں مگر علی وزیر وہ واحد شخص ہے جس کو دسمبر 2020 میں پشاور سے گرفتار کیا گیا تھا۔ ان کے خلاف کراچی کے تھانہ سہراب گوٹھ میں ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ جس پر انھیں گرفتار کیا گیا تھا۔

نومبر 2021 میں سپریم کورٹ نے ان کی درخواست ضمانت منظور کر لی تھی لیکن ان کے خلاف شاہ لطیف تھانے میں بھی ایک ایف آئی درج تھی جس کی بنیاد پر انھیں رہائی نہیں مل سکی تھی۔ 2020 سے علی وزیر جیل کے سلاخوں کے پیچھے ہے علی وزیر کی ایک مقدمے میں ضمانت منظور ہوتی ہے تو دوسرا مقدمہ اور ایف آئی آر سامنے آتا ہے عدالت ان کو تاریخ پہ تاریخ دیتی ہے جب بھی ان کا پیشی ہوتی ہے عدالت میں تو کبھی وکیل غیر حاضر ہوتا ہے تو کبھی جج صاحب بیمار ہوتا ہے یا پراسیکیوٹر ریکارڈ نہ لانے کا بہانہ بناتا ہے۔ مگر آج تک علی وزیر نے نہ بیماری کا بہانہ کر کے جیل سے جانے کی کوشش کی اور نہ وہ روئے بلکہ آج تک اپنے نظریے پہ قائم و دائم ہے اور کہتا کہ میں نے جو تقریر کی ہے اس پر میں کبھی بھی کسی سے معافی نہیں مانگوں گا۔ آخر میں علی وزیر کے بارے میں یہ لکھوں گا اور علی وزیر جیسا بندہ صدیوں میں پیدا ہوتا ہے۔

Facebook Comments HS