گیسٹ اپیرینس (Guest Appearance)


اچھا تو ہو گئی کہانی مکمل؟
جی سر کر لی ہے۔ لیکن یاد رہے کہ اسٹیج کے لیے یہ میری آخری کہانی ہے۔
آخری کس لیے؟ ”سر آپ پروڈیوسر ہیں آپ کو کیا معلوم کہ کہانی اگر عورت لکھے تو یوں سمجھیے کہ وہ کہانی اس کی کوکھ میں پلتی ہے۔ اور اس کو جنم دیتی ہے۔ کوکھ میں رکھنا اور جنم دینا، آسان کام ہے کیا؟ اور ویسے بھی سر میں نے جو کہانیاں لکھی ہیں۔ وہ فکشن تو نہیں، وہ تو ہمارا سچ ہیں۔ اور سچ کو جنم دینا، ایک دفعہ موت کو گلے لگانے کے برابر ہوتا ہے۔ آپ تو خوش قسمت ہیں۔ آپ نے کہا کہ کہانی چاہیے اور کہانی بھی ایسی ہو کہ دلوں کو چھو جائے تو میں نے لکھ دی۔ آپ دیکھ لیجیے، آپ کو پسند آئے یا نہ آئے، میری تو یہی اوقات تھی۔ میں یہی کہانی لکھ سکتی تھی۔ اور یہ بھی یاد رکھیے گا کہ میں اپنی کہانیوں میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں کیا کرتی۔ سو، مجھے کوئی بھی تبدیلی کرنے کا مت کہیے گا۔

دو دن بعد ۔

آؤ بھئی، آؤ۔ بیٹھو بیٹھو، بیٹھو۔ کہانی تو زبردست ہے۔ جس طرح سے میں چاہتا تھا کہ کہانی میں کہیں بھی کوئی ولن، سماج کی دیوار، محبت کا دشمن، ظالم سماج، باپ، یہ وہ کچھ نہ ہو۔ جس میں سیدھی سادھی محبت کی کہانی ہو۔ جس میں محبت کے ایموشنز ہوں۔ محبت ہی محبت ہو۔ لیکن ایموشنز ہوں۔ تم تو کمال کر کے لے آئی ہو۔

سر، اس کہانی کو اسٹیج کے لیے، ڈائیلاگز میں کنورٹ کرنا ہے۔ وہ میں سمجھتی ہوں کہ آپ اپنے ماہر ڈائیلاگ لکھنے والے سے ڈائیلاگ لکھوا لیں گے۔ کیوں کہ میں کہانی لکھتی ہوں۔ ڈرامہ نہیں، تو اس کو ڈراماٹائز کرنے کے لیے میں مدد ضرور کروں گی۔ لیکن کلی طور پر نہیں دیکھوں گی۔ یہ میں نے آپ کو پہلے ہی کہہ دیا تھا۔

ٹھیک ہے۔ مت دیکھنا۔ بلا لیا ہوا میں نے اسکرین پلے رائٹر کو۔ کہانی کا نام کیا ہے، مطلب ڈرامے کا نام کیا ہے، کیا سوچا ہے؟

سر یہ کیسا رہے گا، جیسے یہ ایک خوب صورت سی اسٹوری ہے۔ اس کے لیے میرا بابل یا میں اور میرا بابل، یا بابل کا انگنا۔ کیوں کہ بیسیکلی یہ ایک بیٹی کی وداعی کی کہانی ہے ناں، تو ویسے بھی اس قسم کے نام لوگوں کو سینٹی کر دیتے ہیں ناں، لوگ بھاگے بھاگے دیکھنے آئیں گے۔

بابل کا انگنا نام صحیح ہے۔ بڑا ٹچی سا ہے یہ۔ بالکل ٹھیک کہہ رہی ہو۔ ویسے بھی لوگ آئیں گے، اس کھیل کو دیکھنے کے لیے۔ کیوں کہ اس کا ایک ہی شو ہو گا۔ اور اس کی جو رائٹر ہے، اس کا نام ہی کافی ہے۔ ثنا ملک۔ ثنا ملک نام ہی کافی ہے۔ ارے ثنا میں نے تمھیں بتایا ہی نہیں۔ بابل کے رول میں بھلا میں نے کس کو لیا ہے؟

سر اب یہ کاسٹ تو آپ کا کام ہے۔ ہاں، میرے کردار کے مطابق ہے یا نہیں، وہ میں آپ کو بتاتی ہوں۔ فرمائیے کس کو لیا ہے؟

بڑے عرصے کے بعد میں نے کامران کو لیا ہے۔
ہنستے
آں۔ ہاں، سر کامران۔
ہاں۔ کوئی اعتراض ہے تمھیں۔ ؟
نہیں سر، ہی از پرفیکٹ فار دس رول۔

اچھا ثنا میں یہ دیکھ رہا تھا کہ اس پوری کہانی میں ہر کریکٹر بہت خوب صورتی کے ساتھ تم نے کریکٹرائز کیا ہے۔ بڑی خوب صورتی کے ساتھ تم نے اس کے ایموشن کو بنا ہے۔ اور اس کو ریلیٹ کیا ہے کہانی کے ساتھ۔ لیکن کہانی میں ماں کا کریکٹر تو کہیں ہے نہیں۔

سر، وہ کیا تھا کہ آپ کو پتہ ہے کہ میرا نام ثناء ملک ہے۔ اور میں تھوڑی سی ریلیسٹک اپروچ رکھتی ہوں۔ اب جس قسم کی کہانی میں نے لکھی ہے۔ جیسے وہ شروع ہوئی ہے۔ آگے بڑھی ہے۔ اس میں دوسرے کردار جگہ گھیرتے ہی چلے گئے۔ کہانی کی ڈیمانڈ تھی کہ دلہن کا جھکاؤ جس طرف تھا۔ تو ان کرداروں کو سامنے لے کر آنا اور ان کرداروں میں جو جذباتی نزاکتیں، اور بیٹی کی رخصتی کو لے کر رنجشوں کا خاتمہ اور ان سب چیزوں میں لڑکی، لڑکی کا باپ، دولہا، لڑکی کا ددھیال، ننھیالی کزن، ان سب چیزوں نے اتنی جگہ گھیری کہ یہ سب پھیلتے گئے میری اسٹوری کے کینوس پہ کہ مجھے لگا کہ کہ ماں کا کردار کہیں بنتا ہی نہیں۔ کہانی تو ساری مکمل ہے۔ ماں کے بغیر۔

یار تم سمجھ نہیں رہی ہو۔ جب کہانی کو ہم اس انداز سے لے کر چل رہے ہیں کہ یہ محبتوں کی کہانی ہے۔ تو اس میں پھر نہ تو تم نے یہ بتایا کہ ماں مر گئی ہے۔ ماں کو طلاق ہو گئی تھی۔ ماں حج عمرے پہ چلی گئی ہے۔ کسی کے ساتھ بھاگ گئی ہے۔ کیا ہوا کیا نہ ہوا۔ کچھ واضح ہو نہیں رہا۔

جب باقی کے کردار اتنی زیادہ جگہ گھیر رہے ہیں تو ماں کی جگہ بنتی ہی نہیں ہے۔ آپ کو سمجھ کیوں نہیں آتا۔ نہیں بنتی ہے ماں کی جگہ۔ چھوڑیں آپ، اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ ماں کہاں ہے؟ کیوں ہے، کب سے ہے؟ باقی کرداروں سے نظر ہٹے گی تو کسی کو ماں کی سوچ آئے گی ناں کہ مفادات کے اس دور میں ماں یکسر نظر انداز کر دی گئی ہے۔

او رائٹر بی بی بھول رہی ہو ہمارے سماج کو۔ ہمارا سماج سب سے پہلے سوال کرتا ہے کہ لڑکی کی ماں۔ شادی کے وقت دولہا، باراتی، دولہے کے ماں باپ۔ یہ سوال ضرور اٹھاتے ہیں۔ یہ سوال تو ہمارے سماج کا حصہ ہے۔ بھئی سیدھی سی بات ہے کہ ماں کے بغیر اس کہانی میں جھول ہے۔ اس جھول کو ختم کرو اور ماں کا کردار رکھو۔

سر میں ساری دنیا کو بات سمجھا پاؤں۔ لیکن آپ کو کبھی نہیں سمجھا سکتی۔ باقی سارے کردار ماں کے کردار کو اوور شیڈو کر رہے ہیں تو ماں کا کردار ویسے ہی صفر کے برابر ہے۔ تو اس کو بیچ میں کیوں لانا؟

مجھے کچھ نہیں پتہ۔ میں ٹکٹس پر، میں پوسٹرز پر، میں پینا فلکس پر تمھارا ہی نام۔ ماں کا کردار بھی تم ہی لکھو گی اور اسے نبھاؤ گی بھی تم ہی۔ دس سال کے بعد جب پبلک پڑھے گی، ثناء اور کامران ایک ساتھ۔ دوبارہ اسٹیج پہ۔ آئے ہائے ہائے۔ کیا کمال ہو جانا اے۔ او کرسیاں ٹوٹ جانی اے۔ رش پے جانے نے۔ او قتل ہو جانے نیں ٹکٹاں لئی۔ پلیز گل من لے۔

سر آپ کے ساتھ اتنے سال کام کیا ہے۔ آپ نے مجھے کچھ نہ سے کچھ بنایا ہے۔ آپ کو انکار کرنا مشکل ہے۔ میں سوچوں گی۔

ویکھ لئیں کڑئیے۔ جواب مینوں ہاں ایچ چاہی دا۔ بھاویں دو ڈائیلاگ بول۔ پر تینوں اسٹیج تے آنا پئے گا۔ ماں دا رول تے توں ہی کرے گی۔ آئے۔ آئے۔ آئے ہائے ہائے۔ جڈوں سوچداں ناں، کمال ہو جاتا ہے کہ پبلک ایک دفعہ پھر کامران کو اور ثناء کو ایک ساتھ دیکھے گی۔ دس سال کے بعد ۔ پبلک نے تے پاگل ہو جاناں اے۔

کچھ دنوں کے بعد ثناء اسکرپٹ لے کر آتی ہے۔

سر، ماں کے کردار کی بس اتنی ہی گنجائش نکلتی تھی جتنی میں نے نکالی ہے۔ کہ لڑکی کی رخصتی کے وقت، وہ وداعی کے لیے آ جائے گی۔ اس سے زیادہ نہیں ہو سکتا کچھ بھی۔

ہاں، ہاں ٹھیک ہے۔ ٹھیک ہے۔ وداعی کے وقت باپ بھی کھڑا ہو گا وہاں پہ، لڑکی کی دادی بھی کھڑی ہوگی۔ دادی اور ماں مل کر ایک دوسرے کو تسلی دیں گی کہ بچی کو اللہ خیر سے رکھے گا۔ بچی دونوں سے دعا لے گی۔ باپ سے دعا لے گی۔ بھائی سے دعا لے گی اور رخصتی کا سین ہو گا۔ چلو اتنا ہی سہی، بہت ہے۔ اور مجھے یقین ہے کہ تم اتنے میں بھی، اتنا ایموشنل رنگ بھرو گی کہ اس کردار کو برسوں یاد رکھا جائے گا۔

سر، اب نہ تو میں اتنا اچھا لکھتی ہوں۔ نہ اتنی میں اچھی کہانی کار ہوں۔ اور نہ ہی میں اتنی اچھی اداکارہ ہوں۔ آپ مجھے ایسے جھاڑ کے پیڑ پر چڑھا رہے ہیں۔

چلو بھئی، مٹھائی شٹھائی وغیرہ لاؤ بھئی۔ ثنا بی بی مان گئی ہیں۔ ایک تو انھوں نے ماں کا رول بھی ڈالا، ہم پر احسان کیا۔ اور دوسرا احسان کہ وہ اس کردار کو ادا کرنے کے لیے تیار بھی ہو گئی ہیں۔ ثناء تم نے ایسا اس رول کو ادا کرنا ہے کہ ماں اور بیٹی، ان دونوں کی جدائی کا سین جو ہے ناں، لوگوں کو رلا دے۔ ڈائیلاگ نہ بھی بولے تو صرف اپنے ایکسپریشنز کے ساتھ کمال کر دیتی ہے۔ یاد ہے تیرا کام۔ مجھے ابھی تک یاد ہے۔

آخر وہ دن آ ہی جاتا ہے۔ جس دن اس پلے نے تھیٹر میں پرفارم ہونا ہوتا ہے۔ ثناء کسی بھی پریکٹس میں شامل نہیں ہوتی۔ پروڈیوسر بھی نہیں کہتا، ڈائریکٹر بھی نہیں کہتا کہ ثناء پریکٹس کے لیے آئے۔ کیوں کہ ثناء نے خود ہی اپنا کردار لکھا ہے۔ ڈائیلاگز لکھے ہیں اور ثناء نے خود ہی بولنا ہے۔ ثناء اپنے کام میں پرفیکٹ ہے۔ کھیل شروع ہوتا ہے۔ ہر کردار اپنا کردار بڑی خوبی کے ساتھ نبھاتا ہے۔ ہر تین جملوں کے بعد ہال تالیوں سے گونج اٹھتا ہے۔ کہانی میں محبت ہے۔ کہانی میں مزاح ہے۔ کہانی میں خوب صورتی ہی خوب صورتی ہے۔ پھول ہی پھول ہیں۔ خوشبو ہی خوشبو ہے محبت کی۔ آڈینس کے چہرے پر مسکراہٹ ہے۔ باچھیں کھلی ہوئی ہیں۔

ثنا ڈرامے کے لیے تیار ہو رہی ہے۔ تیار ہونے کے دوران وہ کوکین سونگھ رہی ہے۔ ایک مرتبہ پھر ایک فیصلے سے صرف ایک قدم کے فاصلے پر کھڑی ہے۔ آج وہ پھر سے ایک اور روایت کو توڑنے کا سوچ رہی ہے۔ بظاہر ایک سادہ سا کردار اس کی سانسیں لے سکتا ہے۔ ڈائریکٹر گھبرایا ہوا آتا ہے اور پروڈیوسر کو بتاتا ہے کہ آج ثناء کی بیٹی کی بھی شادی ہے۔ اور دونوں ہاتھوں سے اپنا سر تھام کر گویا ہوتا ہے، ”اوہ میرے خدا یہی وجہ ہے کہ ثنا نشے میں خود کو گم کر رہی ہے اور یہ دعوت صرف اس لیے ہے کہ سسرال والے پوچھیں گے کہ ماں کہاں ہے؟ ورنہ یہ کردار اتنا سادہ تھا کہ اونچا کیے بغیر ہی ادا کر لیتی۔ جب اس کا منظر تیار ہو جائے تو اسے اطلاع دے کر دیجئے گا۔

ہدایتکار کی ہدایت کے مطابق بیٹی کے پاس آنا ہے اور روایتی قسم کی نصیحتیں کرنا ہیں۔ آنکھ رو رہی ہوں گی۔ ہونٹ مسکرا رہے ہوں گے۔ اور ڈائریکٹر صاحب کی ہدایات کے مطابق دلہن روانہ ہوگی اور ثناء اپنی ساس کے کندھے سے اپنا سر ٹکا کے، اپنے آپ کو کمپوز کرنے کی کوشش کرے گی۔ لیکن ایسا کچھ نہیں ہوتا۔ ثناء ڈرگز کی وجہ سے ہیلو سینیٹ کر رہی ہے۔ حقیقت اور ڈرامے کے بیچ جھول رہی ہے۔ چہرے گڈمڈ ہو رہے ہیں۔

جس طمطراق سے ثناء چلتی ہوئی آتی ہے۔ اسی طمطراق سے وہ کہتی ہے۔ بیٹا تم میری لکھی ہوئی کہانی ہو۔ میں نے تمھارا کردار اپنی کوکھ میں لکھا ہے۔ میں نے تمھیں جنم دیا ہے۔ لیکن ایک بات یاد رکھنا ایک کہانی کو میں نے جنم دیا تھا۔ وقت بدلے گا، مقام بدلیں گے۔ آج جہاں میں ہوں، کل وہاں تم ہو گی۔ ایک کہانی کو تم بھی جنم دے چکی ہو گی۔ وہ سارے مشکل مرحلے جو میں نے پار کیے، وہ تم بھی پار کرو گی۔ اپنی کوکھ سے ایک کہانی جنو گی کہ یہاں ہر شخص ایک واقعہ ہے، ہر شخص ایک کہانی ہے۔

مگر اتنا خیال رکھنا اس کہانی کا مرکزی خیال تم خود ہو گی۔ کسی کردار کو اتنی جگہ مت دینا کہ تمہارا ہی کردار کہانی میں سے مٹ جائے اور ایسے ہی کسی پروڈیوسر کے کہنے پہ زبردستی ڈالا جائے۔ کہانی کار کہانی کا سب سے بڑا کردار ہوتا ہے۔ بھلے وہ سٹیج پہ نہیں ہوتا پس منظر میں ہوتا ہے۔ مگر کہانی کا مین کردار تخلیق کار ہوتا ہے۔ بس اتنا خیال رہے کہ وہ نہ ہو جو میرے ساتھ میری ہی کہانی کے کرداروں نے کیا۔ جو میرے ہی کعبہ جان پر صحیفے کی صورت اترے تھے۔ دلہن کو کچھ سمجھ نہیں آ رہا، وہ ثنا کی طرف حیرت سے دیکھتی جا رہی ہے۔

ثناء کی یہ حرکت دیکھ کر پروڈیوسر اپنا سر پیٹ رہا ہے کہ ثناء مجھ کو اندازہ بھی نہیں تھا تم اپنی لائنز بھول جاؤ گی۔ تم نے یہ کیا بلنڈر مار دیا۔ اتنے خوب صورت ڈرامے میں۔

اتنے میں ڈائریکٹر کہتا ہے۔ سر، سر خاموش رہیں۔ دیکھیں، ذرا آڈینس کو دیکھیں۔ رسپانس دیکھیں۔ کیسے پن ڈرپ سائلنس ہے۔ سر یہ سپاٹ لائٹ گئی ہے۔ یہ مرد کی آنکھوں میں بھی آنسو ہیں۔ سر ثناء از ڈوئنگ آ فیبولس جاب۔ ثناء نے وہ کام کیا ہے۔ جو ہم سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ وہ یہ کر کے دکھا دے گی۔ آپ چاہتے تھے ناں کہ ڈرامہ ہٹ ہو۔ ارے یہ سپر ڈپر ہٹ ہو رہا ہے۔ آپ کا تو سر نام بن گیا۔ ایک بار پھر ثناء نے ہمارے ڈوبتے ہوئے تھیٹر کو کھڑا کر دیا۔

ڈرگز کے اثر میں کمی آ رہی ہے مگر حواس مضمحل ہیں۔ وہ خود کہانی اور حقیقت کو الگ نہیں کر پا رہی۔ اسی اثنا میں ثناء ساس کے کردار کی طرف مڑتی ہے اور انتہائی طنزیہ انداز میں کہتی ہے کہ ڈائریکٹر صاحب آپ نے انھی خاتون سے مجھے ایموشنل سہارا مانگنے کے لیے کہا تھا ناں، کہ میں نے ان کے کندھے سے سر کو ٹکا لینا ہے اور یہ مجھے ایموشنل سہارا دیں گی۔ یہ مجھے ایموشنل سہارا کیا دیں گی۔ دس برس پہلے یہ تو مجھ پر قہر برپا کر چکی ہیں۔ یہ سہارے چھینتی ہیں یہ کسی کا سہارا کیا بنیں گی۔ آج جو کردار نبھا رہی ہیں اس میں انسانیت اور محبت، سے بھرپور، اسے میرے قلم نے ڈھالا ہے کہ یہی کہانی کی ڈیمانڈ تھی۔

آڈینس کی طرف رخ کرتی ہے اور کہتی ہے۔ کہا تھا پروڈیوسر صاحب آپ کو کہا تھا بار بار کہ ماں کا کردار کہیں نہیں ہے اس کھیل میں آپ نے کہا کہ ”لوگ کیا کہیں گے۔“

، ”یہ جملہ آپ کا کام کروا گیا سر کہانی میں سے جھول نکل گیا ہے بھلے آپ کے ڈرامے کا حلیہ بدل گیا۔ ہال تالیوں سے گونج رہا تھا، اوپر بیٹھا سب سے بڑا تخلیق کار، کہانی کار، اپنے لکھے کردار ثناء پر مسکرا رہا تھا۔ اسی اثنا میں اڈینس میں سے کچھ خواتین و حضرات نعرہ مارتے ہیں We want Sana and Kamran ’s performance، We want Sana and Kamran ’s performance۔

ثنا ترنگ میں آئی ہوئی ہے، جانے اس کے اندر کیا بے چینی ہے؟ کہ وہ سر کو ہلکا سا جھکا کر اقرار کرتی ہے کہ ہاں پرفارمنس ہوگی اور کامران سے جا کے کہتی ہے۔ ”بہت” پر زور دیتے ہوئے ثنا نے کہا کہ کامران صاحب آپ آج بھی بہت اچھی اداکاری کرتے ہیں۔ اور کامران صاحب نے جواباً جملہ کسا،“ ثنا آپ آج بھی اتنی ہی دلکش ہیں ”اڈینس کی فرمائش زور پکڑتی جا رہی ہے پرفارمنس کے لیے۔ کامران سکندر کے پاس خداداد صلاحیت ہے کہ اس کو اچھا گلا ملا ہوا ہے۔

سر میں گاتا ہے۔ اور ثنا تو ویسے ہی اداکارہ ہے۔ کامران سکندر گانا شروع کرتا ہے،“ غم ہے یا خوشی ہے تو۔ مری زندگی ہے تو ”۔ پیچھے سازندے ہلکا ہلکا ساز بجا کر ہمنوائی کرتے ہیں۔ سماں بندھ جاتا ہے۔ اک دوسرے کا ہاتھ تھامے چھوٹے چھوٹے قدموں سے کامران سکندر اور ثنا ملک رقصاں ہیں۔ دس سال کے بعد انہیں اپنے گزرے ہوئے اٹھائیس سال جس میں انہوں نے کئی بہترین ڈراموں میں کپل کے طور پر سامنے آئے تھے۔ سب کچھ ان کے ذہنوں میں فلیش بیک کی صورت چل رہا ہے۔ ایک فلم سی ہے ماضی کی جس میں دونوں کھوئے ہوئے ہیں۔ کامران سکندر گیت ختم کرتا ہے اور ثنا ہڑ بڑا کے اپنا ہاتھ چھڑا لیتی ہے۔

آڈینس کی طرف رخ کرتی ہے اور کہتی ہے۔ کہا تھا، پروڈیوسر صاحب آپ کو کہا تھا بار بار کہ ماں کا کردار کہیں نہیں ہے اس کھیل میں۔

آپ نے کہا کہ ”لوگ کیا کہیں گے،“ یہ جملہ آپ کا کام کروا گیا۔ سر کہانی میں سے جھول نکل گیا ہے بھلے آپ کے ڈرامے کا حلیہ بدل گیا۔ ہال تالیوں سے گونج رہا تھا، اوپر بیٹھا سب سے بڑا تخلیق کار، کہانی کار، اپنے لکھے کردار ثناء پر مسکرا رہا تھا۔ پبلک کے داد آمیز شور ”، کے ذرا تھمنے پر ثناء گویا ہوئی۔

آپ سب مہمانوں کا شکریہ ایک چھوٹے سے کردار پر اتنی پذیرائی بخشنے کا اور اس کے ساتھ ہی میں اعلان کرنا چاہوں گی کہ یہ میری آخری کاوش تھی بطور مہمان اداکارہ۔ ”

پردہ گرتا ہے اور ثناء کسی سے بھی ملے بغیر تھیٹر سے نکل جاتی ہے۔

پروڈیوسر اور ڈائریکٹر دونوں ثنا کو تھیٹر میں ڈھونڈ رہے ہیں لیکن وہ اسے نہیں ڈھونڈ پائے۔ پروڈیوسر ثنا کو فون کرتا ہے لیکن اس کا فون بند ہے۔ وہ بار بار کوشش کرتا ہے۔ اب وہ پریشان ہونے لگا ہے کہ اس کا فون کیوں بند ہے جب وہ اپنی بیٹی کی شادی کی تقریب میں جانا چاہتی تھی۔ پروڈیوسر سوچتا ہے کہ اسے ثناء کے پیچھے جانا چاہیے اور دیکھنا چاہیے کہ وہ ٹھیک محسوس کر رہی ہے یا نہیں کیونکہ وہ اپنے ہوش میں نہیں تھی۔

پروڈیوسر دروازے کی گھنٹی بجاتا ہے۔ ثنا باہر آتی ہے۔ پروڈیوسر پوچھتی ہے تم یہاں کیا کر رہی ہو تمہیں اپنی بیٹی کی شادی پر جانا چاہیے۔ ثناء طنزیہ مسکراہٹ دیتی ہے اور کہتی ہے جناب یہ بچے کب تک ماؤں کو عظمت کے نام پر استعمال کرتے رہیں گے؟ ماں کے بھی کوئی جذبات، کوئی احساسات ہوں گے، کوئی وقار ہو گا۔ ماؤں کو بھی عزت افزائی چاہیے ہو گی۔ کوئی انا ہو گی۔ جب بھی بات ماؤں کو عزت اور حقوق دینے کی ہوتی ہے تو کہتے ہیں کہ والدین اولاد کے مالک نہیں ہوتے ہیں اور جب دنیا کا تقاضا آتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ اوہ تم نے ہمیں جنم دیا ہے اس لیے تمہارا فرض ہے کہ ہے کہ ہماری خواہش کے سامنے جھکے رہو۔

کبھی دیکھا ہے کہ ہمارے پاؤں کتنے زخمی ہیں ہماری اپنی زندگی کے سفر میں اور ان کی پرورش میں، جب میں اکیلے پن اور زندہ رہنے کی جنگ لڑ رہی تھی تب کہاں تھی میری ساری اولاد؟ کیوں اندھے ہو جاتے ہیں جب ہم انہیں اپنے ٹوٹے ہوئے دل دکھاتے ہیں، ان کی لاپرواہی اور بدتمیزی کی وجہ سے۔ ماؤں کے کردار کو معاشرے میں ہمیشہ بچوں کے حوالے سے بلیک میل کیوں کیا جاتا ہے کہ اوہ تم ماں ہو اس لیے تمہیں اپنے بچوں کے لیے اپنی جان مارنی ہے۔

بچے بلیک میل کیوں نہیں کیے جاتے؟ دوسری طرف بچے ہمیں نظر انداز کر کے سامعین کے طور پر آخری کرسی پر بٹھا سکتے ہیں، پھر پیچھے کیا رہ جاتا ہے؟ میرا سوال یہ ہے کہ آج کل جب سب ہی کچھ دنیا داری ہے تو پھر رشتوں کا کیا مطلب ہے؟ صرف دکھاوا کہ لوگ کیا کہیں گے! ماں بیٹی کا رشتہ دنیا کو دکھاوا نہیں ہوتا۔ میں ایک سپر قربانی دینے والی ماں بننے سے انکاری ہوں کہ یہ ہر اولاد کے لئے سبق اور ہر ماں کے لئے میرا یہ قدم عزت سے جینے کی امید بنے گا۔ گویا تم نہیں جا رہی؟

پروڈیوسر نے سوال کیا۔

میں پہلے ہی اسٹیج پر اعلان کر چکی ہوں کہ آج میری زندگی کی یہ آخری گیسٹ اپیئرنس تھی۔

Facebook Comments HS

One thought on “گیسٹ اپیرینس (Guest Appearance)

  • 05/01/2023 at 6:07 شام
    Permalink

    بہت شاندار تحریر

Comments are closed.