توہینِ عدالت کے مقدمے میں پی ٹی آئی کے سربراہ نے کمرۂ عدالت میں آتے ہی کہا کہ ’میں عمران خان ہوں دہشت گرد نہیں‘


عمران خان
سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے خلاف توہین عدالت کے مقدمے میں اظہار وجوہ کے نوٹس کی سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ میں بدھ کو دوپہر ڈھائی بجے شروع ہونا تھی لیکن دن کے اغآز سے ہی اسلام آباد ہائی کورٹ کے ارد گرد کرفیو کا سا سماں ہے۔

اسلام آباد پولیس کے علاوہ ایف سی اور رینجرز کے اہلکاروں کو صبح چھے بجے ہی تعینات کرنے کے علاوہ اس علاقے میں موجود تمام دوکانوں کو بند کروا دیا گیا تھا۔

سابق وزیر اعظم عمران خان جب کمرہ عدالت میں آئے تو اپنی نشست پر بیٹھنے سے پہلے کمرہ عدالت میں موجود اعظم سواتی سے استفسار کیا کہ اتنی سکیورٹی کیوں ہیں اور کیوں چیف جسٹس کی عدالت کے باہر قناتیں لگائی گئی ہیں اس پر شاہ محمود قریشی نے طنزیہ انداز میں کہا کہ لگتا ہے کہ ’کسی دہشت گرد نے عدالت میں آنا تھا۔‘

عمران خان نے کرسی پر بیٹھتے ہوئے مسکراتے انداز میں جواب دیا کہ ’میں عمران خان ہوں دہشت گرد نہیں۔‘

عمران خان جب اپنی کرسی پر براجمان ہوئے تو کمرہ عدالت میں موجود صحافیوں نے ان پر سولوں کی بوچھاڑ کر دی۔ جب ایک صحافی نے عمران خان سے سوال کیا کہ جب آپ کو معلوم تھا کہ شہباز گل پر مبینہ تشدد کا معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے تو پھر آپ نے ایڈیشنل سیشن جج کو کیوں دھمکیاں دی جس پر عمران خان کا کہنا تھا کہ انھوں نے لیگل ایکشن لینے کی بات کی تھی اس سے پہلے کہ عمران خا ن اس بارے میں مزید بات کرتے شاہ محمود قریشی نے صحافیوں کو یہ کہہ کر منع کر دیا کہ وہ یہ باتیں میڈیا پر لگا دیں گے اور اس طرح کی گفتگو سے توہین عدالت کے مقدمے کی سماعت کرنے والے ججز اپنا ذہن بنا لیں گے اس لیے عمران خان عدالتی سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کریں گے۔

توہین عدالت سے متعلق مقدمے کی سماعت کے دوران سینیئر وکیل حامد خان عدالت میں پیش ہوئے اور یہ پہلا موقع ہے کہ وزیر اعظم کے عہدے سے فارغ ہونے کے بعد عمران خان اور حامد خان کے درمیان تعلقات بحال ہوئے ہے۔ اس سے پہلے حامد خان پی ٹی آئی کے نظریاتی کارکنوں کے ساتھ تھے اور وہ عمران خان کی پالیسیوں سے اختلاف کرتے تھے۔

سماعت کے دوران جب حامد خان دلائل دے رہے تھے تو عمران خان کے ہاتھوں کی انگلیاں ہاتھ میں پکڑی ہوئی تسبیح کے دانوں پر تھیں لیکن جونہی اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے بنچ سے گفتگو شروع کی تو عمران خان تسبیح کو انگلیوں میں گھمانا شروع کر دیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ

عمران خان کی عدالت میں پیشی کے وقت سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے عمران خان کی طرف سے جمع کروائے گئے جواب پر افسوس کا اظہار کیا اور یہ ریمارکس دیے کہ بہتر ہوتا کہ عمران خان اسلام آباد ہائی کورٹ میں آنے سے پہلے ایڈیشنل سیشن جج کے پاس جاکر معذرت کرتے جس کو انھوں نے دھمکی دی تھی۔ چیف جسٹس کے ریمارکس پر عمران خان نے متعدد بار نفی میں سر ہلایا۔

یہ بھی پڑھیئے

عمران خان کے معافی مانگنے پر توہینِ عدالت کی کارروائی ختم

تحریک انصاف کی ’ریڈ لائن‘ عمران خان گرفتار ہوئے تو پارٹی کیا کرے گی؟

کیا عمران خان کی تقاریر روکنے کے لیے ’انٹرنیٹ تھروٹلنگ‘ کا استعمال کیا جا رہا ہے؟

عدالت نے عمران خان کے جواب کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے انھیں سات روز میں تفصیلی جواب جمع کروانے کا حکم دیا اور اس کے ساتھ ساتھ عدالت کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کے سامنے سپریم کورٹ کے توہین عدالت کے فیصلے بھی موجود ہیں جن میں لوگوں کو سزا سنائی گئی اور اسلام آباد ہائی کورٹ سپریم کورٹ کے ان فیصلوں کی پابند ہے۔

چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ اسی عدالت نے پیکا آرڈیننس کو کالعدم قرار دیا تھا تو اسد عمر نے، جو کہ عمران خان کی پچھلی نشست پر بیٹھے تھے، عمران خان کے کان کے قریب آکر کہا کہ عدالت اس قانون کی بات کر رہی ہے جو کہ ان کے دور حکومت میں بنایا گیا تھا۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس کی طرف سے یہ ریمارکس آئے کہ عدالت توہین عدالت کے معاملے کو شفاف انداز میں چلانا چاہتی ہے اس لیے انھیں عدالتی معاون درکار ہیں۔ پی ٹی آئی کے چیئرمین کے وکیل حامد خان نے جب سابق اٹارنی جنرل منیر اے ملک کا نام لیا تو اس پر عمران خان نے اپنی سیٹ پر بیٹھے ہوئے اونچی آواز میں کہا کہ اعتزاز احسن کو بھی رکھ لیں۔

سماعت کے دوران اسلام آباد کے ایڈووکیٹ جنرل جہانگیر جدون نے بینچ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ عدالت کے نوٹس میں کچھ شواہد لے کر آنا چاہتے ہیں تو اس پر چیف جسٹس نے انھیں ٹوکتے ہوئے کہا کہ توہین عدالت کا معاملہ عدالت اور عمران خان کے درمیان ہے اس لیے انھیں بولنے کی اجازت نہیں ہے۔

ایڈووکیٹ جنرل کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ چیف جسٹس کو معافی مانگنی چاہیے۔ اس پر چیف جسٹس نے جواب دیا کہ وہ ہمیں بےشک نتقید کا نشانہ بناتے رہیں ہم اس کا برا نہیں مانیں گے۔

عمران خان کے وکیل حامد خان کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت فواد چوہدری کے ان بیانات سے لاتعقلی کا اظہار کرتی ہے اور فواد چوہدری سے اچھے کی امید بھی نہیں رکھنی چاہیئے۔ حامد خان کا یہ بیان سن کر عمران خان کمرہ عدالت میں مسکرانے لگے۔

Facebook Comments HS

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33851 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp