نارڈ سٹریم ون: روس نے یورپ جانے والی اہم گیس پائپ لائن بند کر دی
روس میں توانائی کی بڑی سرکاری کمپنی گیزپروم نے کہا ہے کہ آئندہ تین روز تک نارڈ سٹریم ون پائپ لائن کے ذریعے گیس کی سپلائی روکی گئی ہے۔
روس نے پہلے ہی اس پائپ لائن کے ذریعے گیس کی برآمدات بڑے پیمانے پر کم کر رکھی ہیں۔ اس نے ان الزامات کو مسترد کیا ہے کہ یہ توانائی کی برآمدات کو مغربی ممالک کے خلاف جنگ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔
نارڈ سٹریم ون پائپ لائن 1200 کلومیٹر طویل ہے۔ یہ سینٹ پیٹرزبرگ کے قریب روسی ساحل سے شروع ہو کر بحیرۂ بالٹک میں سے گزرتے ہوئے شمال مشرقی جرمنی تک پھیلی ہوئی ہے۔
اسے 2011 میں فعال کیا گیا۔ اس کے ذریعے روزانہ 17 کروڑ کیوبک میٹر گیس روس سے جرمنی بھیجی جاسکتی ہے۔
اس گیس پائپ لائن کو جولائی میں 10 روز کے لیے بند کیا گیا تھا۔ اس دوران بھی روس کا کہنا تھا کہ اسے مرمت کی ضرورت ہے۔ روس کے مطابق اس میں خراب سامان نصب ہونے کی وجہ سے یہ صرف 20 فیصد صلاحیت پر کام کر رہی ہے۔
جرمن نیٹ ورک ریگولیٹر کے صدر کا کہنا ہے کہ ملک اس کا مقابلہ کر سکتا ہے اگر روس آئندہ دنوں میں ترسیل بحال کردے۔ کلاس مولر نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا ہے کہ ’ہم اس سے نمٹ سکتے ہیں۔ مجھے امید ہے روس سنیچر کو 20 فیصد صلاحیت پر واپس آئے گا لیکن کوئی بھی یہ حتمی طور پر نہیں کہہ سکتا۔‘
یورپی رہنماؤں کو ڈر ہے کہ روس اس بندش کو طویل کر سکتا ہے جس سے گیس کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں۔ گذشتہ سال کے دوران قیمتیں میں بڑا اضافہ دیکھا گیا ہے۔
گیس کی قیمتوں میں اضافے سے موسم سرما کے مہینوں میں روزمرہ کے اخرامات میں بڑی مشکل پیدا ہوسکتی ہے۔ اس سے حکومتوں کو ممکنہ طور پر دباؤ کم کرنے کے لیے اربوں ڈالر خرچ کرنا پڑیں گے۔
یہ بھی پڑھیے
یورپ میں گیس کی کمی،روس گیس جلا کر ضائع کر رہا ہے
روس یوکرین جنگ: تباہی، اموات اور غیر یقینی کے سائے میں گزرے چھ ماہ
یوکرین جنگ: روسی صدر پوتن کا اگلا قدم کیا ہو سکتا ہے؟
منگل کو فرانس میں انرجی ٹرانزیشن کی وزیر نے روس پر گیس کو ’جنگ کے ہتھیار‘ کے طور پر استعمال کرنے کا الزام لگایا تھا۔ وہ گیزپروم کی جانب سے فرانسیسی کمپنی اینجی کو گیس کی سپلائی بند کرنے کے فیصلے پر ردعمل دے رہی تھیں۔
تاہم روسی صدر ولادیمیر پوتن کے ترجمان نے ان الزامات کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ مغربی پابندیوں سے روس کے انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا ہے۔
ان کے مطابق پابندیوں کے بعد ’تکنیکی خرابیوں‘ کی وجہ سے پائپ لائن کے ذریعے گیس کی سپلائی میں رکاوٹ آئی ہے۔ تاہم انھوں نے مزید وضاحت نہیں کی کہ پائپ لائن میں کون سی تکنیکی خرابی ہوئی ہے۔
جرمنی میں ایک ٹربائن کی آمد پر تنازع ہوا ہے جس کی کینیڈا میں مرمت کی گئی تھی۔ روس نے اسے واپس لینے سے انکار کرتے ہوئے مغربی پابندیوں کا حوالہ دیا ہے۔ ادھر جرمنی نے اس کی تردید کی ہے۔
رواں ماہ کے اوائل میں معیشت کے وزیر رابرٹ ہابک نے کہا کہ پائپ لائن مکمل طور پر فعال ہے اور روس کے دعوؤں کے برعکس اس میں کوئی تکنیکی مسائل نہیں۔
رواں ہفتے کے اوائل میں یورپی یونین کی کمیشن کی صدر ارسلا وون در لیئن نے انرجی مارکیٹ میں مداخلت کا وعدہ کیا ہے۔ انھوں نے سلووانیا میں ایک کانفرنس کے دوران بتایا تھا کہ وہ ’اس مقصد کے لیے ناکافی ہیں۔‘
انھوں نے کہا تھا کہ ’ہمیں بجلی کے لیے نئے مارکیٹ ماڈل کی ضرورت ہے اور اس سے ہم توازن میں واپسی کرسکیں گے۔‘
جنگ سے قبل جرمنی نے نارڈ سٹریم ٹو پائپ لائن کے لیے 10 ارب یورو کی منظوری دی تھی۔ یہ نارڈ سٹریم ون کے ساتھ چلتی ہے۔ تاہم فروری میں روس کی جانب سے یوکرین میں دستے بھیجنے کے بعد سے اس پر کام معطل ہے۔
گذشتہ ہفتے بی بی سی کو معلوم ہوا تھا کہ روس قریب ایک کروڑ ڈالی کی لاگت کی گیس ہر روز فن لینڈ کی سرحد کے قریب ایک پلانٹ میں ضائع کر رہا ہے۔


